پاکستان میں اچھے کام کی تحسین اور نصیحت کے اصل طریقے پر عمل ضروری ہے، طاہر محمود اشرفی

اتوار 21 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

پاکستان علما و مشائخ کونسل کے سربراہ مولانا طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ اچھا کام کرنے والے کی تعریف اور برائی کرنے والے کی تنبیہ انصاف کے ساتھ ہونی چاہیے اور نصیحت کا اصل طریقہ قرآن و سنت سے واضح ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بھارت انتہا پسندی کا مرکز بن چکا، طاہر اشرفی کا مسلم خاتون کے حجاب سے متعلق واقعہ پر اظہار تشویش

پاکستان علما و مشائخ کونسل کے چیئرمین مولانا طاہر محمود اشرفی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جو اچھا کام کرے اسے اچھا کہنا چاہیے اور جو برا کام کرے اسے برا کہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام میں نصیحت کا ایک مقررہ طریقہ بتایا گیا ہے اور اسی پر عمل کرنا ضروری ہے۔

مولانا اشرفی نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا میں بہت سے لوگ شرک میں مبتلا رہے مگر اللہ تعالیٰ کو براہِ راست چیلنج صرف فرعون نے کیا تھا، جس نے کہا تھا کہ وہ سب سے بڑا رب ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشرکین مکہ بھی اللہ کے وجود کو مانتے تھے مگر ساتھ چھوٹے خداؤں پر یقین رکھتے تھے، لیکن فرعون نے خدائی کا دعویٰ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:بیرون ملک دہشتگردی سے متعلق افغان علما کا اعلامیہ: مولانا طاہر اشرفی کا خیرمقدم

مولانا اشرفی نے مزید کہا کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دعوت و تبلیغ کے لیے فرعون کے پاس بھیجا تو انہیں حکم دیا کہ اس سے نرمی سے بات کرنا۔ انہوں نے کہا کہ یہی طرزِ عمل اسلام کی اصل تعلیم ہے، کہ نصیحت سختی، گالی یا الزام کے ساتھ نہیں بلکہ حکمت اور نرمی سے ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی معاشرے میں بھی اختلافِ رائے کی گنجائش موجود ہے، لیکن گفتگو کا انداز شائستہ اور دلیل پر مبنی ہونا چاہیے تاکہ اصلاح کا مقصد پورا ہو۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp