حال ہی میں سائنسدانوں نے بلیک ہول میں مادے کے گرنے کے عمل کو کامیابی کے ساتھ ماڈل کیا ہے جو بلیک ہولز کے مطالعے میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 10 کھرب سورجوں جتنی روشنی، اب تک کا سب سے طاقتور بلیک ہول دھماکا دریافت
یہ تحقیق انسٹی ٹیوٹ فار ایڈوانسڈ اسٹڈی اور فلیٹیرن انسٹی ٹیوٹ کے سینٹر فار کمپیوٹیشنل ایسٹرو فزکس کی ٹیم نے کی جنہوں نے دنیا کے سب سے طاقتور سپر کمپیوٹرز کا استعمال کرتے ہوئے بلیک ہول میں مادے کے بہاؤ کے حساب کتاب کے نتائج بتائے۔
یہ ماڈل رئیل دنیا کے ٹیلی اسکوپ کے مشاہدات سے بھی مطابقت رکھتا ہے۔
تحقیق کے اہم نکات
یہ پہلا موقع ہے جب بلیک ہول اکریشن کے سب سے اہم طبیعی عمل کو درست طور پر ماڈل کیا گیا۔
تحقیق میں خاص طور پر ستارے کے ماس والے بلیک ہولز پر توجہ دی گئی جو سورج کے تقریباً 10 گنا بڑے ہوتے ہیں۔
یہ بلیک ہولز وقت کے لحاظ سے تیزی سے بدلتے ہیں (منٹوں اور گھنٹوں میں( جس سے سائنسدان ریئل ٹائم تبدیلیاں دیکھ سکتے ہیں۔
مزید پڑھیے: بلیک ہول کی فعالیت کا مشاہدہ پہلی بار عکس بند
نئے ماڈل نے دکھایا کہ مادہ کس طرح اندر کی طرف گھومتا ہے اور بلیک ہول کے گرد بلیک ہول کے گرد بے ترتیب (ہلچل والے) اور تابکاری سے غالب شدہ ڈسکس بنتی ہیں۔
ماڈل میں شدید ہوائیں بھی دیکھی گئیں جو طاقتور جھکڑوں کی تشکیل میں مدد دیتی ہیں۔
مستقبل کی تحقیق کے لیے اثرات
یہ ماڈل صرف چھوٹے بلیک ہولز تک محدود نہیں ہے بلکہ سپر ماسوِو بلیک ہولز اور ان کے ذریعے کہکشاؤں کی تشکیل کو سمجھنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
مستقبل میں اس تحقیق سے یہ بھی معلوم ہو سکتا ہے کہ مختلف درجہ حرارت اور کثافت میں تابکاری کس طرح مادے کے ساتھ تعامل کرتی ہے۔
مزید پڑھیں: دمدار ستارہ اٹلس تھری آئی سورج کے قریب پہنچنے والا ہے، انکشاف
ٹیم کے رکن جیمز اسٹون کے مطابق اس پروجیکٹ کی خاص بات یہ ہے کہ ایک طرف پیچیدہ نظاموں کو ماڈل کرنے کے لیے جو ریاضی اور سافٹ ویئر تیار کیا گیا اس میں بہت وقت اور محنت لگی اور دوسری طرف دنیا کے سب سے بڑے سپر کمپیوٹرز پر اس کا حساب کتاب ممکن ہوا۔
بلیک ہول کیا ہوتا ہے؟
بلیک ہول ایک ایسا فلکی جسم ہے جس کی کشش ثقل بہت زیادہ ہوتی ہے کہ روشنی بھی اس سے باہر نہیں نکل سکتی یعنی ایک بار اگر کوئی چیز بلیک ہول کے قریب آ جائے تو وہ واپس نہیں جا سکتی۔
یہ بھی پڑھیے: سورج کی تسخیر: انسان 25 دسمبر کو کونسا معرکہ سر کرنے والا ہے؟
یہ (بلیک ہول) اس وقت بنتا ہے جب ایک بہت بڑے ستارے کی زندگی ختم ہوتی ہے اور وہ اپنے اندر سکڑ کر انتہائی گھنے اور کم حجم والے نقطے میں تبدیل ہو جاتا ہے، جسے سنگلرٹی کہتے ہیں۔
بلیک ہول کے گرد ایک ایونٹ ہورائزن ہوتا ہے جو ایک حد کی طرح کام کرتا ہے جس سے اندر جانے والا کچھ بھی واپس نہیں آ سکتا۔
مزید پڑھیں: ناسا نے سورج کی سرگرمیوں کی پیشگوئی کے لیے مصنوعی ذہانت کا سہارا لے لیا
اس کے ارد گرد مادہ اکثر چکر لگاتے ہوئے ڈسک کی شکل میں جمع ہوتا ہے کہتے ہیں۔ یہ مادہ بہت زیادہ گرمی اور روشنی پیدا کرتا ہے جس کی وجہ سے سائنسدان دور دراز کے ٹیلی سکوپ سے اسے دیکھ سکتے ہیں اور اس کے بارے میں معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔














