رواں مالی سال میں کون سے معاشی اہداف کے حصول میں ناکامی کا سامنا رہا؟

جمعرات 25 مئی 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حکومت کو رواں مالی سال 2022-23 میں بیشتر معاشی اہداف کے حصول میں ناکامی کا سامنا رہا، اس دوران معاشی ترقی کے ہدف میں سب سے نمایاں کمی دیکھی گئی۔

رواں مالی سال کے لیے معاشی ترقی کا ہدف 5 فیصد رکھا گیا تھا جو محض 0.3 فیصد رہا۔ صنعتی ترقی کا ہدف 5.9 فیصد تھا جو صرف 2.9 فی صد رہا۔

اس سال کے دوران زراعت کی ترقی کا ہدف 3.9 فیصد تھا جبکہ 1.55 فیصد سے بڑھ نہ سکا، خدمات کے شعبے میں ترقی کا ہدف 5.1 فیصد تھا تاہم وہ 0.8 فیصد سے زیادہ نہ ہو سکا۔

موجودہ حکومت کو صنعتی شعبے میں بھی ہدف کے حصول میں ناکامی کا سامنا رہا، بڑی صنعتوں میں معاشی ترقی کا ہدف 7.4 فیصد ہونا چاہیے تھا جبکہ ہدف منفی 7.9 فیصد پر پہنچ گیا، جنگلات کی ترقی کا ہدف بھی 4.5 فیصد کے بجائے 3.9 فیصد رہا۔

نیشنل اکاؤنٹس کے مطابق لائیو اسٹاک کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی، ماہی گیری کی شرح نمو 1.4 فیصد رہی، معدنیات کے شعبے کی ترقی کی شرح بڑھنے کے بجائے منفی 4.4 فیصد تک پہنچ گئی۔

مینوفیکچرنگ کی گروتھ منفی 3.9 فیصد اور تعمیرات کے شعبے کی گروتھ منفی 5.5 فیصد رہی تاہم بجلی کی پیداوار میں 6 فیصد تک کا اضافہ ہوا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

روسی ’شیڈو فلیٹ‘ کے خلاف برطانوی کارروائی، بھارتی کپتان کو 10 سال قید کا سامنا

جو روٹ ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ کیچز پکڑنے والے فیلڈر بن گئے

نوجوانوں کی مزاحمت نے مودی کو ’جن زی‘ بننے پر مجبور کردیا، سوشل میڈیا مہم مذاق بن گئی،برطانوی میڈیاکی رپورٹ

ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے ذریعے عالمی نظامِ صحت میں انقلابی تبدیلی کی پیش گوئی کردی

الاسکا میں امریکی فضائیہ کے ریڈار مرکز کے قریب طیارہ تباہ، 8 افراد ہلاک

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘