پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز نے اس خبر کی سختی سے تردید کی ہے کہ کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں پی آئی اے کی ایک پرواز کا پورا عملہ لاپتا ہو گیا ہے۔
قومی ایئرلائن نے اس خبر کو ’جعلی‘ قرار دیتے ہوئے اسے ’پاکستان مخالف عناصر‘ کی جانب سے پھیلایا گیا پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی آئی اے کا طیارہ ایک ہفتے میں دوسری بار گراؤنڈ کردیا گیا
پی آئی اے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پرجاری بیان میں کہا کہ بعض پاکستان مخالف حلقوں کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پی آئی اے کی ایک مخصوص پرواز کا مکمل عملہ لاپتا ہے، جو سراسر بے بنیاد ہے۔
A tweet, circulated by certain anti-Pakistan quarters, claiming that whole crew of a particular #PIA flight is missing, is entirely baseless.
Purpose of this tweet seems to malign PIA and #Pakistan 🇵🇰
There has been no such incidence, and the news is fake.
— PIA (@Official_PIA) December 14, 2025
بیان میں کہا گیا کہ اس جھوٹی خبر کا مقصد پی آئی اے اور پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔ ’ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا اور یہ خبر مکمل طور پر جھوٹی ہے۔‘
ادھر پی آئی اے کے ترجمان نے ایک علیحدہ بیان میں بھی اس خبر کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ گمراہ کن معلومات ایک افغان اور پاکستان مخالف اکاؤنٹ کے ذریعے پھیلائی گئی ہیں۔
مزید پڑھیں: پی آئی اے کا طیارہ ایک ہفتے میں دوسری بار گراؤنڈ کردیا گیا
ترجمان کے مطابق یہ گمراہ کن ٹویٹ پاکستان کے خلاف دشمنی پر مبنی ایک منظم منصوبے کا حصہ ہے، جس کا مقصد قومی ایئرلائن اور ملک کی بدنامی کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس خبر میں کوئی صداقت نہیں۔
واضح رہے کہ ماضی میں بھی کینیڈا، خصوصاً ٹورنٹو میں پی آئی اے کے عملے کے لاپتا ہونے کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: پی آئی اے میں ایک طیارے کے لیے 304 ملازمین کی تعیناتی کا انکشاف
21 نومبر کو پی آئی اے کے ایک فلائٹ اٹینڈنٹ کے کینیڈا میں لاپتا ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں، جس کے بعد ایئرلائن نے اس معاملے کی تحقیقات شروع کیں۔ پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ حفیظ خان کے مطابق مذکورہ فلائٹ اٹینڈنٹ نے ٹورنٹو سے لاہور جانے والی پرواز پی کے-798 پر رپورٹ نہیں کیا۔
ترجمان کے مطابق جب اس سے رابطہ کیا گیا تو اس نے خراب صحت کا بہانہ بنایا، انہوں نے کہا کہ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور اگر غیر قانونی طور پر لاپتا ہونے کی تصدیق ہوئی تو متعلقہ فلائٹ اٹینڈنٹ کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔
مزید پڑھیں: کیا پی آئی اے کا طیارہ واقعی غلطی سے پشاور کے بجائے کراچی میں لینڈ ہوا؟
گزشتہ برس اکتوبر میں بھی پی آئی اے کے کیبن کریو کا ایک رکن دورانِ ڈیوٹی لاپتا ہو گیا تھا، اسلام آباد میں تعینات یہ عملہ ٹورنٹو میں قیام کے دوران غائب ہو گیا تھا۔
اسی طرح مارچ 2024 میں 47 سالہ پی آئی اے اسٹیورڈ کے کینیڈا میں لاپتا ہونے کی اطلاع ملی تھی۔
فروری 2024 میں بھی ایئرلائن کے کیبن کریو کے ایک اور رکن کے لاپتا ہونے کی رپورٹ سامنے آئی تھی، مذکورہ رکن اسلام آباد سے پی آئی اے کی پرواز پی کے-782 کے ذریعے ٹورنٹو پہنچے تھے، تاہم واپسی کی پرواز پی کے-784 پر انہوں نے ڈیوٹی کے لیے رپورٹ نہیں کیا۔














