موجودہ انسانوں کے قریبی رشتہ دار ڈینیسووَن کی شناخت کا معمہ آخرکار کیسے حل ہوگیا؟

ہفتہ 27 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

انسانی ارتقا کا ایک بڑا معمہ، جو 15 سال قبل 60 ہزار سال پرانی انگلی کی ہڈی سے سامنے آیا تھا، بالآخر 2025 میں واضح ہونا شروع ہو گیا ہے۔

 2010 میں ملنے والی اس ہڈی سے حاصل کیے گئے ڈی این اے نے سائنس دانوں کو حیران کر دیا، جب معلوم ہوا کہ انسانوں کی ایک نامعلوم قدیم نسل موجود تھی جو ہمارے آباؤ اجداد ہومو سیپینز سے ملی جلی تھی۔ اس نسل کو سائبیریا کی ڈینیسووَا غار کے نام پر ڈینیسووَن کہا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: اے آئی میں حیاتیاتی مسائل کی سوجھ بوجھ، سائنسدانوں کو زندگی کے ایک اہم راز سے روشناس کرادیا

اگرچہ آج دنیا کے لاکھوں افراد کے ڈی این اے میں ڈینیسووَن کے آثار پائے جاتے ہیں، مگر سائنس دان برسوں تک یہ نہیں جان سکے کہ وہ دکھنے میں کیسے تھے، کہاں رہتے تھے اور کیوں ختم ہو گئے۔ 2025 میں اس راز سے پردہ اٹھنے لگا جب چین کے شہر ہاربن سے ملنے والی ایک قدیم انسانی کھوپڑی جسے پہلے ہومو لانگی یا ‘ڈریگن مین’ کہا گیا، کو جدید تحقیق کے ذریعے ڈینیسووَن سے جوڑ دیا گیا۔

چینی سائنس دانوں نے بتایا کہ اگرچہ کھوپڑی سے براہِ راست ڈی این اے حاصل کرنا ممکن نہ تھا، مگر دانتوں پر جمی ہوئی سخت تہہ (ڈینٹل کیلکولس) سے مائٹوکانڈریل ڈی این اے ملا، جو ڈینیسووَن سے مطابقت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ ہڈیوں میں موجود پروٹینز نے بھی اس تعلق کی تصدیق کی۔

یہ بھی پڑھیے: چترال میں شکار اور جانوروں کے مناظر پر مبنی قدیم ترین چٹانی نقوش دریافت

ماہرین کے مطابق آج کے انسانوں کا یہ قریبی رشتہ دار ڈینیسووَن مضبوط بھنوؤں، بڑے دانتوں اور نسبتاً چپٹی پیشانی کا حامل تھا، تاہم جدید لباس میں وہ آج کے انسان سے زیادہ مختلف نظر نہیں آتا۔ نئی دریافتوں سے چین میں پائے جانے والے دیگر قدیم انسانی فوسلز کی شناخت بھی آسان ہو جائے گی۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ مزید فوسلز اور جینیاتی شواہد سامنے آنے سے 2026 میں انسانی ارتقا سے متعلق مزید حیران کن انکشافات متوقع ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp