مذاکرات کی بات کرنے والوں کو عمران خان کا ساتھی نہیں کہا جا سکتا، علیمہ خان

پیر 22 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان ملک کی اکثریتی آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں، جبکہ مذاکرات کی بات کرنے والے افراد ان کے ساتھ نہیں اور نہ ہی انہیں ان کا قریبی ساتھی کہا جا سکتا ہے۔

راولپنڈی کی انسداد دہشتگردی عدالت کے باہر اپنے وکیل فیصل ملک کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے تحریک تحفظ آئین کی کانفرنس کے اعلامیے سے لاعلمی کا اظہار کیا۔

مزید پڑھیں: اپوزیشن اتحاد کا مذاکرات کے لیے تیار رہنے کا اعلان، کیا اس مؤقف پر عمران خان کی رہائی ممکن ہوسکے گی؟

انہوں نے کہاکہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ کیس میں 17، 17 سال قید کی سزا سنائی گئی، جبکہ مریم نواز کی جانب سے توشہ خانہ سے حاصل کی گئی گاڑی کے معاملے پر آج تک کوئی واضح جواب سامنے نہیں آیا، جو قانون کے ساتھ مذاق کے مترادف ہے۔

علیمہ خان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے گزشتہ برس 22 نومبر کو پُرامن احتجاج کی اپیل کی تھی اور ان پر الزام صرف یہ ہے کہ انہوں نے یہ پیغام عوام تک پہنچایا۔

انہوں نے کہاکہ ان کے خلاف پولیس اہلکاروں کو بطور گواہ پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ جھوٹی گواہی دینے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی، جس سے انصاف کا نظام سوالیہ نشان بن چکا ہے۔

’عمران خان ہمیشہ قانون کی بالادستی کی بات کرتے رہے ہیں‘

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان ہمیشہ قانون کی بالادستی کی بات کرتے رہے ہیں، لیکن جو جج رول آف لا کی بات کرے، اسے دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

علیمہ خان نے توشہ خانہ کیس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہاکہ الزام صرف یہ ہے کہ ایک ہار کی قیمت کم لگوائی گئی، جس پر 17 سال قید کی سزا دی گئی، جبکہ دیگر معاملات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

علیمہ خان کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان نے حالیہ پیغام میں کہا ہے کہ وہ قوم کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان گزشتہ اڑھائی سال سے جیل میں ہیں، انہوں نے ہمیشہ مقدمات کا سامنا کرنے کی بات کی اور ملک چھوڑنے کی پیشکش کو بھی مسترد کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ غلط فیصلے دینے والے بعض ججز ملک سے باہر چلے جاتے ہیں، ان کے نام یاد رکھے جائیں گے۔

انہوں نے الزام عائد کیاکہ انسداد دہشتگردی عدالت کے ججز بھی کسی منصوبے کے تحت کام کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

’عمران خان کا پیغام میڈیا تک پہنچانے پر میرے خلاف کیس بنا دیا‘

علیمہ خان نے بتایا کہ انہوں نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کا پیغام میڈیا تک پہنچایا تھا اور اس حوالے سے صحافیوں کو گواہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو 11 کتابیں بھجوائی گئی تھیں، جن میں سے 9 انہیں موصول ہو چکی ہیں۔

علیمہ خان نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے اسٹریٹ موومنٹ سے متعلق خیبرپختونخوا کی قیادت کو ہدایات جاری کی ہیں۔

مزید پڑھیں: حکومت سے مذاکرات کے لیے تیار، سیاسی قیدی رہا اور نئے الیکشن کرائے جائیں، اپوزیشن اتحاد

اس موقع پر علیمہ خان کے وکیل فیصل ملک ایڈووکیٹ نے کہا کہ 26 نومبر کے مقدمے میں علیمہ خان کے خلاف کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ عدالت میں بریت کی درخواست دائر کر دی گئی ہے، تاہم درخواست کے باوجود گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔ فیصل ملک کا کہنا تھا کہ یہ تمام مقدمات سیاسی انتقام پر مبنی ہیں اور استغاثہ علیمہ خان کے کیس کو غیر معمولی تیزی سے چلانا چاہتا ہے، جبکہ عدالتوں سے انصاف کی امید ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مودی مخالف ویڈیوز پر میٹا انڈیا کے سربراہ کے خلاف مقدمہ درج

فیفا بحران تیز: ورلڈ کپ میں نجی سرمایہ کاری کے منصوبے پر اعلیٰ مشیر مستعفی

بلوچستان: سورینج کوئلہ کان 34 خاندانوں کے چراغ گل کرچکی، 2 مزدوروں کی تلاش جاری

پی سی بی کا نیا ورک لوڈ سسٹم فاسٹ بولرز کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا، نسیم شاہ

یوکرین جنگ کے بعد خلا میں عسکری سرگرمیوں پر عالمی خدشات بڑھ گئے

ویڈیو

پاکستان میں اچھی حکمرانی کے لیے انتظامی ری سیٹ کی ضرورت ہے تو ہو جانی چاہیے، ڈی جی آئی ایس پی آر

دہشتگردی سے متاثرہ افراد کے معاوضوں میں بڑا اضافہ، بلوچستان حکومت نے نئی مالی امدادی پالیسی نافذ کر دی

حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے پر تاریخی معاہدہ، غزہ سے اسرائیلی انخلا اور نئی فلسطینی حکومت کی راہ ہموار، صدر ڈونلڈ ٹرمپ

کالم / تجزیہ

پاکستان کویت شراکت داری کا نیا دور

نئے صوبوں کی حمایت کیوں؟

’جیسا پہلے کبھی نہ دیکھا گیا‘