خیبر پختونخوا میں بھی افغان باشندوں کی واپسی کے لیے کارروائیاں شروع، کیا کے پی حکومت وفاق کے ساتھ تعاون پر آمادہ ہو گئی؟

پیر 15 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

’تقریباً رات 2 بجے کے قریب پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تلاشی شروع کی اور ایسے افراد کو گرفتار کرنا شروع کیا جن کے پاس پاکستانی شناختی کارڈ موجود نہیں تھا۔ یہ کارروائی کئی گھنٹے جاری رہی، اس دوران درجنوں افراد گرفتار ہوئے۔‘

یہ کہنا تھا پشاور کے ڈبگری کے رہائشی سہیل خان کا۔ سہیل خان پشاور میں چپل بنانے والی دکان میں کاریگر ہیں۔ ان کے مطابق پولیس نے گزشتہ رات ان کے کئی افغان پڑوسیوں کو گرفتار کیا، جبکہ بعض چھپنے میں کامیاب ہو گئے۔ سہیل خان نے بتایا کہ پولیس ٹیموں نے اُن گھروں پر چھاپے مارے جن میں افغان باشندے رہائش پذیر تھے۔ سہیل کے ساتھ دکان میں کام کرنے والے متعدد افغان کاریگر بھی گرفتاری کے خدشے کے باعث غائب ہوگئے ہیں۔

’ہماری دکان میں افغان کاریگر کام کرتے ہیں، لیکن اب وہ سب روپوش ہیں۔‘

سہیل خان نے بتایا کہ پولیس نے واضح طور پر کہا ہے کہ جن افغان باشندوں کے پاس قانونی دستاویزات نہیں ہیں وہ رضاکارانہ طور پر واپس چلے جائیں۔ پولیس نے اس عمل کو تیز کرنے کے لیے باقاعدہ کارروائیاں بھی شروع کر دی ہیں۔

محکمہ داخلہ خیبر پختونخوا نے کیا ہدایت دی ہے؟

وفاقی حکومت کی جانب سے افغان باشندوں کی واپسی اور ان کی رہائش میں مزید توسیع نہ دینے کے فیصلے کے بعد پنجاب اور سندھ میں واپسی کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ تاہم خیبر پختونخوا میں یہ عمل کافی سست روی کا شکار تھا اور پولیس کی جانب سے کوئی واضح کارروائی نہیں ہو رہی تھی۔ اب گزشتہ ہفتے سے افغان باشندوں کے خلاف کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں، جو حکام کے مطابق محکمہ داخلہ خیبر پختونخوا کی ہدایات کے بعد ممکن ہوئی ہیں۔

محکمہ داخلہ و قبائلی امور کی دستاویزات کے مطابق گزشتہ ہفتے ایڈیشنل چیف سیکریٹری کی سربراہی میں افغان باشندوں کی واپسی سے متعلق اجلاس ہوا۔ اجلاس میں واپسی کے عمل کو سست قرار دیتے ہوئے برہمی کا اظہار کیا گیا۔ محکمہ داخلہ نے پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کو بتایا کہ وفاقی حکومت کی واضح ہدایات ہیں کہ مہاجرین کیمپ ختم کیے جائیں اور افغان باشندوں کی جلد واپسی یقینی بنائی جائے۔

یہ بھی پڑھیے افغان مہاجرین کی باعزت واپسی، اپنی سرزمین ایک دوسرے کیخلاف استعمال نہیں ہونے دینگے، پاکستان افغانستان کا اتفاق

محکمہ داخلہ نے ہدایت کی کہ افغان باشندوں کا ڈیٹا پولیس کو فراہم کیا جائے تاکہ کارروائیاں شروع کی جا سکیں۔ اجلاس میں پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو کرایے کے گھروں میں رہنے والے افغان باشندوں کے خلاف کارروائیاں شروع کرنے کے احکامات بھی دیے گئے۔

محکمہ داخلہ کی ہدایات کے بعد پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں نے باقاعدہ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق مختلف علاقوں میں ٹیمیں کام کر رہی ہیں اور افغان باشندوں کو جلد واپسی سے متعلق آگاہ کیا جا رہا ہے۔

کیا صوبائی حکومت نے کارروائی کی اجازت دی ہے؟

پشاور پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پولیس اور دیگر ادارے افغان باشندوں کے خلاف کارروائی کے لیے تیار تھے، مگر خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کارروائی کے حق میں نہیں تھی، جس کی وجہ سے انخلا کا عمل سست روی کا شکار تھا۔

ان کے مطابق پشاور میں واپسی کا عمل نہ ہونے کے برابر تھا، جبکہ دیگر اضلاع مثلاً چترال اپر و لوئر، مانسہرہ، ہزارہ سے کچھ حد تک افغان باشندوں کی واپسی جاری تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ پشاور میں بدستور مہاجر کیمپس قائم ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومت کی اجازت کے بغیر پولیس کوئی کارروائی نہیں کر سکتی۔ اب محکمہ داخلہ و قبائلی امور کی باقاعدہ ہدایات موصول ہو چکی ہیں، جس کے بعد مختلف ٹیمیں تشکیل دے کر کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔

افسر کے مطابق صوبائی حکومت افغان باشندوں کی زبردستی واپسی کی مخالف ہے۔ وہ صرف رضاکارانہ واپسی پر زور دے رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں کیا پاکستان اور افغانستان کے درمیان معاملات بہتری کی طرف گامزن ہیں؟

’ایک میٹنگ میں سہیل آفریدی نے واضح طور پر کہا تھا کہ افغانوں کی واپسی وفاق کا فیصلہ ہے، صوبہ اس کی مخالفت نہیں کر سکتا، تاہم واپسی باعزت اور رضاکارانہ ہونی چاہیے۔‘

انہوں نے بتایا کہ پنجاب سے تقریباً تمام افغان باشندے واپس جا چکے ہیں جبکہ بعض  خاندان خیبر پختونخوا منتقل ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق پشاور اور دیگر اضلاع میں کارروائیاں نہ ہونے کے باعث افغان باشندے ان علاقوں میں رہائش کو ترجیح دے رہے ہیں، جس کی وجہ سے پشاور میں ان کی تعداد زیادہ ہے۔

افسر کے مطابق اب کارروائیاں شروع ہو چکی ہیں اور حکومتی احکامات اور مہلت کے باوجود واپس نہ جانے والوں کو گرفتار کرکے ملک بدر کیا جائے گا۔

اب تک کتنے افغان باشندے واپس گئے ہیں؟

محکمہ داخلہ و قبائلی امور کے مطابق افغان باشندوں کی واپسی کا عمل جاری ہے، جو پاک افغان جھڑپ کے بعد سرحد بندش کے باعث بھی متاثر ہوا۔ حکام کے مطابق اب سرحد کھلنے کے بعد واپسی بحال ہو گئی ہے مگر یہ عمل اب بھی سست ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 9 دسمبر کو 1600 سے زائد افغان باشندے واپس گئے، جو سرحد بندش سے پہلے کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پولیس کارروائیاں تیز ہونے سے اب واپسی کے عمل میں بھی تیزی آئے گی۔

یہ بھی پڑھیے غیر قانونی مقیم افغان مہاجرین کی وطن واپسی، کیا اہداف حاصل ہو گئے؟

محکمہ داخلہ کی رپورٹ کے مطابق اب تک 9 لاکھ سے زائد افغان باشندے اپنے ملک واپس جا چکے ہیں۔ واپس جانے والوں کی سہولت کے لیے ضلع خیبر میں کیمپ قائم ہے، جبکہ دیگر اضلاع سے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ٹرانسپورٹ بھی فراہم کی جا رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاک افغان کشیدگی کے باعث اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، انڈیکس 3 ہزار سے زائد پوائنٹس گرگیا

ایران نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک بار پھر ثالثی کی پیشکش کردی

افغان طالبان نے متعدد پوسٹوں پر سفید پرچم لہرا کر امن کی بھیک مانگ لی

جدہ میں اہم سفارتی سرگرمیاں، بنگلہ دیشی وزیر خارجہ کی کلیدی ملاقاتیں

سعودی عرب کا غزہ میں قائم کچن، روزانہ 36 ہزار خاندانوں کو کھانا فراہم کرے گا

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشان غضب للحق، کابل سے قندھار تک افغان طالبان کے خلاف کامیاب پاکستانی کارروائی، عالمی طاقتوں کی کشیدگی کم کرنے کی اپیل

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟