چین کے شہر چینگدو میں ہونے والے ایک منفرد اور جدید طرز کے کنسرٹ میں چینی نژاد امریکی گلوکار وانگ لیہوم کے ساتھ انسان نما روبوٹس نے اسٹیج پر رقص کیا، جس نے دنیا بھر میں شائقین کو حیران کر دیا۔
یہ منظر وانگ لیہوم کے بیسٹ پلیس ٹور کنسرٹ کے دوران دیکھنے میں آیا، جہاں یونٹری جی ون ہیومنائیڈ روبوٹس گلوکار اور انسانی ڈانسرز کے ساتھ ہم آہنگ انداز میں ناچتے دکھائی دیے۔ روبوٹس نے ڈھیلی پتلون اور چمک دار شرٹس پہن رکھی تھیں اور ان کی حرکات نہایت درست اور مشینی توازن کے ساتھ لائیو موسیقی اور روشنیوں سے مکمل ہم آہنگ تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: چین میں ہیومنائیڈ روبوٹس کا فٹبال میچ، انسانی ٹیموں سے زیادہ جوش و خروش پیدا کرگیا
روبوٹس نے گلوکار کے مشہور گانے اوپن فائر کی پرفارمنس کے دوران اسٹیج پر انٹری دی۔ کنسرٹ کا سب سے نمایاں لمحہ وہ تھا جب متعدد روبوٹس نے ایک ساتھ ویب اسٹرفلپس کرتے ہوئے شاندار کرتب دکھائے، جو تقریباً مکمل ہم آہنگی کے ساتھ انجام دیے گئے۔
Impressive https://t.co/IacxCOxpki
— Elon Musk (@elonmusk) December 19, 2025
کنسرٹ کا مقصد یہ دکھانا تھا کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور روبوٹکس کس طرح فنکارانہ اظہار کو مزید بہتر بنا سکتی ہیں، نہ کہ انسانی فنکاروں کی جگہ لینے کے لیے۔ وانگ لیہوم کی ویب سائٹ کے مطابق یہ پرفارمنس کنسرٹ میں روبوٹک ڈانس کی ایک نایاب مثال تھی، جس میں جدید ٹیکنالوجی اور طاقتور لائیو موسیقی کو یکجا کیا گیا۔
اس پرفارمنس کی ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ایکس، انسٹاگرام اور ویبو پر تیزی سے وائرل ہو گئی۔ ٹیسلا کے چیف ایگزیکٹو ایلون مسک نے بھی ویڈیو پر ایک لفظ میں ردعمل دیا اور اسے امپریسیو قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: چین میں روبوٹس کی انسانوں کے ساتھ ریس کے دلچسپ مناظر
سوشل میڈیا صارفین نے چینی روبوٹکس کا موازنہ امریکی منصوبوں جیسے ٹیسلا آپٹیمس سے بھی کیا۔ بعض صارفین نے لکھا کہ ڈانسرز کی جگہ اب اے آئی لے رہی ہے، جبکہ کچھ نے اسے سائنس فکشن کہانیوں کی عملی شکل قرار دیا۔
Robots in China are doing it all now, even dancing on stage like pros.
Here Unitree robots doing Webster flips and are performing at Chinese-American singer Wang Leehom’s concert in Chengdu.pic.twitter.com/2BNWdok0bf
— Rohan Paul (@rohanpaul_ai) December 19, 2025
تاہم کچھ افراد اس مظاہرے سے متاثر نظر نہیں آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ انسانی چہروں کی توانائی اور کشش وہ احساس پیدا کرتی ہے جو بے جان اور بے تاثر روبوٹس نہیں کر سکتے۔
یہ کنسرٹ مستقبل کی ٹیکنالوجی اور فن کے امتزاج کی ایک جھلک قرار دیا جا رہا ہے، جس نے دنیا بھر میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔














