اسلامی اندولان کے سربراہ کی طرف سے طارق رحمان کی واپسی کا خیرمقدم، مثبت سیاسی تبدیلی کی توقع

جمعرات 25 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلامی اندولان بنگلہ دیش کے امیر، مفتی سید محمد رضاول کریم المعروف پیر صاحب چرمنائی نے بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (بی این پی) کے قائم مقام چیئرمین طارق رحمان کی ملک واپسی کا خیرمقدم کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اس سے ملک کے سیاسی منظرنامے پر مثبت اثر پڑے گا۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ملک سیاسی غیر یقینی کی صورتحال کا شکار رہا ہے، خاص طور پر اس وقت جب بی این پی جیسی بڑی جماعت اپنے اعلیٰ قیادت سے محروم تھی۔ طارق رحمان کی واپسی سے یہ خلا شاید آخرکار پر ہو جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے: طارق رحمان کی 17 سال بعد بنگلہ دیش واپسی، پُر جوش استقبال

پیر صاحب چرمنائی نے طارق رحمان کے طویل عرصے تک بیرون ملک قیام کے حالات پر بھی روشنی ڈالی۔ ‘ان کی 17 سال بعد واپسی ہمیں انتقامی سیاست کی سخت حقیقت یاد دلاتی ہے۔ انہیں سیاسی انتقام کا شکار بن کر جلاوطن رہنا پڑا۔ جولائی کے بعد کی صورتحال کے بعد ہمیں یقینی بنانا چاہیے کہ انتقامی سیاست ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے۔’

طارق رحمان کے مستقبل کے منصوبے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اسلامی اندولان کے سربراہ نے کہا کہ امید ہے کہ یہ منصوبہ جمہوری اقدار کو مضبوط کرنے اور آمرانہ رجحانات کو ختم کرنے پر مرکوز ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش کے عام انتخابات اور ریفرنڈم کی تاریخ کا حتمی اعلان ہوگیا

انہوں نے مزید کہا کہ رحمان نے یہ بھی اشارہ دیا کہ وہ سیاسی تبدیلی کے بعد بھی غیر واضح وجوہات کی بنا پر ملک سے باہر رہے۔ ‘یہ ناقابل قبول ہے کہ ایک قومی سیاسی رہنما کی واپسی کسی اور کے کنٹرول میں نظر آئے’، انہوں نے زور دیا کہ اس طرح کی صورتحال کو اجتماعی طور پر روکا جائے۔ انہوں نے بی این پی سے مطالبہ کیا کہ وہ عوام کے سامنے یہ مسائل واضح کرے۔

پیر صاحب چرمنائی نے دہرایا کہ اسلامی اقدام بنگلہ دیش شفاف سیاست چاہتا ہے اور توقع رکھتا ہے کہ تمام جماعتیں بشمول بی این پی ایک ایسا ماحول قائم کرنے کے لیے کام کریں جو خوف، انتقام اور دھڑے بندی سے پاک ہو۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp