2025 کے دوران عالمی ٹیکنالوجی منظرنامے پر امریکی کمپنیوں کی بالادستی برقرار رہی، جہاں مارکیٹ کیپٹلائزیشن کے لحاظ سے سرفہرست اداروں نے غیر معمولی ترقی کا مظاہرہ کیا۔
صنعت سے وابستہ رپورٹس کے مطابق مصنوعی ذہانت (اے آئی)، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور صارف ٹیکنالوجی کی مضبوط طلب اس تیزی کی بنیادی وجوہات رہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ٹرمپ میڈیا اینڈ ٹیکنالوجی گروپ کا گوگل کی حمایت یافتہ کمپنی میں ضم ہونے کا اعلان
این ویڈیا 2025 میں دنیا کی سب سے قیمتی ٹیکنالوجی کمپنی کے طور پر ابھری، جس کی مارکیٹ ویلیو تقریباً 4.4 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی۔ اس نمایاں اضافہ کی بڑی وجہ اے آئی ایکسیلیریٹرز اور ڈیٹا سینٹر جی پی یوز کی بڑھتی ہوئی طلب رہی، جو جنریٹو اے آئی ورک لوڈز کو سہارا دیتے ہیں۔
این ویڈیا کے بعد مائیکروسافٹ اور ایپل سرفہرست رہے، جن کی مالیت 3.6 سے 4 ٹریلین ڈالر کے درمیان رہی۔ ان کمپنیوں کی کامیابی میں کلاؤڈ سروسز، انٹرپرائز سافٹ ویئر میں ترقی اور آئی فون ایکو سسٹم سے حاصل ہونے والی مسلسل آمدنی نے اہم کردار ادا کیا۔
الفابیٹ اور ایمیزون نے بھی ٹاپ فائیو میں اپنی جگہ برقرار رکھی، جہاں ڈیجیٹل اشتہارات، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور ای کامرس نے معاشی اتار چڑھاؤ کے باوجود مضبوط کارکردگی دکھائی۔ میٹا پلیٹ فارمز اے آئی کو سماجی مصنوعات میں شامل کرنے کے باوجود چھٹے نمبر پر رہا۔
یہ بھی پڑھیے: چیٹ جی پی ٹی صارفین کیا تلاش کرتے ہیں؟ اوپن اے آئی کا بڑا انکشاف
سعودی آرامکو مارکیٹ کیپ کے لحاظ سے سب سے بڑی توانائی کمپنی بنی رہی، جسے مستحکم تیل کی قیمتوں اور توانائی کی مضبوط طلب کا سہارا حاصل رہا۔ ٹاپ 10 کی فہرست میں براڈکوم، تائیوان سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کمپنی (TSMC) اور ٹیسلا بھی شامل رہیں، جو سیمی کنڈکٹرز اور الیکٹرک گاڑیوں کے بڑھتے رجحان کی عکاسی کرتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق 2025 میں ترقی کے بڑے محرکات میں اے آئی کا فروغ، کلاؤڈ کمپیوٹنگ کی توسیع اور صارف ٹیکنالوجی کی مستحکم طلب شامل رہی، تاہم ریگولیٹری دباؤ، سپلائی چین مسائل، معاشی غیر یقینی صورتحال اور بڑھتا ہوا مسابقتی ماحول چیلنجز کے طور پر موجود رہے۔













