خرم دستگیر خان نے اپنی آنکھوں کے کارنیا عطیہ کرنے کا اعلان کردیا

جمعہ 19 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سابق وفاقی وزیر اور مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما خرم دستگیر خان نے اپنی وفات کے بعد آنکھوں کے کارنیا عطیہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاک افغان کوآپریشن فورم کے تحت کابل میں مفت آئی کیمپ کا انعقاد

جمعے کے روز خرم دستگیر خان نے گوجرانوالہ میڈیکل کالج کے شعبہ امراضِ چشم کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے کارنیا کی بیماری کے باعث بینائی سے محروم 5 مریضوں کی عیادت کی۔ ان مریضوں کی بینائی پروفیسر ڈاکٹر عرفان قیوم ملک کی زیرِ نگرانی کامیاب کارنیا ٹرانسپلانٹ سرجریز کے بعد بحال ہوئی۔

اس موقع پر بتایا گیا کہ گوجرانوالہ میڈیکل کالج میں پروفیسر ڈاکٹر عرفان قیوم ملک کی قیادت میں اب تک 161 کارنیا ٹرانسپلانٹ سرجریز کامیابی سے کی جاچکی ہیں، جو ادارے کے لیے ایک قابلِ فخر کارنامہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب: آنکھوں کو متاثر کرنے والا انجیکشن مارکیٹ سے اٹھا دیا گیا، سپلائرز کیخلاف کارروائی کا آغاز

خرم دستگیر خان نے عظیم انسانی جذبے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کے حکم سے وفات کے بعد ان کے آنکھوں کے کارنیا عطیہ کیے جائیں گے تاکہ نابینا افراد بھی دنیا کی روشنی دیکھ سکیں۔

انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ اس نیک اور انسانی عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی بل گیٹس سے ملاقات، صحت اور اصلاحات میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

گوگل پکسل فون کے ایک فیچر سے کالز لیک ہونے کا خدشہ

نیسلے کا پاکستان میں 60 ملین ڈالر اضافی سرمایہ کاری کا اعلان

الحمرا میں نویں تھنک فسٹ ؛ افکار ِ تازہ کا آغاز

عالمی اقتصادی فورم: وزیرِاعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفینس فورسز سید عاصم منیر عالمی قائدین کی خصوصی توجہ کا مرکز

ویڈیو

خوشبودار و میٹھے آم وہ بھی سردیوں میں، کہروڑپکا کے کاشتکار نے کمال کردیا

کراچی: قدیم بستی صالح آباد کے ماہی گیروں کے سلگتے مسائل

پیپلزپارٹی ہر مرتبہ مخالفین پر جبراً قابو پاکر حکومت بنالیتی ہے، سید حفیظ الدین

کالم / تجزیہ

گل پلازہ کی آگ سے بننے والے دائرے

محمود خان اچکزئی نئے اپوزیشن لیڈر، نیا میثاق جمہوریت ہو گا؟

ہمارے شہر مر رہے ہیں