بھارت انتہا پسندی کا مرکز بن چکا، طاہر اشرفی کا مسلم خاتون کے حجاب سے متعلق واقعہ پر اظہار تشویش

منگل 16 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آل پاکستان علما کونسل کے سربراہ مولانا طاہر محمود اشرفی نے ایک ویڈیو پیغام میں بھارت میں مسلم خاتون کے حجاب سے متعلق پیش آنے والے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاا ہے کہ یہ واقعہ ہندوستان میں اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے ظلم و ستم کی واضح مثال ہے۔ بیان میں عالمی اداروں اور مسلم دنیا سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس صورتحال کا نوٹس لیں۔

یہ بھی پڑھیں:مسلم خاتون ڈاکٹر کا نقاب کھینچ کر اتارنے کا افسوسناک واقعہ، بھارت میں وزیراعلیٰ نتیش کمار کی نااہلی کی تحریک چل پڑی

مولانا طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ ہندوستان اس وقت اندرونی اور بیرونی دونوں سطحوں پر دہشتگردی اور انتہا پسندی کا عالمی مرکز بن چکا ہے، اور اگر دنیا بھر میں جائزہ لیا جائے تو انتہا پسندی اور دہشت گردی میں ہندوستان سرفہرست ہے۔

بیان کے مطابق ایک مسلم خاتون جو حجاب میں ملبوس تھی، بہار کے وزیر اعلیٰ سے اپنا اپائنٹمنٹ لیٹر لینے گئی، جہاں ایک وزیر اعلیٰ کی سطح کے شخص کی جانب سے اس کا حجاب اتارا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان میں اقلیتوں کے ساتھ جو ظلم و ستم ہو رہا ہے، وہ اس ویڈیو اور تصویر سے واضح ہوتا ہے، اگر وزیر اعلیٰ کی سطح کا فرد حجاب برداشت نہیں کرتا تو یہ ہندوتوا کے ایک منظم منصوبے کی نشاندہی کرتا ہے، جس کے تحت مسلمانوں کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ امت مسلمہ، عالم اسلام کے ممالک، اسلامی تعاون تنظیم اور انسانی حقوق کے ادارے اس معاملے کو دیکھیں تاکہ اس کا سدباب کیا جا سکے۔

مولانا طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر دیکھا جائے تو ہندوستان عملاً کینیڈا، امریکا، برطانیہ اور آسٹریلیا سمیت مختلف ممالک میں دہشتگردی میں ملوث رہا ہے۔ پاکستان میں ہندوستان کی دہشتگردی پوری دنیا کے سامنے ہے اور ہندوستان ایک دہشتگرد ریاست بن چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بھارت میں مسلم خاتون کا نقاب نوچنے کے واقعے پر سینیٹر مشتاق احمد کا ردعمل

مولانا طاہر اشرفی کے مطابق کے مطابق مودی ہندوتوا کے منصوبے کے تحت ہندوستان میں مسلمانوں، مسیحیوں، سکھوں اور نچلی ذات کے ہندوؤں پر ظلم و ستم کر رہا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ بیرونِ ملک بھی دہشتگردی اور دہشتگردوں کی سرپرستی کے شواہد موجود ہیں، جبکہ پاکستان میں ہندوستان کی جانب سے فتنہ و فساد کے اقدامات سب کے سامنے ہیں۔

آخر میں او آئی سی کے سیکریٹری جنرل، عرب لیگ کے سربراہ اور مسلم دنیا کے تمام ممالک سے اپیل کی گئی کہ وہ اس واقعے پر اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں، کیونکہ ایک مسلم خاتون کے ساتھ اس طرح زیادتی، اس کا حجاب اتارنا اور وہ بھی ایک ذمہ دار عہدے پر فائز شخص کی جانب سے، کسی صورت قابل قبول نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

تیکناف سرحد سے گرفتار تمام 53 افراد کیمپوں میں مقیم روہنگیا مہاجر نکلے، بنگلہ دیشی سرحدی فورسز

کوئٹہ: سرکاری ملازمین کی احتجاجی تحریک کا دوسرا مرحلہ شروع، 15 جنوری کو لاک ڈاؤن کا اعلان

امریکی قبضہ کسی صورت برداشت نہیں کریں گے، گرین لینڈ کا دوٹوک مؤقف

پیپلزپارٹی کا احتجاج: حکومت نے اسپیشل اکنامک زونز ترمیمی آرڈیننس واپس لے لیا

بنگلہ دیش کی سخت شرائط کے تحت غزہ بین الاقوامی فورس میں شمولیت پر آمادگی

ویڈیو

کیا ونڈر بوائے آ رہا ہے؟ پی ٹی آئی کی آخری رسومات ادا

ٹھیلے سے ریسٹورنٹ تک، سوشل میڈیا کے بل بوتے پر کامیابی کی انوکھی کہانی

’باادب بامراد‘: شاگردوں کا استاد کے لیے بے مثال احترام، گاڑی بطور تحفہ پیش کردی

کالم / تجزیہ

ہیرا ایک ہی ہے

’نہیں فرازؔ تو لوگوں کو یاد آتا ہے‘

تحریک انصاف کا دشمن کون؟