تحریک تحفظ آئین پاکستان نے 2 روزہ قومی مشاورتی کانفرنس کے اعلامیے میں ملک میں نئے شفاف اور منصفانہ انتخابات کا مطالبہ کرتے ہوئے 8 فروری 2024 کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کرانے پر زور دیا ہے، اتحاد نے واضح کیاکہ اپوزیشن مذاکرات کے لیے ہر وقت تیار ہے۔
وی نیوز نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ اپوزیشن کے اس اعلامیہ کے بعد کیا اب عمران خان کی رہائی کے کیا امکانات ہیں؟
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی مذاکرات سے قبل اپنے کیے پر دنیا کے سامنے معافی مانگے، وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ
عمران خان کی رہائی کا کوئی امکان نہیں، انصار عباسی
سینیئر تجزیہ کار انصار عباسی نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ جس طرح کا بیانیہ عمران خان اور ان کی پارٹی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بنا رہی ہے رہائی کا تو کوئی امکان نہیں ہے۔ آئندہ سال تو کیا آئندہ کئی سالوں میں بھی عمران خان کی جیل سے باہر آنے کی امید نظر نہیں آ رہی۔
انصار عباسی نے کہاکہ تحریک تحفظ آئین پاکستان نے تو مذاکرات کے لیے ہر وقت تیار رہنے کی بات کی ہے لیکن عمران خان نے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کو ہدایت کی ہے کہ وہ اسٹریٹ موومنٹ کا آغاز کریں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ عمران خان ابھی بات چیت کے لیے تیار نہیں ہیں۔
انہوں نے کہاکہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف اور مولانا فضل الرحمان مذاکرات بڑھانے کے لیے کردار ادا کریں، لیکن کیا پی ٹی آئی محمود خان اچکزئی کہ یہ بات مانے گی یا وہ عمران خان کی اسٹریٹ موومنٹ کی بات مانیں گے، میرے خیال میں نا تو عمران خان کی رہائی ہونے جا رہی ہے اور نہ ہی کوئی مذاکرات ہوتے نظر آرہے ہیں۔
انصار عباسی نے کہاکہ مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ عمران خان اور ان کے بیانات ہیں، اگرچہ کچھ بہتر ہو سکتا ہے اور مذاکرات کا ماحول بن سکتا ہے، لیکن اس کے لیے عمران خان اور پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا کو فوج مخالف مہم اور فیلڈ مارشل کے خلاف ذاتی تنقید سے پیچھے ہٹنا ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ جو لوگ اس طرح کی مہم چلاتے ہیں جب تک ان کی مذمت نہیں کی جاتی تب تک بات آگے نہیں بڑھے گی، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ اس کے بعد بھی معاملات کچھ بہتر ہو سکتے ہیں، اگر پی ٹی آئی فوری عمران خان کی رہائی یا کچھ اور حاصل کرنا چاہتی ہے تو ایسا کچھ ہوتا ابھی نظر نہیں آ رہا۔
اپوزیشن بات چیت کے لیے تیار لیکن اب حکومت کے تیور بدل گئے، احمد ولید
سینیئر تجزیہ کار احمد ولید نے کہاکہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کی کانفرنس کے ذریعے اپوزیشن نے تو اعلان کر دیا ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں لیکن حکومت اس وقت تیار نظر نہیں آرہی۔
انہوں نے کہاکہ ماضی میں حکومت مذاکرات کی دعوت دے دیتی تھی اور اپوزیشن مذاکرات نہیں کرتی تھی لیکن اس سب میں سب سے اہم عمران خان کا فیصلہ ہے۔
’کیا عمران خان اپوزیشن کو مذاکرات کا مکمل اختیار دیں گے کیونکہ عمران خان کے جو ٹوئٹ آتے ہیں اس میں وہ واضح طور پر کہتے ہیں کہ وہ چور ڈاکوؤں اور حکومت کے ساتھ مذاکرات نہیں کریں گے کیونکہ ان کے پاس اختیار نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے ان سے مذاکرات کرنے ہیں جن کے پاس طاقت ہے یعنی کہ اسٹیبلشمنٹ، لیکن وہ مذاکرات فی الحال کسی صورت ممکن نظر نہیں آ رہے۔‘
احمد ولید نے کہاکہ عمران خان کی رہائی کے امکانات ابھی بہت کم ہیں، ابھی حکومت نے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے پلیٹ فارم سے اپوزیشن اتحاد کے مذاکرات کی بات پر جواب دینا ہے لیکن جو چند دنوں میں عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ سے بیانات سامنے آئے ہیں میرا نہیں خیال کہ حکومت مذاکرات کی اس بات پر کوئی سنجیدہ جواب دے گی۔
انہوں نے کہاکہ جس طرح 9 مئی مقدمات کے فیصلے سنائے جا رہے ہیں اور عمران خان اور بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ ٹو کیس میں سزا سنائی گئی ہے، لگ ایسے رہا ہے کہ دباؤ بڑھایا جا رہا ہے اور ڈھیل کسی صورت نہیں دی جا رہی۔
احمد ولید نے کہاکہ دیگر اپوزیشن تو پہلے بھی کہہ رہی تھی کہ حکومت اور دیگر جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کرنے چاہییں لیکن عمران خان پہلے ہی اس کے خلاف ہیں، تحریک تحفظ آئین پاکستان تو آئین کے تحفظ کی بات کر رہی ہے اور اس کے لیے وہ تو تمام جماعتوں کے ساتھ شروع دن سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔
لگ تو یہی رہا ہے کہ اپوزیشن کو کوئی ریلیف نہیں ملے گا، ماجد نظامی
سینیئر تجزیہ کار ماجد نظامی نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ تحریک تحفظ آئین پاکستان تو باتیں کررہی ہے کہ مذاکرات کے لیے تیار ہے اور شفاف انتخابات کا انعقاد ہونا چاہیے لیکن دوسری جانب سے جس طرح 9 مئی اور دیگر کیسز میں فیصلے سامنے آ رہے ہیں اور حکومت کی جانب سے جو جارحانہ مؤقف اختیار کیا جا رہا ہے اس کو تو دیکھ کر لگتا ہے کہ اپوزیشن کو کوئی بھی ریلیف نہیں ملے گا۔
انہوں نے کہاکہ محمود خان اچکزئی، فواد چوہدری، علامہ ناصر عباس اور دیگر اس طرح کی کوشش کر رہے ہیں کہ کسی طرح تناؤ کم ہو اور حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات اگے بڑھیں لیکن مجھے فی الحال ایسا کچھ ہوتا نظر نہیں آ رہا، نہ ہی ریاستی ادارے تحریک انصاف کے لیے کوئی نرمی برتنا چاہتے ہیں۔
ماجد نظامی نے کہاکہ پی ٹی آئی کی جانب سے نہ تو عوامی سطح پر اور نہ ہی پارلیمنٹ کے ذریعے کوئی ایسا دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ عمران خان کی رہائی کے بارے میں سوچا جائے۔
’ایک سال میں پی ٹی آئی نے اپنی طاقت کھو دی‘
انہوں نے کہاکہ گزشتہ سال 24 نومبر سے پہلے ہونے والے مذاکرات اس لیے مختلف تھے کیونکہ اس وقت پی ٹی آئی کی اسٹریٹ پاور بہت زیادہ تھی اور ہزاروں پی ٹی آئی کارکنان کا اسلام اباد کی جانب مارچ کا خطرہ تھا اس لیے پی ٹی آئی کو کچھ ریلیف آفر کیا جا سکتا تھا لیکن گزشتہ ایک سال میں کوئی ایسا عوامی دباؤ پیدا نہیں کیا گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی مذاکرات نہیں کرے گی، یہ بات طے ہوچکی، سلمان اکرم راجہ
انہوں نے کہاکہ اس وقت حکومت کی پارلیمنٹ میں اور پارلیمنٹ کے باہر گرفت مضبوط ہو چکی ہے، اس لیے ریاستی ادارے اور حکومت اس وقت عمران خان کو کسی قسم کا ریلیف دینے میں سنجیدہ نظر نہیں آ رہے۔













