پنجاب اسمبلی نے پنجاب ریگولیشن آف کائٹ فلائنگ بل 2025 کثرتِ رائے سے منظور کر لیا۔ اس قانون کا مقصد صوبے میں پتنگ بازی کو انسانی جان اور املاک کے تحفظ کے لیے مؤثر طور پر ریگولیٹ کرنا ہے۔
بل کے تحت دھاتی تار، نائلون ڈور اور کیمیکل یا شیشہ لگی مانجھے سے بنی ڈور پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ بغیر اجازت پتنگ اڑانے، بنانے، ذخیرہ کرنے اور فروخت کرنے پر سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔
بل کے مطابق حکومتی قوانین کے خلاف پتنگ بازی کرنے پر 3 سے 5 سال قید، 20 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی۔ جبکہ پتنگ اور ممنوعہ ڈور کی تیاری یا فروخت پر 5 سے 7 سال قید یا 50 لاکھ روپے جرمانہ عائد ہوگا۔
یہ بھی پڑھیے لاہور میں بسنت کا 3 روزہ تہوار 6 سے 8 فروری 2026 تک منعقد ہوگا، عظمیٰ بخاری کی تصدیق
بچوں کی جانب سے خلاف ورزی کی صورت میں جووینائل جسٹس سسٹم ایکٹ 2018 کے تحت کارروائی کی جائے گی، جبکہ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں والدین یا سرپرست سے بطور واجب الادا رقم وصول کرنے کا اختیار بھی قانون میں شامل ہے۔
قانون کے تحت یہ جرم ناقابلِ ضمانت اور قابلِ گرفتاری قرار دیا گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر کو مخصوص دنوں اور مقامات پر مشروط پتنگ بازی کی اجازت دینے کا اختیار حاصل ہوگا، تاہم اجازت یافتہ پتنگ بازی کے دوران موٹر سائیکل سواروں کے لیے حفاظتی اقدامات لازم ہوں گے۔
اجازت یافتہ پتنگ اور سوتی ڈور کی تیاری و فروخت کے لیے رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی ہے، جبکہ بغیر رجسٹریشن سامان فروخت کرنے پر ایک سے 5 سال قید یا جرمانہ ہو سکتا ہے۔ پولیس کو بغیر وارنٹ گرفتاری کا اختیار بھی دے دیا گیا ہے۔
بل کے تحت پولیس کو تلاشی اور سامان ضبط کرنے کا اختیار حاصل ہوگا، اور کارروائی کا مجاز افسر سب انسپکٹر یا اس سے بالا رینک کا ہوگا۔ حکومت دیگر اداروں کو بھی گرفتاری اور تلاشی کے اختیارات دے سکے گی۔
یہ بھی پڑھیے: پنجاب میں 25 سال بعد بسنت کی خوشیاں واپس، اب تیوہار مکمل طور پر محفوظ ہوگا
قانون میں پتنگ بازی ایسوسی ایشنز کی رجسٹریشن اور منسوخی کا باقاعدہ طریقہ کار طے کیا گیا ہے، جبکہ خلاف ورزی پر رجسٹریشن منسوخ کرنے کا اختیار ڈپٹی کمشنر کو حاصل ہوگا۔ اپیل کا حق مجسٹریٹ، ڈپٹی کمشنر اور کمشنر کی سطح پر دیا گیا ہے۔
بل میں خلاف ورزی کی اطلاع دینے والے مخبر کو 5 ہزار روپے تک انعام دینے کی شق بھی شامل کی گئی ہے۔ نیا قانون پنجاب پروہیبیشن آف کائٹ فلائنگ آرڈیننس 2001 کو منسوخ کرتا ہے اور حکومت کو قواعد، ضوابط اور گائیڈ لائنز جاری کرنے کا مکمل اختیار فراہم کرتا ہے۔














