لاہور کی انسداد دہشتگردی عدالت نے 9 مئی کے مزید کیسز میں پاکستان تحریک انصاف کی سینئر رہنماؤں ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چوہدری، عمر سرفراز چیمہ اور میاں محمود الرشید کو 10، 10 سال قید کی سزا سنا دی۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک روز قبل لاہور ہی کی انسداد دہشتگردی عدالت نے 9 مئی سے متعلق ایک اور کیس میں شاہ محمود قریشی کو بری جبکہ ڈاکٹر یاسمین راشد، عمر سرفراز چیمہ، میاں محمود الرشید اور اعجاز چوہدری کو 10 سال قید کی سزا سنائی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: 9 مئی کو رانا ثنا اللہ کے گھر پر حملہ کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری، پی ٹی آئی کے 17 قائدین کو 2 دفعات کے تحت 10، 10 سال کی سزا
پی ٹی آئی رہنماؤں کے وکیل رانا مدثر کے مطابق یہ کیسز لاہور کے علاقے گلبرگ میں پولیس گاڑیوں کو نذر آتش کرنے اور کلمہ چوک کے قریب کنٹینر جلانے سے متعلق ہیں، جو 9 مئی 2023 کو بانی پی ٹی آئی عمران خان کی گرفتاری کے بعد پیش آنے والے واقعات کا حصہ تھے۔
عدالتی کارروائی لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں اے ٹی سی تھری کے جج ارشد جاوید کی سربراہی میں ہوئی۔ کلمہ چوک کیس میں مجموعی طور پر 22 ملزمان کو 10 سال قید کی سزا سنائی گئی جبکہ 5 کو بری کر دیا گیا۔ گلبرگ کیس میں 5 ملزمان کو سزا اور 22 کو بری کیا گیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو ان کیسز میں تاحال فرد جرم عائد نہیں کی گئی، ان کا ٹرائل ضمنی چالان جمع ہونے کے بعد علیحدہ طور پر شروع ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: 9 مئی کیس میں بریت کے بعد شاہ محمود قریشی اور پی ٹی آئی کا مستقبل کیا ہے؟
استغاثہ کے مطابق دونوں مقدمات میں 78 گواہان پیش کیے گئے۔ گلبرگ کیس میں 33 افراد کے خلاف چالان جمع ہوا جبکہ 4 کو اشتہاری قرار دیا گیا۔ کلمہ چوک کیس میں 36 افراد کے خلاف چالان پیش کیا گیا جبکہ حماد اظہر، مراد سعید، زبیر نیازی اور میاں اسلم اقبال سمیت 12 افراد کو مفرور قرار دیا گیا۔
استغاثہ نے مؤقف اختیار کیا کہ پی ٹی آئی قیادت نے کارکنان کو بغاوت اور عوامی بدامنی پر اکسایا۔
فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ مقدمات معمول کی کارروائی کے لیے مقرر تھے تاہم رات کی تاریکی میں ایک بار پھر سزائیں سنا دی گئیں اور صفائی کا مکمل موقع نہیں دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: توشہ خانہ کیس 2: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو مجموعی طور پر 17- 17 سال قید اور جرمانے کی سزا
ان کا کہنا تھا کہ کوٹ لکھپت جیل میں قید رہنماؤں کا حوصلہ بلند ہے اور اب تک مجموعی طور پر 200 سال سے زائد سزائیں سنائی جا چکی ہیں جنہیں ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔
ان فیصلوں کے ساتھ لاہور میں 9 مئی کے واقعات سے متعلق 14 میں سے 7 مقدمات کے فیصلے سنائے جاچکے ہیں، جن میں شادمان تھانہ حملہ، شیرپاؤ پل پر تشدد، راحت بیکری کے قریب پولیس گاڑیاں جلانے، جناح ہاؤس کے قریب سپریم کورٹ کے جج کے اسکواڈ کی گاڑی نذر آتش کرنے اور جی او آر ون کلب چوک کے گیٹ پر حملے کے مقدمات شامل ہیں۔














