کوٹلی آزاد کشمیر میں وفاقی محتسب کے افسران کی جانب سے منعقدہ کھلی کچہری میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جہاں مختلف سرکاری اداروں کے خلاف شکایات پیش کی گئیں۔ اس دوران ایک حیران کن معاملہ سامنے آیا کہ ریٹائرڈ حوالدار محمد صدیق کو سرکاری ریکارڈ میں مردہ قرار دے کر ان کی پینشن 18 ماہ سے روک دی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں:مرحوم ماں کا روپ دھار کر اسی کی پنشن وصول کرنے والا بہروپیا پکڑا گیا
ریٹائرڈ حوالدار نے بتایا کہ ان کی پینشن ’غلط بیوہ‘ کو دی جا رہی ہے جس سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس زیادتی کا فوری نوٹس لیا جائے۔
وفاقی محتسب کے افسران نے کنٹرولر ملٹری اکاؤنٹس کے خلاف شکایات پر فوری ایکشن کی ہدایات جاری کر دیں، جبکہ متعدد شکایات موقع پر ہی نمٹا دی گئیں۔ کھلی کچہری میں HEC، پے اینڈ لاؤنسز (PLI)، CMA، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام، پاکستان پوسٹ، قومی بچت، زرعی ترقیاتی بینک اور دیگر سرکاری محکموں کے خلاف بھی متعدد درخواستیں موصول ہوئیں۔

وفاقی محتسب کے نمائندوں نے بتایا کہ ہر شکایت کا فیصلہ 60 دن کے اندر کرنا لازمی ہے۔ گزشتہ سال 2 لاکھ 23 ہزار مقدمات نمٹائے گئے تھے، جب کہ اس سال شکایات کی تعداد ڈھائی لاکھ سے تجاوز کرنے کا امکان ہے۔
افسران نے کھلی کچہری میں شہریوں کو آگاہی لیکچر بھی دیا اور انہیں سادہ کاغذ پر درخواست دینے سمیت شکایات درج کروانے کا مکمل طریقہ کار سمجھایا۔














