وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے مظفرآباد میں طلبہ و طالبات کو لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس خطے کے بزرگوں نے پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے عظیم قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے افواج پاکستان کی مئی میں حاصل ہونے والی کامیابی کے دوران کی گئی دعاؤں کی اہمیت کو اجاگر کیا اور طلبہ کی محنت کو قوم کے لیے روشنی قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں:وزیراعلیٰ پنجاب لودھراں کے تاریخی تعلیمی اجتماع میں طلبہ کے درمیان، لیپ ٹاپ تقسیم
وزیر اعظم نے خطاب میں کہا کہ مجھے بہت فخر ہے کہ اس خطے کے بزرگوں، بھائیوں اور بہنوں نے پاکستان کی ترقی، عظمت اور خوشحالی کے لیے اپنی جانیں قربان کی ہیں۔ ’کشمیر بنے گا پاکستان‘ کے نعرے کو آپ نے ہر وقت اپنی آواز سے فضا میں گونجتے رکھا۔
انہوں نے مئی میں ہونے والی جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس دوران آپ نے افواج پاکستان کے لیے پاکستان بھر کے عوام کے ساتھ تہجد کے وقت اللہ تعالیٰ کے حضور سربسجود ہو کر دعائیں کیں۔ آپ کی آنکھیں نم تھیں اور آپ نے رب ذوالجلال سے افواج پاکستان کی کامیابی کے لیے دعا کی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ یہ دعائیں افواج پاکستان کے لیے ایک روحانی طاقت تھیں، جس سے انہوں نے ہندوستان کو وہ سبق سکھایا جو ساری عمر یاد رہے گا۔
طلبہ کی محنت کو قوم کے لیے روشنی قرار دینا
وزیر اعظم نے مزید کہا کہ آج میں اس دھرتی میں موجود ہوں اور یہاں موجود ان عظیم والدین کے بچوں اور بچیوں کو دیکھ کر میں سمجھتا ہوں کہ آپ کی شبانہ روز محنت نہ صرف آپ کے والدین، آپ کی ذات اور آپ کے اساتذہ کے لیے ہے بلکہ پوری قوم کے لیے بھی۔ آپ اس محنت کے ذریعے ایک درخشندہ ستارہ ہیں۔
لیپ ٹاپ ایک وژن ہے، نہ کہ مشین
آج جن بچوں اور بچیوں کو لیپ ٹاپ ملے ہیں، وہ صرف اور صرف اپنی محنت کی بدولت حاصل ہوئے ہیں۔ بعض بچوں کے والدین کے پاس شاید اتنے وسائل بھی نہ ہوں، مگر انہوں نے اپنی شبانہ روز محنت سے، اپنا پیٹ کاٹ کر، یہ کامیابی حاصل کی، اور آج پوری قوم اس بات کے معترف ہے۔
During Youth Laptop Scheme 2025 ceremony in Azad Jammu and Kashmir, a student presented Prime Minister Shehbaz Sharif with his portrait as a gift.#PakistanConnect pic.twitter.com/DKrPhM6Tdu
— Pakistan Connect (@Pak_Connect) December 24, 2025
وزیر اعظم نے کہا کہ یہ لیپ ٹاپ کوئی مشین نہیں ہے بلکہ ایک وژن ہے۔ جب کووڈ نے پورے پاکستان میں یلغار کی، اس وقت بھی لیپ ٹاپ کے ذریعے جن بچوں کو میرٹ پر یہ دیے گئے، نہ صرف ان کا روزگار جاری رہا بلکہ انہوں نے لیپ ٹاپ کے ذریعے تعلیم بھی حاصل کی۔
افشین زاہد کی مثال اور بچوں کی کامیابیاں
جو لوگ اس وقت طعنہ دیتے تھے کہ یہ رشوت ہے، میں کہتا ہوں کہ اگر یہ رشوت ہوتی تو آج آپ ڈاکٹر یا انجینئر نہیں بن سکتے تھے۔ آج آپ نے دیکھا کہ قوم کے عظیم بیٹیاں اور بیٹے اپنے واقعات کے ذریعے یہ ثابت کر رہے ہیں۔
اس میں افشین زاہد، جو یہاں موجود ہیں، ایک آؤٹ اسٹینڈنگ چائلڈ ہیں۔ انہوں نے زندگی کے اندھے تھپیڑوں کا بڑی ہمت سے مقابلہ کیا، اور ان کے والدین، بھائی اور بہنوں نے ان کو ہمت دی۔ آج دیکھیں کہ وہ ایک اسپیشل چائلڈ ضرور ہیں، لیکن خدا تعالیٰ نے انہیں وہ فیکلٹیز دی ہیں جو شاید میرے اور آپ میں بھی نہیں ہیں، اور انہوں نے انہیں بروئے کار لا کر اپنا نام بلند کیا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ اگر لیپ ٹاپ رشوت ہوتی، تو یہ بچی جو آج اللہ تعالیٰ کے کرم سے ایک ممتاز مقام رکھتی ہیں، یہ بچے اور بچیاں جو سامنے بیٹھے ہیں، ان سب کو آپ نے سنا۔ یہ محنت اور محنت کا نتیجہ ہے، اور میں آپ کو بلا خوف تردید کہہ سکتا ہوں کہ جو لیپ ٹاپ آج تک تقسیم ہوئے، جب میں پنجاب میں تھا اور میرے بڑے بھائی وزیراعظم پاکستان تھے، انہوں نے بھی لاکھوں لیپ ٹاپ تقسیم کیے، مگر ایک لیپ ٹاپ بھی سفارش کے ساتھ نہیں دیا گیا۔ یہ محنت کی عظمت ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں آج آپ کو یہ پیغام دے رہا ہوں کہ وفاق نے دانش سکول کی بنیاد اسی لیے رکھی، کیونکہ پاکستان اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے، حضرت قائداعظم کی عظیم قیادت اور لاکھوں مسلمانوں کی قربانیوں کے نتیجے میں معرض وجود میں آیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ حضرت قائداعظم اور علامہ اقبال کی آنکھوں میں جو خواب تھا، وہ یہ تھا کہ لاکھوں لوگ اس خواب کو اپنی آنکھوں میں بچائے رکھیں۔ انہوں نے خون کے دریا عبور کیے، راستے میں لاکھوں لوگ شہید ہوئے، ماؤں کے آنچل پھٹے، مگر وہ یہی خواب اور امید لے کر پاکستان آئے کہ وہاں محنت، امانت اور دیانت سکہ رائج الوقت ہوگا، کوئی سفارش یا دھاندلی نہیں ہوگی، اور محنت کے ذریعے ہر فرد کو معاشرے میں اپنا مقام حاصل کرنے کے بھرپور مواقع ملیں گے۔ اس موقع پر انہوں نے علامہ اقبال کے درج ذیل اشعار پڑھے:
تمنّا آبرو کی ہو اگر گلزارِ ہستی میں
تو کانٹوں میں اُلجھ کر زندگی کرنے کی خو کر لے
نہیں یہ شانِ خودداری، چمن سے توڑ کر تجھ کو
کوئی دستار میں رکھ لے، کوئی زیبِ گلو کر لے













