خیبرپختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان میں بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں کا سیکیورٹی فورسز کے کیمپ پر حملہ ناکام بنا کر چاروں دہشتگردوں کو ہلاک کردیا گیا، جبکہ فائرنگ کے شدید تبادلے میں سیکیورٹی فورسز کے 4 جوان شہید ہوگئے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق خارجی دہشتگردوں نے کیمپ کے بیرونی سیکیورٹی حصار کو توڑنے کی کوشش کی، تاہم سیکیورٹی فورسز کے مستعد اور پُرعزم ردعمل کے باعث ان کے مذموم عزائم ناکام بنا دیے گئے۔
مزید پڑھیں: بیرون ملک دہشتگردی سے متعلق افغان علما کا اعلامیہ: مولانا طاہر اشرفی کا خیرمقدم
بیان میں کہا گیا ہے کہ حملہ آوروں نے اپنی ناکامی کے بعد دھماکا خیز مواد سے بھری گاڑی بیرونی دیوار سے ٹکرا دی، جس کے نتیجے میں دیوار منہدم ہو گئی اور قریبی شہری انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا، جس میں ایک مسجد بھی شامل ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اس دہشتگردی کے نتیجے میں مقامی آبادی کے گھروں کو نقصان پہنچا اور بچوں و خواتین سمیت 15 شہری شدید زخمی ہو گئے۔
ترجمان نے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے غیر متزلزل جرات اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے حملہ آوروں کا بھرپور مقابلہ کیا اور چاروں دہشتگردوں کو ہلاک کردیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اس دوران شدید فائرنگ کے تبادلے میں 4 جوان شہید ہوگئے، جن میں حوالدار محمد وقاص، نائیک خانویز، سپاہی سفیان حیدر اور سپاہی رفعت شامل ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ دہشت گردی کا گھناؤنا واقعہ افغانستان میں موجود خوارج کی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے، جو افغان طالبان حکومت کے اس دعوے کے برعکس ہے کہ ان کی سرزمین سے ایسے دہشتگرد گروہ سرگرم نہیں۔
بیان کے مطابق پاکستان عبوری افغان حکومت سے توقع کرتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور خوارج کو پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین استعمال کرنے سے روکے، کیونکہ پاکستان کے عوام کی سلامتی اور تحفظ اولین ترجیح ہے۔
مزید پڑھیں: خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے واقعات اور جانی نقصان کی پولیس رپورٹ جاری
آئی ایس پی آر نے کہاکہ پاکستان اپنے عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے خوارج اور ان کے سہولت کاروں و معاونین کے خلاف کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔














