مصنوعی ذہانت: کون سی نوکریاں ختم اور کون سی جنم لے رہی ہیں؟

پیر 15 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا تیزی سے بڑھتا ہوا استعمال ملازمتوں کے مستقبل کے بارے میں نئی بحث چھیڑ چکا ہے۔

مختلف شعبوں میں مشینیں انسانی محنت کی جگہ لے رہی ہیں، جس کے باعث قریباً ہر میدانِ عمل سے تعلق رکھنے والے ملازمین شدید تشویش کا شکار ہیں۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ متعدد روایتی پیشے تیزی سے اے آئی کی نذر ہوتے جا رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: ایکس اے آئی میں ڈاؤن سائزنگ، 500 سے زیادہ ملازمین نوکری سے فارغ

واضح رہے کہ ورلڈ اکنامک فورم کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق 2030 تک دنیا بھر میں 92 ملین ملازمتیں ختم ہو جائیں گی، جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مستقبل میں کام کرنے والے افراد کی ایک بڑی تعداد متاثر ہو سکتی ہے۔

تاہم اسی رپورٹ میں یہ پیش گوئی بھی کی گئی ہے کہ ٹیکنالوجی کی بدولت 170 ملین نئی ملازمتیں بھی پیدا ہوں گی، اور اسی لیے بڑی کمپنیاں اس سمت میں تیزی سے سرمایہ کاری کررہی ہیں۔

’کچھ پیشے ایسے ہیں جنہیں مکمل طور پر خودکار بنانا ممکن نہیں‘

ادھر ماہرین کا کہنا ہے کہ کچھ پیشے ایسے ہیں جنہیں مکمل طور پر خودکار بنانا ممکن نہیں۔ وہ شعبے جہاں انسان کا براہِ راست تعلق، جذباتی سمجھ بوجھ اور پیچیدہ فیصلہ سازی ضروری ہوتی ہے، مستقبل میں بھی نسبتاً محفوظ رہیں گے۔

ان میں تعلیم، طب، نرسنگ، سوشل ورک، نفسیاتی علاج، تحقیق، پالیسی سازی اور قانون جیسے شعبے شامل ہیں۔

اسی کے ساتھ ساتھ ہنرمند فنی پیشے جیسا کہ الیکٹریشن، مکینک اور پلمبر بھی محفوظ تصور کیے جا رہے ہیں، کیونکہ ان میں عملی تجربہ، فوری مسئلہ فہمی اور ہاتھ سے ہونے والے کام کی اہمیت بنیادی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ تمام عوامل ابھی کسی مشین کے بس کی بات نہیں۔

دوسری جانب اے آئی نے نئے شعبوں میں ملازمتوں کے دروازے بھی کھول دیے ہیں۔

آنے والے وقت میں کونسی نئی نوکریاں پیدا ہوں گی؟

ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق آنے والے برسوں میں اے آئی ماڈل ٹرینر، ڈیٹا سائنس ماہر، پرامپٹ انجینیئر، روبوٹکس ٹیکنیشن اور اے آئی سیکیورٹی ایکسپرٹ جیسے عہدوں کی مانگ میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

’اسی طرح ڈیجیٹل ایتھکس کنسلٹنٹ، ورچوئل ماحول کے ڈیزائنر، خودکار گاڑیوں کے آپریٹرز اور ڈیجیٹل ہیلتھ اسسٹنٹ جیسے کردار بھی سامنے آ رہے ہیں، جو انسان اور ٹیکنالوجی کے درمیان پل کا کام کریں گے۔‘

مصنوعی ذہانت کے ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اب لوگوں کو نئے ہنر سیکھنے کی ضرورت ہے، بالکل ویسے ہی جیسے ماضی میں آفس سافٹ ویئر سیکھنا ناگزیر تھا۔

امریکا اور برطانیہ میں ہونے والی 2 مختلف اسٹڈیز کے مطابق اے آئی کی بدولت یہ بھی ممکن ہے کہ 2033 تک لاکھوں ملازمین صرف 4 دن کام کریں۔

’اے آئی کچھ روایتی ملازمتوں کو محدود کرے گی‘

اگرچہ اے آئی کچھ روایتی ملازمتوں کو محدود کرے گی، جیسے ڈیٹا انٹری، بنیادی کسٹمر سروس، سادہ تحریری کام اور دفتری ڈیوٹیز تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ان شعبوں میں کام کرنے والے افراد مکمل طور پر بے روزگار نہیں ہوں گے، بشرطیکہ وہ نئی مہارتیں سیکھ کر ٹیکنالوجی کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کریں۔

دنیا بھر میں نوجوانوں کو ڈیجیٹل مہارتوں، کوڈنگ اور تخلیقی سوچ کی تربیت دینے پر زور بڑھ رہا ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان ’اے آئی‘ کے میدان میں آگے بڑھنے لگا، نوجوان ماہرین اور اسٹارٹ اپس کے لیے بے شمار مواقع

ٹیک ماہرین کے مطابق اے آئی انسان کی جگہ لینے نہیں، بلکہ اس کی صلاحیتوں کو بڑھانے آئی ہے۔ ادارے جو اس ٹیکنالوجی کو خطرہ سمجھنے کے بجائے موقع سمجھ کر اپنائیں گے۔ وہ مستقبل میں زیادہ کامیاب ثابت ہوں گے۔

پاکستان سمیت کئی ممالک میں نوجوانوں کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ مستقبل کی ملازمتیں ڈگری سے زیادہ مستقل سیکھنے، مہارتیں بڑھانے اور ٹیکنالوجی کو سمجھنے کی صلاحیت پر منحصر ہوں گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

خیبرپختونخوا کے بالائی علاقوں میں شدید برف باری، گلیات اور دیگر سڑکیں جزوی طور پر بند

اسکول اب بچوں کو کتابیں اور یونیفارم من پسند دکانوں سے خریدنے پر مجبور نہیں کرسکیں گے، پنجاب حکومت نے تاکید کردی

ایمیزون میں مزید 14 ہزار کارپوریٹ ملازمین کی چھٹی متوقع

بلوچستان کے برفباری سے متاثرہ علاقوں میں پی ڈی ایم اے کا ریسکیو آپریشن مکمل

محفوظ بسنت کا عزم: مریم نواز کا موٹر سائیکل سواروں کو سیفٹی راڈز مفت فراہم کرنے کا اعلان

ویڈیو

کوئٹہ اور بالائی علاقوں میں برفباری کے بعد سیاحتی مقامات پر سیاحوں کی سرگرمیوں میں اضافہ

چکوال کی سائرہ امجد کا منفرد آرٹ: اسٹیل وول اور ایکرلیک سے فطرت کی عکاسی

وی ایکسکلوسیو: پی ٹی آئی دہشتگردوں کا سیاسی ونگ ہے اسی لیے اس پر حملے نہیں ہوتے، ثمر بلور

کالم / تجزیہ

کیمرے کا نشہ

امریکی خطرناک ہتھیار جس نے دیگر سپرپاورز کو ہلا دیاٖ

گل پلازہ کی آگ سے بننے والے دائرے