چیف آف ڈیفنس فورسز وو فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے فوجی کمان سنبھالنے کے بعد اگر سب سے بڑی کامیابی کو دیکھا جائے جو بحیثیت مجموعی پاکستان ہی کی کامیابی ہے تو وہ 17 ستمبر کو ہونے والا پاک سعودی دفاعی معاہدہ ہے جو پوری دنیا میں نہ صرف زیر بحث رہا بلکہ اب مزید ممالک پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدے کرنے کے خواہاں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی دفاعی معاہدہ، اہم نکات کیا ہیں؟
دسمبر کو سعودی وزیرِدفاع شہزادہ خالد بن سلمان بن عبدالعزیز نے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کو سعودی عرب کے اعلیٰ اعزاز کنگ عبدالعزیر میڈل آف ایکسیلنٹ کلاس سے نوازا۔ یہ میڈل جنرل عاصم منیر کو پاک سعودی تعلقات کی بہتری میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے دیا گیا۔
برطانوی مؤقر جریدے فنانشل ٹائمز نے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کو کثیرالجہتی خارجہ پالیسی کا ماہر قرار دیتے ہوئے انہیں بدلتے ہوئے وقت کا بہترین لیڈر قرار دیا۔
جنرل عاصم منیر نے سال 2025 میں بے پناہ کامیابیاں سمیٹیں لیکن یہ کامیابیاں ان کی ذات سے بڑھ کر ملک و قوم کے لیے بہت مفید ثابت ہوئیں۔
مزید پڑھیے: فیلڈ مارشل عاصم منیر زبردست فائٹرہیں، صدر ٹرمپ کا سیول میں خطاب
اِن کامیابیوں میں سب سے اہم پاک امریکا فوجی تعلقات میں اضافہ بھی ہے جس کا آغاز مارچ 2025 میں ہوا جب پاکستان نے کابل ایبی گیٹ حملے میں ملوّث دہشت گرد کو امریکہ کے حوالے کیا جس کے بعد پاک امریکہ تعلقات میں نہ صرف اعتماد کی فضا بنی بلکہ امریکی کانگریس میں پاکستان کا شکریہ ادا کیا گیا۔
بھارت سے عسکری کشیدگی کے بعد وطن عزیز اور پاک فوج کا دنیا میں مقام بڑھا
مئی 2025 کی پاک بھارت فوجی کشیدگی اور پاک فوج کی زبردست پیشہ ورانہ کارکردگی نے نہ صرف پاک فوج کو اقوام عالم میں بلند مقام سے نوازا بلکہ بحیثیت مجموعی پاکستان کو اقوام عالم میں زبردست پذیرائی ملی۔
10 مئی کو جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت میں جنگ بندی کا اعلان کیا تو اس کے قریباً ایک ماہ بعد 18 جون کو انہوں نے جنرل عاصم منیر کو وائٹ ہاؤس میں ظہرانے کی دعوت دی۔ اس کے بعد 26 ستمبر کو اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس کی سائیڈلائنز پر جنرل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف نے صدر ٹرمپ سے ملاقات کی اور پاکستان کے مائنز اینڈ منرلز شعبے میں سرمایہ کاری کا اعلان کیا۔
مذکورہ ملاقات سے قبل صدر ٹرمپ نے جنرل عاصم منیر کو اپنا فیورٹ فیلڈ مارشل قرار دیا جبکہ مئی کی جنگ کے بعد سے وہ مسلسل بھارتی طیاروں کی تباہی کا ذکر کرتے چلے آ رہے ہیں جو بھارت کے لیے ایک مسلسل اذیت ہے۔
دفاعی سفارت کاری اور بیرونی دورے
سال 2025 کے دوران جنرل عاصم منیر نے متعدد اہم بیرونی دورے کیے جن کا مقصد دفاعی تعاون، علاقائی استحکام اور انسدادِ دہشتگردی میں اشتراک کو فروغ دینا تھا۔
ان دوروں میں امریکا، برطانیہ، سعودی عرب، ایران سمیت خطے اور مشرقِ وسطیٰ کے اہم ممالک شامل تھے جبکہ چین اور خلیجی ریاستوں کے ساتھ عسکری و اسٹریٹجک روابط پر بھی بات چیت آگے بڑھی۔ ان ملاقاتوں میں مشترکہ مشقوں، انٹیلی جنس تعاون، سرحدی سیکیورٹی اور دفاعی تربیت جیسے معاملات زیرِ بحث آئے۔
مزید پڑھیں:
خصوصاً سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون میں پیشرفت اور اعلیٰ سطحی عسکری روابط کو دو طرفہ تعلقات میں اہم سنگ میل قرار دیا ٹرمپ کی ایک بار پھر وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی تعریف، شہباز شریف کو خود خطاب کی دعوت دیگیا۔ اسی طرح امریکا اور برطانیہ کے ساتھ سیکیورٹی ڈائیلاگ نے پاکستان کے کردار کو علاقائی استحکام کے تناظر میں نمایاں رکھا جبکہ ایران کے ساتھ روابط میں سرحدی سلامتی اور باہمی اعتماد سازی پر زور دیا گیا۔
داخلی محاذ: ادارہ جاتی نظم، تیاری اور انسداد دہشتگردی
داخلی سطح پر 2025 میں عسکری قیادت نے آپریشنل تیاری، پیشہ ورانہ معیارات اور کمانڈ اینڈ کنٹرول کے نظام پر توجہ مرکوز رکھی۔
سیکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں سرحدی نظم، انٹیلی جنس کوآرڈینیشن اور کاؤنٹر ٹیررازم اقدامات کو مربوط بنایا گیا۔
عسکری قیادت کی جانب سے یہ پیغام واضح رہا کہ ریاستی سلامتی کے معاملات میں زیرو ٹالرنس اور قانونی فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے کارروائی کی جائے گی۔
علاقائی و عالمی اثرات
جنرل عاصم منیر کی قیادت میں سنہ 2025 کے دوران پاکستان کی دفاعی سفارت کاری کے نتیجے میں علاقائی شراکت داروں کے ساتھ اعتماد سازی میں اضافہ ہوا۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستانی فیلڈ مارشل بہت اہم شخصیت ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کی جنرل عاصم منیر کی پھر تعریف
خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات نے معاشی اور سیکیورٹی دونوں پہلوؤں سے مثبت اثرات مرتب کیے جبکہ مغربی دنیا کے ساتھ رابطوں نے پاکستان کے سیکیورٹی بیانیے کو عالمی فورمز پر جگہ دلائی۔ ماہرین کے مطابق ان روابط نے پاکستان کے لیے اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری کے امکانات اور دفاعی استعداد میں بہتری کے راستے کھولے۔













