ورلڈ بینک نے پاکستان کے لیے 70 کروڑ ڈالر کی مالی معاونت کی منظوری دے دی۔ یہ رقم ایک کثیر سالہ پروگرام کے تحت فراہم کی جائے گی جس کا مقصد ملک میں معاشی استحکام اور عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ورلڈ بینک کی پاکستان کے لیے 40 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری
ورلڈ بینک کے مطابق یہ فنڈز پبلک ریسورسز فار انکلوژِو ڈیولپمنٹ ملٹی فیز پروگرامیٹک اپروچ کے تحت جاری کیے جائیں گے جس کے ذریعے مجموعی طور پر 1.35 ارب ڈالر تک کی مالی معاونت فراہم کی جا سکتی ہے۔
منظور شدہ رقم میں سے 60 کروڑ ڈالر وفاقی پروگراموں کے لیے جبکہ 10 کروڑ ڈالر سندھ میں ایک صوبائی پروگرام کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔
یہ منظوری اگست میں پنجاب میں پرائمری تعلیم کو بہتر بنانے کے لیے دیے گئے 47.9 ملین ڈالر کے ورلڈ بینک گرانٹ کے بعد سامنے آئی ہے۔
ورلڈ بینک کی جانب سے جاری ایک علیحدہ بیان میں پاکستان کے لیے کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازار کے حوالے سے کہا گیا کہ پاکستان میں جامع اور پائیدار ترقی کے لیے ضروری ہے کہ اندرونی وسائل میں اضافہ کیا جائے اور انہیں شفاف اور مؤثر انداز میں عوامی فلاح کے لیے استعمال کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ایم پی اے کے ذریعے ورلڈ بینک وفاقی حکومت اور سندھ حکومت کے ساتھ مل کر ایسے عملی نتائج حاصل کرنے کے لیے کام کر رہا ہے جن میں اسکولوں اور صحت کے مراکز کے لیے مستحکم فنڈنگ، منصفانہ ٹیکس نظام اور بہتر فیصلوں کے لیے مضبوط ڈیٹا سسٹمز شامل ہیں جبکہ سماجی اور ماحولیاتی ترجیحات کا بھی تحفظ کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیے: سیلاب کی تباہ کاریاں: فصلیں کتنی کم، آئندہ مالی سال کیسا ہوگا، ورلڈ بینک کے تخمینے
ورلڈ بینک کے پاکستان کے لیے لیڈ کنٹری اکنامسٹ ٹوبیاس اختر حق کا کہنا ہے کہ پاکستان کے مالیاتی ڈھانچے کو مضبوط بنانا معاشی استحکام کی بحالی، بہتر نتائج کے حصول اور اداروں کو مستحکم کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ پروگرام کے تحت ہم ایک مربوط قومی حکمتِ عملی کا آغاز کر رہے ہیں جس کا مقصد مالی گنجائش میں اضافہ، انسانی ترقی اور ماحولیاتی استحکام میں سرمایہ کاری اور ریونیو نظام، بجٹ پر عملدرآمد اور شماریاتی نظام کو مضبوط بنانا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان اصلاحات کے نتیجے میں وسائل زیادہ مؤثر اور جوابدہ انداز میں عوام تک پہنچ سکیں گے۔
بیان کے مطابق وفاقی سطح پر یہ پروگرام اندرونی آمدن میں منصفانہ اضافے، بجٹ کی منصوبہ بندی اور عملدرآمد میں بہتری اور شواہد پر مبنی فیصلوں کے لیے ڈیٹا سسٹمز کو مضبوط بنانے پر توجہ دے گا۔
اس ضمن میں ٹیکس اصلاحات، مالیاتی نظم و نسق کے جدید نظام، سبسڈی میں ہدفی اصلاحات اور پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کی قیادت میں قومی شماریاتی نظام کو بہتر بنایا جائے گا۔
سندھ میں اس پروگرام کے تحت صوبائی آمدن میں اضافہ، ادائیگیوں کے نظام میں شفافیت اور تیزی اور پالیسی سازی میں ڈیٹا کے استعمال کو فروغ دیا جائے گا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ پروگرام پرائمری ہیلتھ کیئر اور اسکولوں کے لیے زیادہ منصفانہ اور مؤثر فنڈنگ کے ذریعے جامع ترقی میں براہِ راست مدد فراہم کرے گا۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب اور قطر نے شام کے ذمہ قرض ورلڈ بینک کو ادا کردیا
واضح رہے کہ نومبر میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی مشترکہ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پاکستان میں بکھرا ہوا ضابطہ جاتی نظام، غیر شفاف بجٹنگ اور سیاسی اثر و رسوخ سرمایہ کاری میں رکاوٹ اور آمدن میں کمی کا سبب بن رہے ہیں۔













