پاکستانی یوٹیوبر ڈکی بھائی کو ایک بار پھر قانونی محاذ پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے، مقامی عدالت نے ان کے ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ضبط شدہ گیجٹس کی تحویل سے متعلق درخواست مسترد کر دی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو نے ڈکی بھائی کی درخواست پر فیصلہ سنایا۔ ڈکی بھائی نے اپنے موبائل فونز، یوٹیوب چینل اور دیگر سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی بحالی اور تحویل مانگی تھی، تاہم عدالت نے یہ اشیا مزید تفتیش کے لیے فی الحال سرکاری تحویل میں رکھنے کا حکم دیا۔
یہ بھی پڑھیے: جیل سے رہائی کے بعد پہلے وی لاگ سے کتنی آمدنی ہوئی، یوٹیوبر ڈکی بھائی کا بڑا انکشاف
تاہم عدالت نے تفتیش کے دوران ضبط کی گئی 19 دیگر اشیا ڈکی بھائی کے حوالے کرنے کا حکم بھی دیا۔ ان اشیا میں بینک کارڈز، قومی شناختی کارڈز، لیپ ٹاپ بیگ اور کیمرا شامل ہیں۔
ادھر ایڈیشنل سیشن جج منصور احمد قریشی نے ڈکی بھائی کی اہلیہ ارووب جتوئی کی عبوری ضمانت میں 6 جنوری تک توسیع کر دی۔ ارووب جتوئی عدالت میں اپنے شوہر کے ہمراہ پیش ہوئیں۔
یہ بھی پڑھیے: ڈکی بھائی نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھا دیے
واضح رہے کہ ڈکی بھائی اور ان کی اہلیہ گزشتہ چند ماہ سے مبینہ طور پر جوئے کی ایپ کی تشہیر کے کیس میں زیرِ تفتیش ہیں۔ 26 نومبر کو 28 سالہ سوشل میڈیا اسٹار کو ضمانتی دستاویزات کی منظوری کے بعد لاہور کی کیمپ جیل سے رہا کیا گیا تھا۔














