بنگلہ دیش کی سابق وزیرِ اعظم اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی چیئرپرسن بیگم خالدہ ضیا کی طبیعت انتہائی تشویشناک ہے، اور ڈاکٹروں کے مطابق ان کی صحت میں بہتری کے کوئی واضح آثار نظر نہیں آ رہے۔
وی نیوز کے نمائندے کے مطابق ایورکیئر ہسپتال ڈھاکہ میں موجود میڈیکل بورڈ نے بتایا ہے کہ بیگم خالدہ ضیا اس وقت بیماری کے ایک نہایت نازک مرحلے سے گزر رہی ہیں۔ آدھی رات کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بی این پی کے سینئر رہنما اور میڈیکل بورڈ کے رکن ڈاکٹر اے زیڈ ایم ظاہر حسین نے کہا کہ خالدہ ضیا کی حالت انتہائی پیچیدہ ہے اور یہ کہنا ممکن نہیں کہ ان کی صحت میں کوئی بہتری آئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:17 سالہ جلاوطنی کے بعد واپسی پر خالدہ ضیا کے بیٹے کی والدہ سے اسپتال میں ملاقات
انہوں نے بتایا کہ خالدہ ضیا 23 نومبر سے ایورکیئر ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔ طبی پیچیدگیاں برقرار رہنے کے باعث انہیں پہلے کیبن سے کورونری کیئر یونٹ منتقل کیا گیا، بعد ازاں حالت مزید نازک ہونے پر انہیں آئی سی یو منتقل کرنا پڑا۔
ڈاکٹر ظاہر حسین کے مطابق خالدہ ضیا کے علاج میں مقامی اور غیر ملکی ماہرین شامل ہیں، جن میں ان کی بہو ڈاکٹر زبیدہ رحمان بھی شامل ہیں جو علاج کی نگرانی میں کردار ادا کر رہی ہیں۔

بی این پی کے قائم مقام چیئرمین طارق رحمان جو 17 برس بعد حال ہی میں بنگلہ دیش واپس آئے ہیں، گزشتہ دنوں 2 مرتبہ اپنی والدہ سے ہسپتال میں ملاقات کر چکے ہیں اور ہر بار کئی گھنٹے ان کے پاس موجود رہے۔
بی این پی قیادت کا مؤقف ہے کہ خالدہ ضیا کو بیرونِ ملک جدید علاج کی ضرورت ہے، تاہم ڈاکٹروں کے مطابق اس وقت ان کی حالت ایسی نہیں کہ وہ فضائی سفر کر سکیں، اسی لیے ان کا علاج بنگلہ دیش ہی میں جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں:خالدہ ضیا کی حالت گردے ناکارہ ہونے کے بعد مزید تشویشناک، وینٹی لیٹر پر منتقل
79 سالہ خالدہ ضیا طویل عرصے سے متعدد بیماریوں میں مبتلا ہیں، جن میں ذیابیطس، گردوں، دل اور پھیپھڑوں سے متعلق پیچیدگیاں شامل ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق ان کے باقاعدہ ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں اور ان کی صحت پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔

بنگلہ دیش کی سیاست کی ایک اہم شخصیت اور دو مرتبہ وزیرِ اعظم رہنے والی خالدہ ضیا، صحت اور قانونی مسائل کے باعث گزشتہ برسوں میں عملی سیاست سے بڑی حد تک کنارہ کش رہی ہیں۔ ان کی تشویشناک حالت نے بی این پی کے کارکنوں اور سیاسی مبصرین میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔













