9 مئی کیس میں بریت کے بعد شاہ محمود قریشی اور پی ٹی آئی کا مستقبل کیا ہے؟

ہفتہ 20 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

لاہور کی انسداد دہشتگردی عدالت نے 9 مئی کو جی او آر گیٹ حملہ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے پی ٹی آئی رہنماؤں ڈاکٹر یاسمین راشد، عمر سرفراز چیمہ، اعجاز چوہدری اور محمود الرشید کو 10،10 سال قید اور جرمانے کی سزا سنا دی، جبکہ سابق وائس چیئرمین تحریک انصاف شاہ محمود قریشی کو بری کردیا۔

وی نیوز نے تجزیہ کاروں سے گفتگو کی اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ کیا شاہ محمود قریشی کو کسی ڈیل کے تحت بری کیا گیا ہے؟ اور ممکنہ طور پر ایسا ہونے کی صورت میں تحریک انصاف کا مستقبل کیا ہوگا؟

مزید پڑھیں: 9مئی کیس: ڈاکٹر یاسمین، میاں محمودالرشید، اعجاز چوہدری، عمر سرفراز چیمہ کو 10،10 سال قید کی سزا ، شاہ محمود قریشی بری

’شاہ محمود کے خلاف کیس حقائق پر پورا نہیں اترتا تھا‘

سینیئر تجزیہ کار حسن ایوب نے ’وی نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ایک اور مقدمے میں بری ہو گئے ہیں، جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان کے خلاف قائم کیا گیا کیس حقائق پر پورا نہیں اترتا تھا۔

ان کے مطابق یہ تیسرا مقدمہ ہے جس میں شاہ محمود قریشی کو بریت حاصل ہوئی ہے، جس دن کا واقعہ کیس میں بنیاد بنایا گیا ہے اس روز شاہ محمود قریشی کراچی میں آغا خان اسپتال میں موجود تھے کیونکہ ان کی اہلیہ کی طبیعت ناساز تھی اور ان کا آپریشن ہونا تھا۔ اس بنیاد پر عدالت نے کیس کو کمزور قرار دیتے ہوئے بریت کا فیصلہ سنایا۔

حسن ایوب نے کہاکہ اگر آنے والے دنوں میں شاہ محمود قریشی تمام مقدمات سے بری ہو جاتے ہیں تو وہ پاکستان تحریک انصاف میں دوبارہ متحرک کردار ادا کر سکتے ہیں، تاہم پارٹی کے اندر ان کے لیے مشکلات ختم نہیں ہوں گی، علیمہ خانم کسی صورت شاہ محمود قریشی کے سیاسی وجود کو قبول نہیں کریں گی اور انہیں ان سے شدید سیاسی عدم تحفظ لاحق ہے۔

انہوں نے کہاکہ علیمہ خان کی جانب سے سلمان اکرم راجا کو پارٹی میں ایک فرنٹ مین کے طور پر آگے لایا گیا ہے، تاہم ایسی صورتحال میں وہ خود بھی مشکلات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ پاکستانی سیاست میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ جب کوئی رہنما قربانی دے کر آزاد ہو کر واپس آتا ہے تو اسے نظرانداز کرنے یا اس کے راستے میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

’شاہ محمود کی بریت  کے بعد نظام انصاف پر سوال اٹھتا ہے‘

سینیئر تجزیہ کار منیب فاروق نے کہاکہ شاہ محمود قریشی کو 9 مئی کے مقدمے میں بری تو کر دیا گیا لیکن یہاں نظام انصاف پر سوال اٹھتا ہے کہ کیوں شاہ محمود قریشی کو اتنا طویل عرصہ جیل میں رکھا گیا۔

انہوں نے کہاکہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے درخواست ضمانت بھی دائر کی گئی لیکن ہر مرتبہ ان کی ضمانت مسترد کردی گئی، حالانکہ وہ 9 مئی واقعات کے روز جائے وقوعہ پر موجود ہی نہیں تھے جبکہ اس سے پہلے 7 مئی کی میٹنگ کا جو حوالہ دیا جا رہا ہے اس میٹنگ میں بھی شاہ محمود قریشی شریک نہیں تھے۔

منیب فاروق کے مطابق اس وقت شاہ محمود قریشی اپنی اہلیہ کے ہمراہ کراچی کے اسپتال میں موجود تھے، اس کے باوجود شاہ محمود قریشی کو نامزد کرنا اور ضمانت نہ دینا نظام انصاف پر سوال اٹھاتا ہے۔

منیب فاروق نے کہاکہ شاہ محمود قریشی کو میرا نہیں خیال کہ کسی ڈیل کی وجہ سے بری کیا گیا ہو، اگر کیس کو دیکھا جائے اور جو سماعتوں کے دوران شواہد پیش کیے گئے تو ان شواہد کی بنیاد پر شاہ محمود قریشی کو سزا دینا بہت مشکل تھا۔

’میرا خیال ہے کہ شواہد کی روشنی میں ہی شاہ محمود قریشی کو بری کیا گیا ہے اور کسی قسم کی ڈیل کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ شاہ محمود قریشی کے باہر انے سے پی ٹی آئی کو تقویت ملے گی اور تحریک انصاف اور حکومت کے رابطے سنجیدہ ہو سکیں گے۔‘

’حکومت کو چاہیے کہ شاہ محمود کے ذریعے مذاکرات کو آگے بڑھائے‘

ماہر قانون شائق عثمانی نے کہاکہ شاہ محمود قریشی کے کیس کے حوالے سے شروع سے ہی ہم لوگ یہ سوچ رہے تھے کہ ان کو بری کیا جائے گا، انہوں نے نہ تو کوئی ایسی الٹی سی باتیں کی ہیں، نہ حرکتیں کی ہیں اور نہ کسی کو برا بھلا کہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ شاہ محمود قریشی ہمیشہ بڑے معقول سیاست دان بن کر ابھرے ہیں اور حکومت کو یہ چاہیے کہ وہ شاہ محمود قریشی کے ذریعے مذاکرات کو آگے بڑھائے، پی ٹی آئی کی کمانڈ ایسے شخص کے پاس ہو جو کہ سنجیدہ طریقے سے بات چیت کرتا ہو اور الٹی سیدھی باتیں نہ کرتا ہو۔

مزید پڑھیں: مذاکرات ہی مسائل کا واحد حل ہے، کوٹ لکھپت جیل میں قید پی ٹی آئی رہنماؤں کا خط سامنے آگیا

شائق عثمانی نے کہاکہ شاہ محمود قریشی کو اگر بریت مل گئی ہے تو اس وجہ سے ملی ہوگی کیونکہ ان کے خلاف ٹھوس شواہد نہیں ہوں گے، کسی بھی ملزم کو 10 سال سزا دینے کے لیے ٹھوس شواہد کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن یہ بھی ہو سکتا ہے کہ استغاثہ کو یہ خیال بھی ہو کہ شاہ محمود قریشی کو کس طریقے سے ہلکا ہاتھ رکھیں تاکہ ان کو یہ سزا نہ ہو اور وہ بری ہو جائیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

میثاق جمہوریت کا مسودہ سامنے آئے گا تو دیکھیں گے، رانا ثنااللہ کا پی ٹی آئی کی پیشکش پر جواب

مئی کی جنگ میں پاکستان کی بھارت کے خلاف فتح، انڈین آرمی چیف نے اپنی ناکامیوں کا اعتراف کرلیا

بھارت اور امریکا کے درمیان تجارت اور اہم معدنیات پر بات چیت

اسلام آباد: جے یو آئی رہنما فرخ کھوکھر کی گرفتای و رہائی

ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو دھمکی پر روس کا سخت ردعمل سامنے آگیا

ویڈیو

ریاست سے ٹکر لینا مہنگا پڑگیا، سہیل آفریدی کو ناکوں چنے چبوا دیے گئے

ڈاکٹر مصدق ملک کا جنگلات کٹائی کے مقامات کا دورہ، ’درخت کاٹنے کے جرمانے میں اضافہ ہو گا‘

اسلام آباد گیس لیکج حادثہ، ‘میرا سب ختم ہوگیا، گھر واپس کیسے جائیں گے’

کالم / تجزیہ

امریکی یلغار: تصویر کے 3 رخ

وزیر اعلیٰ ہو تو سہیل آفریدی جیسا

ہیرا ایک ہی ہے