پاکستان انڈر 19 کرکٹ ٹیم کے منیجر اور مینٹور سرفراز احمد نے کہا ہے کہ پاکستان کی انڈر 19 کرکٹ ٹیم نے بھارت کے خلاف شاندار کامیابی حاصل کرکے ملک کا نام روشن کیا ہے۔ کرکٹ میں سپورٹس مین اسپرٹ رکھنا لازمی ہے، اور بھارتی ٹیم کا رویہ کھیل کے حوالے سے بالکل اچھا اور اخلاقی نہیں تھا۔ بھارت کی غیر اخلاقی حرکتیں ان کا ذاتی فعل ہیں اور اس سے پاکستان کی ٹیم کی محنت یا کارکردگی پر کوئی اثر نہیں پڑا۔
اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہماری ٹیم نے بہترین کارکردگی دکھائی اور یہ کامیابی ٹیم ورک کا نتیجہ ہے۔ 2017 کی طرح موجودہ ٹیم میں بھی بہترین ہم آہنگی دیکھنے کو ملی۔ ہماری مینجمنٹ نے ہر وقت کھلاڑیوں کے ساتھ کھڑے رہنے کا اعتماد دیا اور کھلاڑیوں نے بھی اس اعتماد کو لے کر شاندار کھیل پیش کیا۔ ہمارا میسج یہ تھا کہ اس کھیل کو ایسا کھیلو کہ یہ یادگار بن جائے۔
آئندہ بھی ٹیم محنت اور لگن سے کھیلتی رہے گی، کپتان فرحان یوسف
ٹیم کے کپتان فرحان یوسف نے بھی پریس کانفرنس میں کہا کہ جب کل ٹیم کا ویلکم کیا گیا تو خوشی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ بھی ٹیم محنت اور لگن سے کھیلتی رہے گی اور سب کی دعائیں ٹیم کے ساتھ تھیں، اسی وجہ سے کامیابی ملی۔
ٹیم کا مقصد صرف ٹرافی جیتنا نہیں بلکہ شائقین کرکٹ کے دل جیتنا بھی تھا، ہیڈ کوچ شاہدانور
ہیڈ کوچ شاہدانور نے بتایا کہ 17 جون سے 70 کھلاڑیوں میں ٹیلنٹ ہنٹ کا سلسلہ شروع کیا گیا، ہر کھلاڑی کو چار، چار میچز کھیلنے کا موقع دیا گیا اور بہترین پرفارمنس دکھانے والے کھلاڑیوں کو آخری کیمپ میں مدعو کیا گیا۔ آخری کیمپ کراچی میں منعقد ہوا جس میں سابق کرکٹرز نے بھی شرکت کی۔ شاہدانور نے کہا کہ ٹیم کا مقصد صرف ٹرافی جیتنا نہیں بلکہ شائقین کرکٹ کے دل جیتنا بھی تھا۔
مزید پڑھیں:چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے انڈر 19 ایشیا کپ کے ہیرو سمیر منہاس کو بڑی خوشخبری سنادی
خود پر اعتماد رکھتے ہوئے اننگز کھیلی، جس کا نتیجہ کامیابی کی صورت میں ملا، سمیر منہاس
ٹیم کے اہم کھلاڑی بلے باز سمیر منہاس نے اپنی اننگز کے بارے میں کہا کہ انہوں نے نیچرل کھیل پر توجہ دی اور جارحانہ انداز اپنایا۔ انہوں نے بتایا کہ مینجمنٹ نے کہا بغیر ڈرے کھیلیں اور انہوں نے خود پر اعتماد رکھتے ہوئے ایک بہترین اننگز کھیلی، جس کا نتیجہ کامیابی کی صورت میں نکلا۔
سرفراز احمد اور ٹیم کے کھلاڑیوں نے واضح کیا کہ یہ کامیابی محض انفرادی نہیں بلکہ مکمل ٹیم ورک، محنت، اعتماد اور صحیح حکمت عملی کا نتیجہ ہے، اور آئندہ بھی وہ یہی معیار برقرار رکھیں گے۔













