برطانیہ میں ہرنوں کی بڑھتی تعداد سنگین مسئلہ کیسے بن گئی؟

جمعہ 26 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

برطانیہ میں ہرنوں کی بڑھتی ہوئی آبادی ایک سنگین ماحولیاتی اور معاشی مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔

برطانیہ میں گزشتہ چند دہائیوں میں ہرنوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں سڑکوں پر حادثات، زرعی زمینوں کو نقصان، جنگلات کی تباہی اور قدرتی توازن میں بگاڑ پیدا ہو رہا ہے ۔ شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں ہرنوں کی موجودگی عام ہو چکی ہے، جس سے انسانوں اور جنگلی حیات کے درمیان تصادم بڑھ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: کہوٹہ: ہرن اسمگلنگ کی کوشش ناکام، ملزم گرفتار

اس مسئلے کا سب سے نمایاں پہلو سڑکوں پر ہونے والے حادثات ہیں۔ ہر سال ہزاروں ہرن گاڑیوں کی زد میں آ کر ہلاک یا زخمی ہو جاتے ہیں، جبکہ متعدد افراد بھی ان حادثات میں متاثر ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ کسانوں کو فصلوں کی تباہی کی صورت میں بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے، کیونکہ ہرن نئی فصلوں کو روندتے اور کھاتے ہیں۔

جنگلات میں درختوں کی نئی افزائش بھی شدید متاثر ہو رہی ہے، کیونکہ ہرن ننھی کونپلیں کھا جاتے ہیں جس سے قدرتی جنگلات کا نظام کمزور ہو رہا ہے ۔

یہ بھی پڑھیے: محکمہ جنگلی حیات کا گلیات میں چھاپہ، نایاب جانوروں کی کھالیں، مصنوعات برآمد

ہرنوں کی آبادی میں اضافے کی کئی وجوہات ہیں۔ برطانیہ کا معتدل موسم، کھلا دیہی ماحول اور قدرتی شکاری جانوروں کی عدم موجودگی ہرنوں کے لیے سازگار حالات فراہم کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ گزشتہ برسوں میں ہرنوں کی تعداد کو کنٹرول کرنے کے لیے شکار اور کُلنگ میں کمی بھی ایک بڑی وجہ بنی، خاص طور پر کووِڈ-19 کے دوران یہ عمل نمایاں طور پر کم ہو گیا۔

مزید یہ کہ قانوناً ہرن کسی ایک فرد یا ادارے کی ملکیت نہیں ہوتے، جس کی وجہ سے ان کے انتظام کی ذمہ داری بکھر جاتی ہے اور مؤثر حکمتِ عملی اختیار نہیں کی جا سکی۔ اگر اس مسئلے پر فوری اور مربوط اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں زرعی معیشت، ماحولیاتی تنوع اور عوامی سلامتی کو مزید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ہرنوں کی آبادی کو متوازن سطح پر لانے کے لیے پائیدار اور منظم حل ناگزیر ہو چکے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سعودی عرب: وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی او آئی سی اجلاس میں شرکت

کوہاٹ: لیڈی ڈاکٹر کے قتل کا معمہ حل، 2 ملزمان گرفتار

’ہم محنت کرتے ہیں تاکہ لوگ آنٹی نہ کہیں‘: نادیہ خان

پنجاب: غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کے انخلا کا عمل تیز، 32 ہزار 588 افغان ڈی پورٹ

2025: 7,667 افراد ہجرت کے خطرناک راستوں پر چلتے ہوئے موت کے گھاٹ اتر گئے، اقوام متحدہ

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشن غضب للحق: 133 افغان طالبان کارندے ہلاک، 2 کور ہیڈکوارٹرز سمیت متعدد اہم ترین فوجی مراکز تباہ

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟

روس بھی باقی دنیا کی طرح افغانستان کی صورتحال سے پریشان