مغربی ہواؤں کا ایک نیا سلسلہ بلوچستان میں داخل ہو گیا ہے جس کے نتیجے میں صوبے کے مختلف علاقوں میں بارش اور بالائی علاقوں میں برفباری کا آغاز ہو چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملک کے بیشتر علاقوں میں سردی برقرار جبکہ چند مقامات پر ہلکی بارش متوقع
محکمہ موسمیات کے مطابق چمن میں 15 ملی میٹر، جیوانی میں 13 ملی میٹر، کوئٹہ کے علاقے سمونگلی میں 7 ملی میٹر، کوئٹہ کے شہری علاقوں میں 6 ملی میٹر، اورماڑہ میں 3 ملی میٹر، پشین میں 2.5 ملی میٹر، پنجگور میں 2 ملی میٹر، دالبندین میں 1.3 ملی میٹر، قلات میں 1.0 ملی میٹر جبکہ گوادر میں 0.3 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
ادھر ضلع قلعہ عبداللہ، کان مہترزئی، توبہ کاکڑی، چمن، پشین اور مسلم باغ کے بالائی علاقوں میں ہلکی برفباری کا سلسلہ بھی جاری ہے جس کے باعث سردی کی شدت میں اضافہ ہو گیا ہے۔
محکمہ موسمیات کا بتانا ہے کہ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے شمالی اور مشرقی علاقوں میں یکم جنوری تک بارشوں اور بالائی علاقوں میں برفباری جاری رہنے کا امکان ہے۔
واضح رہے کہ بلوچستان گزشتہ 9 ماہ سے شدید بارشوں کی کمی کا شکار رہا ہے۔ اس طویل خشک سالی کے باعث زیر زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک نیچے چلی گئی، کاریزیں اور کنویں خشک ہو گئے، زرعی پیداوار بری طرح متاثر ہوئی اور مویشیوں کو چارے اور پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی علاقوں میں پینے کے صاف پانی کا بحران بھی شدت اختیار کر گیا تھا۔
مزید پڑھیے: بلوچستان میں پہلی بارش و برفباری، پنجاب میں شدید دھند سے موٹرویز بند
وی نیوز سے بات کرتے ہوئے ماہر ارضیات ڈاکٹر دین محمد نے بتایا کہ خشک سالی کے اثرات کم کرنے کے لیے بلوچستان کو آئندہ چند مہینوں میں معمول سے کہیں زیادہ بارش درکار ہے۔
انہوں نے کہا کہ اندازوں کے مطابق زیرِ زمین آبی ذخائر کی بحالی، زراعت کی بہتری اور چراگاہوں کی بحالی کے لیے کم از کم کئی مؤثر بارشوں کے سلسلے درکار ہوں گے کیونکہ ایک یا دو بارشیں طویل عرصے کے نقصانات کا ازالہ نہیں کر سکتیں۔
دین محمد کا کہنا تھا کہ اگر باراں رحمت کی بوندیں آسمان سے نہ برسی تو آئندہ آنے والے سال بھی صوبے میں خشک سالی کا سال ہوگا۔
کسانوں اور مقامی آبادی نے حالیہ بارش کو امید کی کرن قرار دیا ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ اگر آئندہ بھی بارشوں کا تسلسل برقرار رہا تو ہی فصلوں، باغات اور مویشیوں کے حالات بہتر ہو سکیں گے۔
مزید پڑھیں: شدید بارش اور برفباری کی وارننگ، پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور سڑکیں بند ہونے کا خدشہ
محکمہ موسمیات کے مطابق صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور آئندہ دنوں میں مزید بارش اور برفباری کے امکانات موجود ہیں جو اگر مسلسل رہے تو بلوچستان میں جاری خشک سالی کے اثرات کسی حد تک کم ہو سکتے ہیں۔














