انقلاب منچ کا بنگلہ دیش کے بڑے شہروں میں مکمل شٹر ڈاؤن کا اعلان

اتوار 28 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

 

بنگلہ دیش میں احتجاجی پلیٹ فارم انقلاب منچ نے کارکن شریف عثمان ہادی کے قتل میں ملوث افراد کی گرفتاری اور ٹرائل کے مطالبے پر اتوار کی دوپہر سے ملک کے بڑے شہروں میں مکمل شٹر ڈاؤن اور ناکہ بندی کا اعلان کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:عثمان ہادی کے قتل میں ملوث کسی فرد کو نہیں بخشا جائے گا، بنگلہ دیش

وی نیوز کے نمائندے کے مطابق انقلاب منچ نے یہ اعلان ہفتے کی شب اپنے سوشل میڈیا پیج کے ذریعے کیا۔ یہ فیصلہ ڈھاکہ کے شاہ باغ چوراہے پر جاری مسلسل دھرنوں کے بعد سامنے آیا۔ ابتدا میں ناکہ بندی صبح کے وقت کرنے کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم ڈھاکہ پولیس اور عبوری حکومت کے حکام کے بیانات کا جائزہ لینے کے بعد اس کا وقت بدل کر دوپہر 2 بجے کر دیا گیا۔

انقلاب منچ کے رہنماؤں نے اپنے خطاب میں کہا کہ شریف عثمان ہادی کے قتل میں ملوث تمام افراد کی نشاندہی اور ان کے خلاف کارروائی تک احتجاج جاری رہے گا۔ انہوں نے حکام کی جانب سے 7 جنوری تک چارج شیٹ جمع کرانے کی یقین دہانی کو مسترد کرتے ہوئے فوری اور عملی پیش رفت کا مطالبہ کیا۔

احتجاج کے دوران ماحولیاتی امور کی مشیر سیدا رضوانہ حسن اور ڈھاکہ میٹروپولیٹن پولیس کے کمشنر شیخ محمد سجاد سمیت اعلیٰ حکام شاہ باغ پہنچے اور مظاہرین کو تحقیقات میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا۔ حکام نے قاتلوں کے خلاف جلد قانونی کارروائی کی یقین دہانی کرائی، تاہم مظاہرین کا کہنا تھا کہ یہ یقین دہانیاں کافی نہیں ہیں۔

حکام کے مطابق اب تک اس قتل کیس میں دس مشتبہ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ واردات میں استعمال ہونے والے ہتھیار اور گاڑیاں بھی برآمد کی گئی ہیں۔ تفتیشی اداروں کا دعویٰ ہے کہ قتل کے پس پردہ نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے میں اہم پیشرفت ہوئی ہے تاہم مرکزی ملزم تاحال فرار ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ڈھاکہ: انقلاب منچ کا حکومت کو عثمان ہادی کے قاتلوں کی 24 گھنٹوں میں گرفتاری کا الٹی میٹم

شریف عثمان ہادی جنہوں نے گزشتہ سال انقلاب منچ کی بنیاد رکھی تھی، سیاسی بالادستی اور غیر ملکی اثر و رسوخ کے خلاف سرگرم تھے۔ انہیں 12 دسمبر کو ڈھاکہ کے پلتن علاقے میں گولی مار دی گئی تھی۔ بعد ازاں علاج کے لیے سنگاپور منتقل کیا گیا، جہاں وہ 18 دسمبر کو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔

جمعے سے ہزاروں افراد شاہ باغ میں دھرنوں میں شریک ہو چکے ہیں، جس کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی اور علاقہ احتجاج کا مرکز بن گیا۔ مظاہروں کے دوران تقاریر، نعرے بازی اور عوامی اجتماعات رات گئے تک جاری رہے۔

انقلاب منچ کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ جب تک قتل میں مکمل انصاف اور ذمہ داران کا احتساب نہیں ہو جاتا، ملک گیر ناکہ بندی اور احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

جدہ میں اہم سفارتی سرگرمیاں، بنگلہ دیشی وزیر خارجہ کی کلیدی ملاقاتیں

سعودی عرب کا غزہ میں قائم کچن، روزانہ 36 ہزار خاندانوں کو کھانا فراہم کرے گا

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

سعودی عرب: وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی او آئی سی اجلاس میں شرکت

کوہاٹ: لیڈی ڈاکٹر کے قتل کا معمہ حل، 2 ملزمان گرفتار

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشن غضب للحق: 133 افغان طالبان کارندے ہلاک، 2 کور ہیڈکوارٹرز سمیت متعدد اہم ترین فوجی مراکز تباہ

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟