2025 میں پاکستان کی کن اہم شخصیات کی وفات ہوئی؟

جمعرات 25 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سال 2025 پاکستان کے لیے فن، ادب، سیاست اور کھیل کے مختلف شعبوں میں گہرے دکھ اور ناقابلِ تلافی نقصانات کا سال ثابت ہوا۔ اس برس ملک نے اپنی کئی نمایاں اور معتبر شخصیات کو کھو دیا۔ وہ آوازیں، فنکار، رہنما اور کھلاڑی جنہوں نے دہائیوں تک پاکستان کی ثقافتی، فنی اور سماجی زندگی کو اپنے کام سے روشن رکھا۔ ریڈیو اور ٹی وی کی وہ دلکش آوازیں خاموش ہوگئیں۔

اسٹیج اور اسکرین کے منور چہرے ماند پڑ گئے، کھیلوں کے میدان اپنے درخشاں ستاروں سے محروم ہوگئے اور سیاست میں بردبار قیادت کا ایک اور چراغ بجھ گیا۔ ان عظیم ہستیوں کی رخصتی نے نہ صرف اپنے اپنے شعبوں میں خلا چھوڑا بلکہ ان لاتعداد یادوں اور وراثتوں کو بھی امر کردیا جو ہمیشہ پاکستان کی تاریخ میں زندہ رہیں گی۔

مزید پڑھیں: یادوں کے ’سات رنگ‘ اور یاسمین طاہر کی آواز کا جادو

2025 میں دنیا سے رخصت ہونے والی ان شخصیات میں کون کون شامل ہے؟ آئیے ہم آپ کو بتاتے ہیں۔

یاسمین طاہر

یاسمین طاہر پاکستان کی درخشاں آواز، نامور اداکارہ، اسکرپٹ رائٹر اور ادبی شخصیت تھیں۔ 19 جولائی 2025 کو لاہور میں طویل علالت کے بعد 88 برس کی عمر میں وفات پا گئیں۔

وہ کئی دہائیوں تک ریڈیو ڈراموں، تعلیمی و معلوماتی پروگراموں اور فیچر پروڈکشنز کا اہم حصہ رہی ہیں۔ ان کی آواز نہ صرف ریڈیو سننے والوں کے لیے پہچان بن گئی تھی بلکہ وہ اپنے دلنشیں لہجے، منفرد اداکاری اور شائستہ زبان کے باعث نئی نسل کے لیے بھی ایک معتبر مثال تھیں۔

انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز کم عمری میں ریڈیو سے کیا اور جلد ہی اُن گنی چنی آوازوں میں شمار ہونے لگیں جنہوں نے پاکستانی نشریات کی بنیادوں کو مضبوط کیا۔

ان کے مشہور ریڈیو ڈراموں، مکالموں اور فیچرز کو آج بھی کلاسک حیثیت حاصل ہے۔ وہ کہانی نویسی اور اسکرپٹ رائٹنگ میں بھی خاص مہارت رکھتی تھیں، اور متعدد یادگار پروگرام انہی کے قلم سے نکلے۔

یاسمین طاہر نے اپنے فنی سفر میں نہ صرف ریڈیو بلکہ ٹی وی اور اسٹیج پر بھی کام کیا۔ علم و ادب سے گہری وابستگی کے باعث انہوں نے نوجوان آرٹسٹس اور لکھاریوں کی رہنمائی بھی کی۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں مختلف اداروں نے انہیں کئی اعزازات سے نوازا۔

ان کے انتقال سے ریڈیو پاکستان اور ادبی و فنی دنیا ایک معتبر، نفیس اور پروفیشنل آواز سے محروم ہوگئی ہے۔ ان کی یادیں، ان کے کام، الفاظ اور آواز کی صورت میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔

عائشہ خان

اداکارہ عائشہ خان جو پاکستانی ٹیلی ویژن کی نہ صرف معروف بلکہ انتہائی محترم اور مقبول اداکارہ تھیں۔ جون 2025 میں کراچی میں انتقال کر گئیں۔ ان کی لاش گلشنِ اقبال والے فلیٹ سے ملی، اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق موت قدرتی وجوہات کی بنا پر ہوئی۔

ان کی وفات نے شوبز حلقے اور مداحوں میں غم کی لہر دوڑا دی، کیونکہ وہ نہ صرف اپنی اداکاری کے لیے جانی جاتی تھیں بلکہ ایک پُراثر اور مہذب شخصیت کے طور پر بھی پہچانی جاتی تھیں۔

عائشہ خان نے اپنے فنی کیریئر کا آغاز 1964 میں ریڈیو پاکستان سے کیا، جہاں انہوں نے اپنی نرمی اور دلکش انداز سے سامعین کو متاثر کیا۔

بعد ازاں انہوں نے ٹی وی ڈراموں میں قدم رکھا اور اپنی محنت، لگن اور بے مثال اداکاری کے ذریعے ایک مضبوط مقام بنایا۔ ان کے مشہور ڈراموں میں ’آفشان‘، ’عروسا‘، ’فیملی 93‘، ’شام سے پہلے‘، ’بندھن‘ اور ’مہندی‘ شامل ہیں، جن میں ان کی اداکاری کو ہمیشہ سراہا گیا۔

عائشہ خان کو پی ٹی وی کے سنہری دور کی اہم اور اثر انگیز اداکاراؤں میں شمار کیا جاتا تھا، اور انہوں نے اپنے کرداروں کے ذریعے معاشرتی مسائل، خاندانی رشتوں اور انسانی جذبات کی عکاسی بہترین انداز میں کی۔

وہ اپنے رویے اور سادگی کے سبب بھی مداحوں کے دلوں میں خاص مقام رکھتی تھیں۔ ان کا انتقال نہ صرف ان کے قریبی عزیزوں بلکہ پورے شوبز اور ٹی وی ناظرین کے لیے ایک بڑا صدمہ تھا۔ ان کی یادیں اور کام آج بھی پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری میں ایک روشن مثال کے طور پر زندہ ہیں۔

حمیرا اصغر علی

مشہور پاکستانی اداکارہ، ماڈل اور تھیٹر آرٹسٹ حمیرا اصغر علی 8 جولائی 2025 کو کراچی کے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (فیزVI) میں اپنے کرائے کے فلیٹ میں مردہ حالت میں پائی گئیں۔

ان کی لاش گلی سڑی حالت میں ملی، جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ ان کی وفات ممکنہ طور پر اکتوبر 2024 میں ہوئی تھی (قریباً 8 سے 10 ماہ قبل)۔ لاش کی دریافت کرایہ کی عدم ادائیگی پر عدالت کے حکم پر فلیٹ خالی کرانے کے دوران ہوئی۔

حمیرا اصغر علی نے اپنے کیریئر کا آغاز کالج کے دنوں میں رافی پیر تھیٹر سے کیا اور بعد میں فیشن انڈسٹری میں ماڈلنگ کی۔ وہ کئی پاکستانی ڈراموں میں نظر آئیں، جن میں بے نام، جسٹ میریڈ، چل دل میرے، صراط مستقیم (لالی)، گرو، اور احسان فراموش شامل ہیں۔

انہیں اے آر وائی ڈیجیٹل کے ریئلٹی شو تماشہ سے خاص شہرت ملی۔ فلموں میں انہوں نے جلیبی (2015) میں ماڈلنگ رول اور ایک تھا بادشاہ (2016) میں مرکزی کردار ادا کیا۔

وہ 2018 سے کراچی میں اکیلی رہائش پذیر تھیں اور آخری سوشل میڈیا پوسٹ ستمبر 2024 میں کی۔ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کوئی زہریلی چیز نہیں ملی، لیکن مشکوک حالات کی وجہ سے عدالت نے قتل کا مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا اور تحقیقات جاری رہیں۔

11 جولائی 2025 کو لاہور کے ماڈل ٹاؤن قبرستان میں ان کی تدفین کی گئی۔

ان کی رخصتی نے شوبز انڈسٹری میں تنہائی، ذہنی دباؤ اور خواتین کے مسائل پر بحث چھیڑ دی۔ وہ ایک محنتی اور زندگی سے بھرپور فنکارہ تھیں، جن کی اداکاری اور شخصیت کو مداحوں نے سراہا۔ ان کی یادیں ان کے کرداروں اور کام کی صورت میں زندہ رہیں گی، جو پاکستانی ڈرامہ اور فیشن کی دنیا میں ایک خاص مقام رکھتی ہیں۔

سلیم ناظم

راؤ سلیم ناظم، سابق قومی ہاکی اولمپئن، 7 مئی 2025 کو فیصل آباد میں دل کا دورہ پڑنے سے 70 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔

وہ 1976 کے مانٹریال اولمپکس میں کانسی کا تمغہ جیتنے والی پاکستانی ہاکی ٹیم کے نمایاں کھلاڑی تھے۔ 1970 اور 1980 کی دہائیوں میں انہوں نے پاکستان ہاکی کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا اور متعدد بین الاقوامی ٹورنامنٹس میں ملک کی نمائندگی کی۔

کھیل سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی وہ کوچ، امپائر اور منتظم کے طور پر قومی کھیل کے فروغ کے لیے سرگرم رہے، جبکہ نوجوان کھلاڑیوں کی تربیت میں ان کی خدمات خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔

راؤ سلیم ناظم کو نہ صرف میدان میں ان کی فنی مہارت بلکہ ان کی دیانتداری، شرافت اور کھیل سے گہری وابستگی کے باعث بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔

روشن دین جونیجو

روشن دین جونیجو سینیئر پاکستانی سیاستدان اور سابق رکنِ قومی اسمبلی تھے، جو 15 ستمبر 2025 کو اسلام آباد میں دل کے دورے کے باعث 74 برس کی عمر میں وفات پا گئے۔

وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے فعال رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے اور اپنے حلقے سانگھڑ کی نمائندگی کرتے ہوئے کئی بار قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔

انہوں نے پارلیمنٹ میں قانون سازی، ترقیاتی منصوبوں اور اپنے حلقے کے اہم مسائل کے حل کے لیے بھرپور کردار ادا کیا۔ روشن دین جونیجو نرم گفتار، ملنسار اور اصول پسند سیاست دان کے طور پر جانے جاتے تھے، اور ان کی عوامی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ ان کا حلقے کے لوگوں سے قریبی تعلق تھا۔

ان کی وفات پر سیاسی و سماجی حلقوں نے گہرے رنج کا اظہار کیا اور انہیں ایک مخلص رہنما کے طور پر خراجِ تحسین پیش کیا۔

انور علی

ممتاز پاکستانی مزاحیہ اداکار، اسٹیج اور ٹیلی ویژن کے لیجنڈ انور علی یکم ستمبر 2025 کو لاہور میں طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ وہ کئی ماہ سے فالج، پھیپھڑوں اور گردوں کی بیماریوں اور دل کے عارضے میں مبتلا تھے۔

آخری دنوں میں حالت بگڑنے پر انہیں اسپتال میں داخل کیا گیا، جہاں آئی سی یو میں ایک دن بعد وہ اللہ کو پیارے ہو گئے۔

انور علی کی وفات کی خبر پھیلتے ہی مداحوں، ساتھی فنکاروں اور شوبز شخصیات کی طرف سے تعزیتوں کا سیلاب آ گیا۔ سوشل میڈیا پر انہیں ایک عاجز، مہربان اور بے مثال فنکار قرار دیا گیا، جن کی رخصتی نے پاکستانی تھیٹر اور مزاح کے ایک دور کا خاتمہ کردیا۔

لاہور میں پیدا ہونے والے انور علی نے 1970 کی دہائی میں پنجابی اسٹیج سے کیریئر شروع کیا اور مستنا، بابو برال اور افتخار ٹھاکر جیسے لیجنڈز کے ساتھ کام کرتے ہوئے لاہور کے تھیٹر کو نئی بلندیوں پر پہنچایا۔ ان کی تیز طرار مزاح اور سماجی تبصرے کی وجہ سے وہ جلد ہی شائقین کے دل جیت گئے۔

ٹی وی پر ان کے یادگار ڈراموں میں ’سونا چاندی‘، ’جنجال پورہ‘، ’نشانی‘ (1979) اور ’خدا بخش‘ (1989) شامل ہیں، جبکہ ’خبرناک‘ (2010) جیسے کامیڈی شو میں ان کی موجودگی ناظرین کے لیے خاص کشش رہی۔

انہوں نے 500 سے زیادہ اسٹیج ڈراموں اور 100 سے زیادہ ٹی وی پروڈکشنز میں کام کیا اور پاکستانی فلموں میں بھی معاون کرداروں سے داد سمیٹی۔

انہوں نے پی ٹی وی کے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سمیت متعدد اعزازات حاصل کیے اور نئی نسل کے کامیڈینز کی رہنمائی بھی کی۔

آخری برسوں میں شوبز سے کنارہ کشی اختیار کرکے سماجی اور دینی کاموں میں مصروف رہے۔ انور علی کو ہمیشہ ایک ثقافتی آئیکن کے طور پر یاد کیا جائے گا، جنہوں نے مزاح کے ذریعے عام آدمی کے دکھ درد کو بیان کیا اور ہنسی کے ذریعے زندگی کو آسان بنایا۔

ان کی رخصتی پاکستانی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں ایک ناقابلِ تلافی خلا چھوڑ گئی ہے، لیکن ان کا کام اور یادیں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔

بینہ مسرور

بینہ مسرور پاکستان کی ایک جانی مانی ٹیلی ویژن اداکارہ، مصنفہ اور ڈائریکٹر تھیں، جنہوں نے اپنے فن اور تحریروں کے ذریعے پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کو نئی جہتیں عطا کیں۔

ان کا جنم 29 جنوری 1958 کو حیدرآباد میں ہوا، اور انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز 1980 کی دہائی میں ریڈیو اور ٹی وی سے کیا، جہاں ان کی گہری اداکاری اور معاشرتی مسائل پر مبنی اسکرپٹس نے جلد ہی توجہ حاصل کی۔

بینہ مسرور نے متعدد مشہور ڈراموں میں مرکزی اور معاون کردار ادا کیے، جن میں ’دل بنجارا‘، ’آنگن‘ اور ’بیٹیاں‘ سرفہرست ہیں، جہاں انہوں نے خاندانی رشتوں، خواتین کے حقوق اور سماجی ناہمواریوں کو بڑے فنکارانہ انداز میں پیش کیا۔

وہ نہ صرف اداکارہ تھیں بلکہ ایک ہنر مند رائٹر اور ڈائریکٹر بھی، جن کی تحریریں پاکستانی ٹی وی کے سنہری دور کی بنیاد بنیں۔ ان کے ڈراموں نے ناظرین کو جذباتی طور پر جکڑ لیا، اور ان کی کردار بازی کو ہمیشہ تنقیدی پذیرائی ملی۔ بینہ مسرور کا بیٹا، اداکار اور اسکرپٹ رائٹر پراس مسرور، بھی انڈسٹری کا حصہ ہے، جس سے ان کی فنکارانہ وراثت مزید مضبوط ہوئی۔

وہ نوجوان لکھاریوں اور اداکاراؤں کی رہنمائی میں بھی سرگرم رہیں، اور ان کی خدمات نے پاکستانی ویمن انڈسٹری کو تقویت دی۔

بینہ مسرور کی وفات 3 دسمبر 2025 کو 67 سال کی عمر میں ہوئی، جو پاکستان کی تفریحی دنیا کے لیے ایک بڑا صدمہ تھی۔ وفات کی جگہ کی تصدیق شدہ تفصیلات دستیاب نہیں، لیکن خاندان کے ذرائع کے مطابق یہ کراچی میں پیش آئی، جہاں وہ مقیم تھیں۔

وجہ کی کوئی واضح تفصیل سامنے نہیں آئی، البتہ یہ قدرتی اور اچانک ہوئی، جس کی خبر ان کے بیٹے پراس مسرور نے انسٹاگرام پر شیئر کی۔ ان کی وفات پر شوبز حلقوں اور مداحوں نے گہرے رنج کا اظہار کیا، اور انہیں ایک متاثر کن فنکارہ اور ماں کے طور پر یاد کیا گیا۔ ان کی تخلیقات اور اداکاری آج بھی پاکستانی ڈراموں کی ایک روشن مثال ہیں، جو نسلوں تک زندہ رہیں گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

جنگ بندی کے بعد روسی حملے پر امریکا یوکرین میں کثیرالملکی فورس کی تعینانی کی حمایت کرے گا

لاہور، کراچی اور اسلام آباد کے ایئرپورٹس آؤٹ سورس کرنے کی منظوری دے دی گئی

مذاکرات موجودہ پارلیمنٹ کو ختم کرنے کے لیے ہوں گے، محمود اچکزئی، اسمبلیوں سے استعفوں کا بھی عندیہ

کراچی اوپن اسکواش: پہلا دن پاکستانی کھلاڑیوں کے نام رہا

آئی پی ایل سے نکالے گئے بنگلہ دیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کا پی ایس ایل کھیلنے کا فیصلہ

ویڈیو

ڈنکے کی چوٹ پر آپریشن ہوگا، ڈی جی آئی ایس پی آر کا خیبرپختونخوا حکومت کو سخت جواب

خیبر پختونخوا میں دہشتگردوں کو سازگار ماحول میسر ہے، وزیراعلیٰ کا بیانیہ کھل کر سامنے آگیا، ڈی جی آئی ایس پی آر

مذاکرات صرف میڈیا کی زینت ہیں، کوئی حقیقی پیشرفت نہیں، وزیردفاع خواجہ آصف

کالم / تجزیہ

وینزویلا کی’فتح‘ کے بعد، دنیا کا نقشہ کیا بنے گا؟

منو بھائی کیوں یاد آئے؟

ہم نے آج تک دہشتگردی کے خلاف جنگ کیوں نہیں جیتی؟