یوکرین صدارتی انتخاب: زیلنسکی کو سابق آرمی چیف ویلیری زالوزھنی سے بڑی شکست کا خدشہ

جمعہ 26 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کو اگر صدارتی انتخاب میں اپنے سابق اعلیٰ فوجی کمانڈر ویلیری زالوزھنی کا سامنا کرنا پڑے تو انہیں واضح شکست کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

بدھ کے روز شائع ہونے والے سوچس (Socis) سروے کے مطابق، زالوزھنی ممکنہ دوسرے مرحلے کے انتخاب میں بھاری اکثریت سے کامیاب ہو سکتے ہیں۔

زالوزھنی، جو اس وقت برطانیہ میں یوکرین کے سفیر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں، طویل عرصے سے زیلنسکی کے ممکنہ سب سے بڑے سیاسی حریف سمجھے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے امریکی صدر کا یوکرین کو انتخابات کرانے کا مشورہ، زیلنسکی نے مشروط ہامی بھر لی

سروے کے مطابق اگر دونوں رہنما ابتدائی مرحلے میں آمنے سامنے ہوں تو مقابلہ انتہائی کم فرق سے دوسرے مرحلے تک جا سکتا ہے۔

تاہم فرضی دوسرے مرحلے (رن آف) میں 64 فیصد سے زائد ووٹرز نے کہا کہ وہ ویلیری زالوزھنی کو ووٹ دیں گے، جبکہ 20 فیصد سے زیادہ افراد نے واضح طور پر کہا کہ وہ کسی بھی صورت زیلنسکی کو ووٹ نہیں دیں گے۔

سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ تقریباً 21 فیصد ووٹرز آئندہ پارلیمانی انتخابات میں زالوزھنی کی حمایت یافتہ جماعت کو ووٹ دینے کے خواہاں ہیں، جبکہ حکمران جماعت ’سرونٹ آف دی پیپل‘ کو صرف 12 فیصد حمایت حاصل ہے۔

زیلنسکی کی مقبولیت کو حالیہ دنوں میں اس وقت شدید دھچکا لگا جب یوکرین کے توانائی کے شعبے میں سامنے آنے والے ایک بدعنوانی اسکینڈل میں ان کے قریبی ساتھیوں کے ملوث ہونے کے الزامات سامنے آئے۔

سوچس سروے کے مطابق، تقریباً 40 فیصد یوکرینی شہری سمجھتے ہیں کہ زیلنسکی خود بھی اس بدعنوانی میں کسی نہ کسی سطح پر ملوث ہیں۔

یہ بھی پڑھیے یوکرین کا مزاحیہ اداکار ’ولادیمیر زیلنسکی‘ عہدہ صدارت تک کیسے پہنچا؟

ادھر امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی حال ہی میں زیلنسکی پر زور دے چکے ہیں کہ وہ انتخابات کروائیں۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ زیلنسکی جنگ کو بہانہ بنا کر انتخابات مؤخر کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ زیلنسکی کی صدارتی مدت گزشتہ سال مئی میں ختم ہو چکی ہے، تاہم انہوں نے ملک میں نافذ مارشل لا کا حوالہ دیتے ہوئے نئے انتخابات کا اعلان نہیں کیا۔

دوسری طرف روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کا مؤقف ہے کہ مارشل لا انتخابات نہ کرانے کا جواز نہیں بن سکتا اور زیلنسکی کی قانونی حیثیت پر سوالیہ نشان کسی بھی ممکنہ امن معاہدے کو کمزور کر سکتا ہے۔

گزشتہ ہفتے پیوٹن نے یہاں تک کہا تھا کہ اگر یوکرین انتخابات کرانے پر آمادہ ہو جائے تو روس ووٹنگ کے دن یوکرینی سرزمین کے اندر گہرائی تک حملے روکنے پر بھی غور کر سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

گوگل پکسل فون کے ایک فیچر سے کالز لیک ہونے کا خدشہ

نیسلے کا پاکستان میں 60 ملین ڈالر اضافی سرمایہ کاری کا اعلان

الحمرا میں نویں تھنک فسٹ ؛ افکار ِ تازہ کا آغاز

عالمی اقتصادی فورم: وزیرِاعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفینس فورسز سید عاصم منیر عالمی قائدین کی خصوصی توجہ کا مرکز

جاپان میں دنیا کے سب سے بڑے نیوکلیئر بجلی گھر کی بحالی کا عمل ایک بار پھر روک دیا گیا

ویڈیو

خوشبودار و میٹھے آم وہ بھی سردیوں میں، کہروڑپکا کے کاشتکار نے کمال کردیا

کراچی: قدیم بستی صالح آباد کے ماہی گیروں کے سلگتے مسائل

پیپلزپارٹی ہر مرتبہ مخالفین پر جبراً قابو پاکر حکومت بنالیتی ہے، سید حفیظ الدین

کالم / تجزیہ

گل پلازہ کی آگ سے بننے والے دائرے

محمود خان اچکزئی نئے اپوزیشن لیڈر، نیا میثاق جمہوریت ہو گا؟

ہمارے شہر مر رہے ہیں