بگٹی قبائل کے تاریخی اور قبائلی مرکز بیکڑ میں ایک اہم جرگے کا انعقاد کیا گیا جس میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کو متفقہ طور پر چیف آف بگٹی قبائل مقرر کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچوں کو قوم پرستی کے نام پر لاحاصل جنگ میں ڈالا گیا، وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کی پریس کانفرنس
یہ فیصلہ بگٹی قبائل کے تمام بڑے وڈیروں، عمائدین اور معتبرین کی مشاورت سے کیا گیا۔ اس منصب پر اس سے قبل وزیر اعلیٰ کے چچا زاد بھائی وڈیرہ محمد شریف بگٹی فائز تھے جن کی وفات کے بعد یہ عہدہ خالی تھا۔
روایتی پگڑی
جرگے کے فیصلے کے بعد بیکڑ میں تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں میر سرفراز بگٹی کو چیف آف بگٹی قبائل کی روایتی پگڑی پہنائی گئی۔
قبیلے کی تمام شاخوں کی نمائندگی
تقریب میں بگٹی قبائل کی مختلف شاخوں اور ذیلی قبائل کے سربراہان نے شرکت کی جن میں شمبانی، کلپر، موندرانی، پیروزانی، نوتھانی اور ڈومب قبائل کے چیف وڈیرے اور قبائلی معتبرین شامل تھے۔
قبائلی روایات کے مطابق پگڑی پہنانے کی رسم کو قیادت، اعتماد اور اجتماعی ذمہ داری کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
’ دستار ایک امانت ہے‘
اس موقعے پر خطاب کرتے ہوئے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ان کے سر پر رکھی گئی دستار محض ایک اعزاز نہیں بلکہ ایک بڑی امانت اور بھاری ذمہ داری ہے۔
مزید پڑھیے: ریاست کے خلاف بندوق اٹھانے والوں کو جواب دینا ہوگا ، وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی کا سپریم کورٹ بار سے خطاب
بگٹی قبائل کے نئے سربراہ نے کہا کہ میں کبھی بگٹی قوم کو مایوس نہیں کروں گا اور اپنی عوام کی خدمت کر کے اس دستار کا قرض ادا کروں گا۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بگٹی عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔
تعلیم اولین ترجیح قرار
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے بگٹی قبیلے میں تعلیم کی کمی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بگٹی عوام تعلیمی میدان میں پیچھے رہ گئے ہیں اور انہیں تعلیم کی روشنی سے ہم کنار کرنا ان کی اولین ترجیح ہو گی۔
میر سرفراز بگٹی نئے چیف آف بگٹی مقرر#urduinternational #Pakistan #Balochistan #DeraBugti #sarfarazbugti #CMBalochistan #traditionalart pic.twitter.com/2V36yKyQnJ
— URDU INTERNATIONAL (@urduintl) December 29, 2025
انہوں نے کہا کہ تعلیم ہی وہ ذریعہ ہے جس کے ذریعے آنے والی نسلوں کو بااختیار بنایا جا سکتا ہے اور قبائلی معاشرے کو ترقی کی راہ پر ڈالا جا سکتا ہے۔
’بلوچوں کو تصادم کی طرف دھکیلا جا رہا ہے‘
میر سرفراز بگٹی نے موجودہ حالات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ اقوام کو دانستہ طور پر جنگ اور تصادم کی طرف دھکیلا جا رہا ہے تاہم بگٹی قبیلہ امن، ترقی اور آئین کے دائرے میں رہ کر جدوجہد پر یقین رکھتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ہمارا جینا مرنا اس وطن کے ساتھ ہےاور بگٹی قبائل ہمیشہ پاکستان کے استحکام اور سلامتی کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
مزاحمتی عناصر کو قومی دھارے میں شامل ہونے کی پیشکش
انہوں نے پہاڑوں پر موجود بلوچ نوجوانوں اور مزاحمتی عناصر کو قومی دھارے میں شامل ہونے کی پیشکش بھی کی اور کہا کہ مکالمہ، مفاہمت اور ترقی ہی مسائل کا پائیدار حل ہیں نہ کہ تشدد اور تصادم۔
چیف آف بگٹی قبائل کی اہمیت
قبائلی نظام میں چیف آف بگٹی قبائل کا عہدہ غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ قبائلی روایات کے مطابق بگٹی قبائل میں نواب کے بعد چیف آف بگٹیز کو دوسرا سب سے بڑا اور بااثر منصب حاصل ہوتا ہے۔ یہ عہدہ بگٹی قبیلے کے حامل فرد کو قبائلی تنازعات کے حل، اجتماعی فیصلوں، اور قبیلے کی سیاسی و سماجی سمت کے تعین میں مرکزی کردار حاصل ہوتا ہے۔
تجزیہ کاروں کی رائے
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق میر سرفراز بگٹی کا بطور وزیر اعلیٰ بلوچستان اور بطور چیف آف بگٹی قبائل تقرر ایک اہم پیشرفت ہے جو صوبائی سیاست اور قبائلی نظام کے درمیان ایک مضبوط ربط قائم کر سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: بلوچستان میں میرٹ پر بھرتیاں کی جائیں گی، سرفراز بگٹی
اس دوہری حیثیت سے انہیں نہ صرف قبائلی سطح پر بلکہ صوبائی اور قومی سطح پر بھی مؤثر کردار ادا کرنے کا موقع ملے گا جس کے اثرات بلوچستان میں امن، مفاہمت اور ترقی کے عمل پر مرتب ہو سکتے ہیں۔














