سپریم کورٹ نے منشیات کے الزام میں گرفتار ملزم ولید کی درخواست ضمانت مسترد کر دی۔ درخواست ضمانت واپس لینے کی بنیاد پر خارج کی گئی۔
کیس کی سماعت جسٹس نعیم اختر افغان کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کی۔
عدالتی ریمارکس اور دلائل
جسٹس نعیم اختر افغان نے سوال اٹھایا ’ملزم ستمبر میں گرفتار ہوا، اتنی جلدی سپریم کورٹ کیسے آگیا؟‘
ملزم کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ یہ مقدمہ گھریلو جھگڑے پر پولیس کی بد نیتی کی بنیاد پر درج کیا گیا۔ جسٹس نعیم اختر افغان نے پوچھا:
’گھریلو جھگڑے میں پولیس والے کیسے آگئے؟‘
یہ بھی پڑھیے سپریم کورٹ نے توہین مذہب کے ملزم کی ضمانت کیس میں فریقین کو نوٹس جاری کر دیے
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ گھریلو جھگڑا اتنا خطرناک کیسے ہو گیا کہ ہیروئن ڈالی گئی؟
جسٹس نعیم اختر افغان نے مزید ریمارکس دیے کہ گھریلو جھگڑے میں ہزار گرام ہیروئن کون ڈالتا ہے؟
اس پر ملزم کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ملزم پر ہزار گرام ہیروئن اور 120 گرام آئس کا مقدمہ ہے۔ واقعہ کے کوئی پرائیویٹ گواہ نہیں ہیں اور گرفتاری کے وقت کی ویڈیو بھی نہیں بنائی گئی۔
اس پر جسٹس نعیم اختر افغان نے جواب دیا کہ ایسی باتیں ٹرائل میں کی جاتی ہیں، ضمانت میں نہیں۔
عدالتی ہدایات
عدالت نے پولیس کو ہدایت دی کہ اگلی سماعت سے پہلے چالان جمع کروایا جائے۔
ٹرائل کورٹ کو بھی کہا گیا کہ ٹرائل جلد از جلد مکمل کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیے سپریم کورٹ نے نفرت انگیز مواد پھیلانے کے ملزم سید محمد کی ضمانت منظور کرلی
واضح رہے کہ ملزم کے خلاف مقدمہ رواں سال ستمبر میں اسلام آباد پولیس نے درج کیا تھا۔













