سال 2025 پاکستان کی مالیاتی تاریخ کا سب سے دلچسپ سال ثابت ہوا، جہاں کے ایس ای-100 انڈیکس نے نہ صرف بلندیوں کے نئے مینار کھڑے کیے بلکہ عالمی سیاسی و معاشی حالات کی وجہ سے چند بڑے کریشز کا سامنا بھی کیا۔
جنوری تا مارچ 2025 پاکستان اسٹاک مارکیٹ کا گولڈن پیریڈ تھا اور اس دوران اسٹاک کو ریکارڈ بلندی ملی، انڈیکس 85,000 سے بڑھ کر 1,10,000 پوائنٹس کی سطح عبور کر گیا، شرح سود میں کمی اور سعودی عرب کی جانب سے ریفائنری منصوبے میں بڑی سرمایہ کاری کے معاہدوں پر دستخط نے مارکیٹ کو ‘بُل رن’ میں بدل دیا۔
یہ بھی پڑھیے: دسمبر کے پہلے سیشن میں اسٹاک مارکیٹ کا مضبوط آغاز، اہم سیکٹرز میں خریداری
اپریل کے مہینے میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جس نے پی ایس ایکس کو بھی لپیٹ میں لے لیا اور 4,500 پوائنٹس کمی ریکارڈ کی گئی۔ مئی میں پاک بھارت جنگ کے دوران اسٹاک نے ریکارڈ مندی دیکھی، جولائی 2025 میں پیش ہونے والی وفاقی بجٹ کے بعد انڈیکس نے ایک بار پھر 1,30,000 کی حد عبور کی۔
10 اکتوبر سے 30 نومبر 2025 انڈیکس نے ملکی تاریخ میں پہلی بار 1,65,000 پوائنٹس کا نفسیاتی سنگ میل عبور کیا۔ مجموعی طور پر سال 2025 سرمایہ کاروں کے لیے منافع بخش رہا، تاہم عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں اور سیاسی عدم استحکام نے وقفے وقفے سے مارکیٹ کو دباؤ کا شکار بھی کیا۔
یہ بھی پڑھیے: دسمبر کے پہلے سیشن میں اسٹاک مارکیٹ کا مضبوط آغاز، اہم سیکٹرز میں خریداری
سال 2025 میں پی ایس ایکس نے عالمی سطح پر بہترین کارکردگی دکھانے والی مارکیٹوں میں اپنی جگہ برقرار رکھی۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ میں نمایاں کمی ہوئی جو 22% سے کم ہو کر 10.50 % پر آگئی ہے جس کی وجہ سے سرمایہ کار اپنا سرمایہ بینکوں سے نکال کر اسٹاک مارکیٹ کی طرف راغب ہوئے۔
معاشی ماہر سلمان نقوی کے مطابق اس وقت حکومتی اقدامات اور آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے سمیت اقتصادی اصلاحات نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا، بینکنگ، سیمنٹ، اور توانائی کے شعبوں میں ریکارڈ منافع دیکھا گیا، جس نے مارکیٹ کو اوپر لے جانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیے: اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، انڈیکس میں 500 پوائنٹس کا اضافہ
سلمان نقوی کے مطابق اسٹاک مارکیٹ نے سال 2025 میں جس تیزی سے ریکارڈ بنائے شاید یہ تیزی 2026 میں نا ہو لیکن اسٹاک مارکیٹ آگے بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ پاکستان کے ریزروز 20 بلین ڈالرز کو پہنچ چکے ہیں جو بمشکل 2 سے 3 ارب ڈالر تھے، امپورٹ کا کور بل 3 مہینے کا ہے، کرنٹ اکاونٹ مستقل سرپلس میں آرہا ہے، ٹریڈ ڈیفیسٹ آرہا ہے لیکن اسے کنٹرول کیا جا رہا ہے معیشت جب بہتر ہورہی ہوتی ہے تو امپورٹ بڑھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس بار کمپنیاں 3 سے 4 بلین پاکستانی مارکیٹ سے منافع لے چکی ہیں، پاکستان میں اب ایسی کمپنیوں کی تعداد 17 تک پہنچ گئی ہے جن کی مارکیٹ مالیت 1 ارب ڈالر سے زائد ہے۔
معاشی ماہر شہریار بٹ کا کہنا ہے کہ اس سال کے آغاز سے ہی ہم نے دیکھا کہ جہاں ملک کے دیوالیہ ہونے کی باتیں گردش میں تھیں تو وہیں حکومتی پالیسیوں کے پیش نظر نا صرف ہمارے ریزروز میں اضافہ ہوا بلکہ ساتھ ہی اسٹاک ایکسچینج تیزی سے آگے بڑھی ایک وقت تھا جب پاک بھارت جنگ چھڑ چکی تھی جس کی وجہ سے اسٹاک مارکیٹ نے ریکارڈ مندی دیکھی اور وہیں ہم نے دیکھا کہ جب امن کا معاہدہ طے پایا تو ایک بار پھر ریکارڈ تیزی دیکھنے میں آئی۔ ایسے ہی ہم نے دیکھا کہ ایک مذہبی جماعت کی جانب سے احتجاج نے اسٹاک پر منفی اثرات مرتب کیے لیکن بعد میں حالات بہتر ہونے کے باعث تیزی دیکھی گئی۔
یہ بھی پڑھیے: اسٹاک ایکسچینج میں تیزی برقرار، انڈیکس 172000پوائنٹس سے تجاوز کرگیا
شہریار بٹ کے مطابق مالیاتی اداروں لائن سیکیورٹیز اور ٹورس سیکیورٹیز کی پیش گوئیوں کے مطابق 2026 مزید بڑے اہداف کا سال ہو سکتا ہے، اندازہ ہے کہ کے ایس ای-100 انڈیکس دسمبر 2026 تک 2,03,000 سے 2,06,000 پوائنٹس کی سطح کو چھو لے۔
شہریار بٹ کو توقع ہے کہ 2026 میں تقریباً 16 نئی کمپنیاں اسٹاک ایکسچینج میں لسٹ ہوں گی، جو کہ گزشتہ کئی سالوں کے مقابلے میں سب سے بڑی تعداد ہوگی۔ 2026 تک مارکیٹ کے لین دین کے نظام کو مزید تیز کرنے کے لیے سودے کے ایک دن بعد ادائیگی کا نظام مکمل طور پر نافذ ہونے کی توقع ہے، جس سے مارکیٹ میں سرمائے کی گردش (Liquidity) بڑھے گی۔
پی آئی اے (PIA) اور دیگر سرکاری اداروں کی نجکاری کے معاملات 2026 میں مارکیٹ کے لیے بڑے ٹرگرثابت ہوں گے۔ پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری اور یورو بانڈز کے اجرا سے غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاری میں بڑے اضافے کا امکان ہے۔













