فیض حمید اور عمران خان کا گٹھ جوڑ سامنے آچکا، بیرسٹر عقیل

جمعہ 12 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیرِ مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا ہے کہ کورٹ مارشل کے ذریعے سزا پانے والے فیض حمید کا سابق وزیراعظم عمران خان کے ساتھ گٹھ جوڑ سامنے آچکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فیض حمید کو سزا، اگلا کون؟ عمران خان سے متعلق بڑی پیشگوئی

نجی ٹی وی پر گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر عقیل نے کہا کہ 9 مئی کو اداروں کو ٹارگٹ کر کے ان پر حملہ کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ فیض حمید اور عمران خان کی ملکی بھگت اب سامنے آچکی ہے۔

مزید پڑھیے: ’قوم برسوں ان کے بوئے بیجوں کی فصل کاٹے گی‘، خواجہ آصف کا سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید پر ردعمل

بیرسٹر عقیل نے کہا کہ جیل منتقلی ایک روٹین کا معاملہ ہوتا ہے تاہم فی الحال عمران خان کو اڈیالہ سے کسی اور قیدخانے منتقل کرنے کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔

وزیر قانون کا کہنا تھا کہ اڈیالہ جیل کے باہر پی ٹی آئی کے احتجاج کے سلسلوں سے عوم کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔

مزید پڑھیں: آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی ثابت،جنرل فیض حمید کو 14 سال قید بامشقت کی سزا سنا دی گئی، آئی ایس پی آر

بیرسٹر عقیل نے کہا کہ سیکیورٹی صورتحال کو دیکھتے ہوئے اڈیالہ جیل سے باہر ہر ضروری اقدام کیا جائے گا،

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سپریم لیڈر کے خلاف کسی بھی حملے کو اعلان جنگ سمجھا جائےگا، ایرانی صدر نے خبردار کردیا

غزہ امن بورڈ میں شمولیت کے لیے ایک ارب ڈالر دینا ہوں گے، ٹرمپ انتظامیہ نے 60 ممالک کو چارٹر بھیج دیا

اسرائیلی وزیراعظم نے غزہ ایڈوائزری پینل کی تشکیل پر اعتراض اٹھا دیا

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے شامی صدر کا ٹیلیفونک رابطہ، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال

کراچی گل پلازہ آتشزدگی: صدر زرداری کی وزیراعلیٰ سندھ کو تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت

ویڈیو

کراچی: گل پلازہ میں لگنے والی آگ پر دوسرے روز بھی قابو نہ پایا جا سکا، 6 افراد جاں بحق، عمارت کے کئی حصے منہدم

مردان جیل کے قیدی ہنر سیکھنے کے ساتھ ساتھ کمائی بھی کرنے لگے، مگر کیسے؟

کشمیری وازوان، ذائقوں کی روایت اور تاریخ

کالم / تجزیہ

منٹو کا ہم راہی

مصدق سے مادورو تک

یہ اظہارِ رائے نہیں، یہ سائبر وار ہے