لاہور یونیورسٹی میں طالب علم کی خودکشی: واقعہ کب اور کیسے پیش آیا؟

جمعرات 25 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

یہ افسوسناک واقعہ یونیورسٹی آف لاہور کے مرکزی کیمپس میں 19 دسمبر کی صبح تقریباً 10 بجے پیش آیا۔ فارمیسی ڈیپارٹمنٹ کے طالب علم محمد اویس کو بتایا گیا کہ اس کی کلاس حاضری کم ہے، جس کے باعث وہ امتحان نہیں دے سکے گا۔ محمد اویس نے موقع پر موجود یونیورسٹی انتظامیہ سے کہا کہ اسے ایک موقع دیا جائے، تاہم اسے امتحان میں بیٹھنے سے روک دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:خود کشی کرنے والے ایس پی عدیل اکبر کی میڈیکل رپورٹ اور چھٹی کی درخواست منظر عام پر

اہل خانہ کے مطابق محمد اویس نے اساتذہ کو بتایا کہ اگر امتحان میں نہ بیٹھنے دیا گیا تو اس کا سمسٹر ضائع ہو جائے گا، لیکن اس کی بات نہیں سنی گئی۔ اس صورتحال سے دلبرداشتہ ہو کر محمد اویس یونیورسٹی کی تیسری منزل پر گیا اور وہاں سے چھلانگ لگا دی۔

محمد اویس سلطان کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آئی ہے، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ پہلے نیچے دیکھتا ہے اور پھر آنکھیں بند کر کے چھلانگ لگا دیتا ہے۔ اسے فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔

اہل خانہ کا مؤقف

محمد اویس سلطان کے بھائی محمد صہیب سلطان نے یونیورسٹی انتظامیہ اور اساتذہ پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اویس کو اساتذہ کی جانب سے ذہنی دباؤ کا سامنا تھا۔ ان کے مطابق ایک مضمون میں حاضری کم ہونے پر اویس نے اساتذہ سے درخواست کی کہ اسے ایک موقع دیا جائے اور آئندہ ایسی غلطی نہیں ہو گی، مگر اس کی بات نہیں سنی گئی۔

محمد صہیب سلطان کے مطابق اویس کو یقین ہو گیا تھا کہ اس کا سمسٹر ضائع ہو جائے گا، جس کے باعث وہ شدید دلبرداشتہ ہو گیا اور اس نے انتہائی قدم اٹھا لیا۔

محمد اویس کے والد علی رزاق کے کہنے پر پولیس نے مقدمہ درج نہیں کیا۔ تھانہ نواب ٹاؤن پولیس نے قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد لاش اہل خانہ کے حوالے کر دی۔

طلبہ کا ردِعمل

واقعے کے فوری بعد یونیورسٹی آف لاہور کے طلبہ نے کیمپس میں شدید احتجاج کیا۔ طلبہ نے ’اویس کو انصاف دو‘ اور ’جسٹس فار اویس سلطان‘ کے نعرے لگائے اور یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف مظاہرہ کیا۔

ساتھی طلبہ کے مطابق اویس کو کلاس میں حاضری کم ہونے پر مبینہ طور پر تذلیل اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا، جسے وہ برداشت نہ کر سکا۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ کلاس سے باہر آنے کے بعد اویس نے خودکشی کی، جبکہ واقعے کے وقت یونیورسٹی میں ایک فیسٹیول بھی جاری تھا۔

یہ بھی پڑھیں:خود کشی کرنے والے امریکی اداکار جیمز رینسن کی اہلیہ کی مالی امداد کی اپیل

دوسری جانب یونیورسٹی انتظامیہ نے الزامات کی تردید کی ہے۔ ترجمان یونیورسٹی کے مطابق اویس سلطان کا فیس سے متعلق کوئی مسئلہ نہیں تھا، تاہم یونیورسٹی قوانین کے تحت اس کی حاضری کم تھی، جس کے باعث اسے کلاس میں بیٹھنے سے روکا گیا۔

پولیس کا مؤقف

پولیس کے مطابق اویس سلطان نے خودکشی کی ہے۔ ایس ایچ او نواب ٹاؤن کا کہنا ہے کہ واقعے سے متعلق آنے جانے اور گرنے کی ویڈیوز موجود ہیں۔ پولیس نے ضابطہ 174 کے تحت کارروائی مکمل کرنے کے بعد لاش اہل خانہ کے حوالے کر دی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور مزید قانونی کارروائی ضابطے کے مطابق جاری ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

تیکناف سرحد سے گرفتار تمام 53 افراد کیمپوں میں مقیم روہنگیا مہاجر نکلے، بنگلہ دیشی سرحدی فورسز

کوئٹہ: سرکاری ملازمین کی احتجاجی تحریک کا دوسرا مرحلہ شروع، 15 جنوری کو لاک ڈاؤن کا اعلان

امریکی قبضہ کسی صورت برداشت نہیں کریں گے، گرین لینڈ کا دوٹوک مؤقف

پیپلزپارٹی کا احتجاج: حکومت نے اسپیشل اکنامک زونز ترمیمی آرڈیننس واپس لے لیا

بنگلہ دیش کی سخت شرائط کے تحت غزہ بین الاقوامی فورس میں شمولیت پر آمادگی

ویڈیو

کیا ونڈر بوائے آ رہا ہے؟ پی ٹی آئی کی آخری رسومات ادا

ٹھیلے سے ریسٹورنٹ تک، سوشل میڈیا کے بل بوتے پر کامیابی کی انوکھی کہانی

’باادب بامراد‘: شاگردوں کا استاد کے لیے بے مثال احترام، گاڑی بطور تحفہ پیش کردی

کالم / تجزیہ

ہیرا ایک ہی ہے

’نہیں فرازؔ تو لوگوں کو یاد آتا ہے‘

تحریک انصاف کا دشمن کون؟