انسان مریخ پر کہاں اترے گا؟ جگہ کا تعین ہو گیا

ہفتہ 27 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سائنس دانوں نے ایک بڑی پیش رفت میں مریخ پر انسانوں کے اترنے کے لیے سب سے موزوں مقام کی نشاندہی کر لی ہے، جو سرخ سیارے پر انسانی مشن اور مستقبل کی آبادکاری کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ تحقیق یونیورسٹی آف مسیسیپی کے سائنس دانوں نے کی، جنہوں نے مریخ پر بھیجے گئے اب تک کے سب سے طاقتور کیمرے HiRISE کی مدد سے سطحِ مریخ کی باریک ترین تفصیلات کا مطالعہ کیا۔ اس تحقیق کے نتائج معروف سائنسی جریدے جرنل آف جیوگرافیکل ریسرچ میں شائع ہوئے ہیں۔

تحقیق کے مطابق مریخ کے درمیانی عرض البلد میں واقع خطہ ایمازونِس پلینیشیا (Amazonis Planitia) کو مستقبل کے انسانی مشنز کے لیے سب سے موزوں مقام قرار دیا گیا ہے۔

’گولڈی لاکس زون‘ کیوں اہم ہے؟

سائنس دانوں کے مطابق یہ علاقہ ایک مثالی یا ’گولڈی لاکس زون‘ کی خصوصیات رکھتا ہے، جہاں شمسی توانائی کے لیے مناسب مقدار میں سورج کی روشنی موجود ہے، درجہ حرارت اتنا کم ہے کہ سطح کے قریب پانی کی برف (واٹر آئس) محفوظ رہ سکتی ہے۔ یہ دونوں عناصر انسانی مشن کے لیے نہایت اہم سمجھے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے ’۔۔۔ ہم ہیں تیار چلو‘، ناسا نے چاند پر گاؤں اور مریخ پر قدم جمانے کا وقت بتادیا

تحقیق کی مرکزی مصنفہ اور ماہرِ سیارگیات ایریکا لُوزی کے مطابق اگر ہمیں انسانوں کو مریخ پر بھیجنا ہے تو پانی صرف پینے کے لیے نہیں بلکہ ایندھن، آکسیجن اور دیگر بے شمار ضروریات کے لیے بھی ناگزیر ہے۔

پانی اور آکسیجن: بقا کی کنجی

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ سطح کے قریب موجود پانی کی برف خلا بازوں کو پینے کا پانی، سانس کے لیے آکسیجن اور راکٹ ایندھن تیار کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

تحقیق کے شریک مصنف اور اطالوی خلائی ایجنسی کے اسپیس سائنس ڈیٹا سینٹر سے وابستہ محقق جیاکومو نودجومی نے کہا کہ چاند کے لیے زمین سے رسد لانے میں صرف ایک ہفتہ لگتا ہے، لیکن مریخ کے لیے یہ سفر مہینوں پر محیط ہوتا ہے، اس لیے ہمیں طویل عرصے تک زمین سے مدد کے بغیر رہنے کے لیے تیار ہونا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے ’مریخ پر جینا اور مرنا چاہتا ہوں‘، ایلون مسک کی خواہش

انہوں نے مزید کہا کہ سانس کے لیے آکسیجن اور پینے کے لیے پانی سب سے اہم وسائل ہیں، اور یہی چیز ہمارے منتخب کردہ لینڈنگ مقام کو غیر معمولی طور پر امید افزا بناتی ہے۔

اگلا مرحلہ کیا ہوگا؟

اگرچہ مدار سے حاصل کردہ شواہد مضبوط ہیں، تاہم سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ حتمی تصدیق کے لیے روبوٹک روور یا انسانی مشن کے ذریعے نمونے جمع کرنا ضروری ہوگا، تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ برف واقعی خالص پانی پر مشتمل ہے یا کسی اور مادے کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔

جیاکومو نودجومی کے مطابق ہمارے پاس مضبوط شواہد ہیں کہ یہ پانی کی برف ہے، لیکن جب تک ہم وہاں جا کر براہِ راست پیمائش نہیں کریں گے، ہم سو فیصد یقین سے نہیں کہہ سکتے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت مریخ پر انسانی قدم رکھنے اور مستقل موجودگی کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کی جانب ایک بڑا سنگِ میل ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سعودی عرب میں رمضان: ثقافت، روحانیت اور یکجہتی کو سمجھنے کا بہترین موقع

پاک افغان سرحد پر کشیدگی: چمن میں ایمرجنسی نافذ، طبی مراکز ہائی الرٹ

پنجاب سیف جیلز پراجیکٹ اور ملاقات ایپ کیا ہے؟

افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کا مؤثر جواب، خیبرپختونخوا کے عوام کا افواجِ پاکستان سے اظہارِ یکجہتی

سعودی وزیر خارجہ کا اسحاق ڈار سے رابطہ، پاک افغان کشیدگی پر تبادلہ خیال

ویڈیو

افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کا مؤثر جواب، خیبرپختونخوا کے عوام کا افواجِ پاکستان سے اظہارِ یکجہتی

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشان غضب للحق، کابل سے قندھار تک افغان طالبان کے خلاف کامیاب پاکستانی کارروائی، عالمی طاقتوں کی کشیدگی کم کرنے کی اپیل

کالم / تجزیہ

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟