پاکستان کے آٹو موٹیو شعبے میں طویل وقفے کے بعد بحالی کے واضح آثار سامنے آ رہے ہیں اور آٹو فنانسنگ 33 ماہ کی بلند ترین سطح تک پہنچ چکی ہے۔
ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق نومبر 2025 میں آٹو فنانسنگ کا حجم بڑھ کر 318 ارب روپے ہو گیا جو نومبر 2024 میں 235 ارب روپے تھا۔ یوں اس میں سالانہ بنیادوں پر 36 فیصد جبکہ ماہانہ بنیادوں پر ایک فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ تاہم موجودہ سطح اب بھی جون 2022 میں ریکارڈ ہونے والے 368 ارب روپے کے تاریخی بلند ترین حجم سے 14 فیصد کم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہونڈا کی پسندیدہ گاڑی خریدنا اب ہر کسی کے لیے ممکن، مگر کیسے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ آٹو فنانسنگ میں اس اضافے کی بنیادی وجہ شرحِ سود میں نمایاں کمی اور اس کا استحکام ہے۔ ٹریڈنگ اکنامکس کے مطابق مئی 2025 سے دسمبر کے وسط تک شرحِ سود 11 فیصد پر برقرار رہی جس سے صارفین کے اعتماد میں اضافہ ہوا اور گاڑیوں کی خریداری کو تقویت ملی۔
اگرچہ مقامی سطح پر آٹو موٹیو مارکیٹ میں سرگرمیاں تیز ہوئی ہیں تاہم غیر ملکی سرمایہ کاروں کا رجحان اب بھی محدود دکھائی دیتا ہے۔ نومبر 2025 کے دوران ٹرانسپورٹ اور آٹو موٹیو شعبے میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 50 لاکھ ڈالر (تقریباً 1.4 ارب روپے) رہی جو گزشتہ سال کے مقابلے میں محض 5 فیصد اضافہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں موٹر سائیکل اور تھری ویلر کی فروخت میں حیران کن اضافہ
اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مستحکم شرحِ سود نے مقامی صارفین کی قوتِ خرید کو سہارا دیا ہے اور آٹو موٹیو شعبہ اندرونی طور پر مضبوطی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ تاہم غیر ملکی سرمایہ کاری میں سست رفتاری ظاہر کرتی ہے کہ عالمی سرمایہ کار تاحال محتاط ہیں۔
ماہرین کے مطابق شعبے کی مکمل بحالی اور دیرپا ترقی کے لیے پالیسی سازوں کو پاکستان کو سرمایہ کاری کے لیے ایک محفوظ اور پائیدار مقام کے طور پر مؤثر انداز میں پیش کرنا ہوگا۔














