سابق وفاقی وزیر اور مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ پاکستان کو بچانے کے لیے تمام پاکستانیوں کو پاکستان کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا اور اتحاد کا راستہ اختیار کرنا ہوگا، باہمی لڑائیاں ملک کے لیے نقصان دہ ہیں،کوئی کسی کو مائنس نہیں کر سکتا سیاسی جماعتیں حقیقت ہوتی ہیں۔
لاہور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ پاکستان اس وقت شدید سیاسی انتشار اور باہمی نفرت کا شکار ہے، جس سے قومی توانائیاں ضائع ہو رہی ہیں، جبکہ ملک کو اتحاد اور یکجہتی کی اشد ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خواجہ سعد رفیق کی عمران خان اور شیر افضل مروت سے متعلق کون سی پیشگوئی درست ثابت ہوئی؟
انہوں نے کہا کہ بنیان مرصوص میں کامیابی کے نتیجے میں پاکستان کا عالمی وقار بلند ہوا اور پاک فوج، افسران اور جوانوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک کئی گنا طاقتور دشمن کو شکست دی۔
ان کا کہنا تھا کہ ایٹمی دھماکوں کے بعد یہ پاکستان کی تاریخ کا دوسرا موقع ہے جب پاکستانی سر اٹھا کر چل سکتا ہے، اور یہ سب وزیراعظم شہباز شریف اور ان کی ٹیم کی اجتماعی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے اپنی سیاست کو داؤ پر لگا کر ریاست کو بچانے کا فیصلہ کیا اور اسی کے نتیجے میں پاکستان ایک بڑے بحران سے نکلنے میں کامیاب ہوا۔ خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت تاریخی کام کر رہی ہے اور اس کے اثرات اب زمینی سطح پر نظر آنا شروع ہو گئے ہیں، تاہم اس کے باوجود پنجاب کو مسلسل تنقید اور نفرت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان کو پاکستان سے سہولیات کے بدلے میں خوارج کی ایکسپورٹ بند کرنی ہوگی، خواجہ سعد رفیق
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں مگر الزام پنجاب پر آتا ہے، جبکہ عام پنجابی کی رائے اور کردار کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبوں کے درمیان اس سطح کی نفرت انہوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی، جو تشویشناک ہے۔
خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ ناگزیر ہے، چاہے وہ ٹی ٹی پی ہو یا بی ایل اے، مگر ان قوتوں سے محاذ آرائی سمجھ سے بالاتر ہے جو پاکستان کو تسلیم کرتی ہیں، قومی پرچم کو مانتی ہیں اور ریاست کے ساتھ کھڑی ہیں۔ انہوں نے اپیل کی کہ ایسی تمام سیاسی اور ریاستی قوتوں کو متحد ہونا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے مسائل ابھی ختم نہیں ہوئے، غربت، بھوک، معاشی بدحالی، دہشتگردی اور علاقائی خطرات بدستور موجود ہیں۔ نہ معیشت نے مکمل طور پر اڑان بھری ہے اور نہ ہی ملک عالمی سطح پر معاشی طاقت بن سکا ہے۔ اس صورتحال میں باہمی لڑائیاں ملک کے لیے نقصان دہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: خواجہ سعد رفیق کی اپنی ہی حکومت پر کڑی تنقید کیوں؟
خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ قوم کے 78 سال باہمی کشمکش میں ضائع ہو چکے ہیں، اب مزید وقت ضائع کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو بچانے کے لیے تمام پاکستانیوں کو پاکستان کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا اور اتحاد کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ جو سیاسی جماعتیں عوام نے بنائیں ان کو پذیرائی نہیں ملی، جنہوں نے آئین کو پامال کیا انہیں ہیرو بنانے کی کوشش کی گئی، تاہم اب ڈکٹیٹر کا نام لیوا بھی کوئی نہیں، پاکستان ووٹ کی طاقت سے حاصل کیا گیا نہ کہ گوریلا وار فیئر کے نتیجے میں حاصل ہوا۔














