ملک بھر کے مختلف علاقوں سے حاصل کیے گئے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوگئی ہے۔ قومی ادارہ صحت کی رواں سال نومبر کی لیبارٹری رپورٹ کے مطابق پولیو وائرس تاحال مکمل طور پر ختم نہیں ہوسکا۔
یہ بھی پڑھیں: چاروں صوبوں کے 22 اضلاع سے حاصل کردہ سیوریج کے نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک کے 27 اضلاع کے 127 مقامات سے سیوریج کے نمونے لیبارٹری بھیجے گئے، جن میں سے 46 مقامات کے نمونوں میں پولیو وائرس پایا گیا۔
سندھ کے 22 ماحولیاتی نمونے پولیو پازیٹو قرار دیے گئے، جن میں کراچی کے 11، حیدرآباد کے 3 جبکہ دیگر اضلاع کے 8 مقامات شامل ہیں۔

خیبرپختونخوا میں پشاور اور بنوں کے 2، 2 مقامات جبکہ دیگر اضلاع کے 5 مقامات کے نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی سامنے آئی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں پولیو وائرس کا ایک اور شکار، مجموعی تعداد کتنی ہوگئی؟
پنجاب میں مجموعی طور پر 7 مقامات کے ماحولیاتی نمونے پولیو پازیٹو نکلے، جن میں لاہور کے 4، راولپنڈی کے 2 اور فیصل آباد کا ایک مقام شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں کوئٹہ اور مستونگ سمیت 6 مقامات کے ماحولیاتی نمونوں میں بھی پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد بھی پولیو وائرس سے محفوظ نہیں رہا، جہاں 2 مقامات کے سیوریج نمونے پولیو پازیٹو پائے گئے۔

ماہرین کے مطابق ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ انسداد پولیو مہم کو مزید مؤثر بنانے اور ویکسی نیشن کوریج بڑھانے کی اشد ضرورت ہے۔














