خیبر پختونخوا: 4 دہائیوں بعد سوات سرینا ہوٹل بند، وجہ کیا بنی؟

بدھ 31 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بین الاقوامی ہوٹل چین سرینا نے خیبر پختونخوا کے سیاحتی ضلع سوات میں سیاحت کی پہچان سمجھے جانے والے سوات سرینا ہوٹل کو بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق تقریباً 40 برس بعد ہوٹل کی سرگرمیاں ختم کی جا رہی ہیں۔

سرینا ہوٹلز کے ڈائریکٹر سیلز اینڈ مارکیٹنگ عمران حسن کی جانب سے جاری خط میں بتایا گیا ہے کہ سوات سرینا ہوٹل نے 4 دہائیوں تک ملکی و غیر ملکی سیاحوں، سفارتی وفود، کارپوریٹ اداروں، سرکاری حکام، آئی این جی اوز اور این جی اوز کو خدمات فراہم کیں اور وادی سوات سمیت پورے خیبر پختونخوا میں سیاحت کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا کے سیاحتی مقامات میں داخلے کے لیے فیس مقرر، ’اگلے سال ویزا لگوا کر جانا پڑے گا‘

سرینا ہوٹلز کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ مراسلے کے مطابق سوات سرینا ہوٹل یکم جنوری 2026 سے مکمل طور پر بند ہو جائے گا۔

مراسلے میں مہمانوں، شراکت داروں اور ٹریول گائیڈز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مقامی معیشت کے استحکام اور سیاحتی سرگرمیوں کے فروغ میں ان کے اعتماد اور تعاون نے نمایاں کردار ادا کیا، جسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

سرینا ہوٹلز نے واضح کیا ہے کہ اگرچہ سوات سرینا ہوٹل کی سرگرمیاں ختم کی جا رہی ہیں، تاہم ایشیا اور افریقہ میں موجود اپنے 33 ہوٹلوں، جن میں پاکستان کے 10 ہوٹل بھی شامل ہیں، میں مہمانوں کو بدستور اعلیٰ معیار کی سہولیات فراہم کی جاتی رہیں گی۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان میں سیاحت سے 21 ارب ڈالر کی آمدنی، مزید اضافے کی توقع

سیاحتی حلقوں کے مطابق سوات سرینا ہوٹل کی بندش نہ صرف علاقے کی سیاحتی صنعت بلکہ مقامی روزگار کے لیے بھی ایک بڑا دھچکا ہے۔ ٹریول ایجنٹس اور ہوٹل انڈسٹری سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ سوات سرینا ہوٹل طویل عرصے تک وادی سوات کی پہچان رہا اور اس کی بندش سے خطے کی سیاحتی سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔

سوات سرینا ہوٹل کیوں بند ہوا؟

سرینا ہوٹل کے ایک ملازم نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سوات میں دہشت گردی اور اس کے بعد ہونے والے عسکری آپریشن کے باوجود ہوٹل فعال رہا اور مقامی و غیر مقامی سیاح یہاں آتے رہے، جس سے سیاحت کو فروغ ملا۔

ان کے مطابق گزشتہ کچھ عرصے سے انتظامیہ اور حکومت کے درمیان تعاون کے مسائل پیدا ہو گئے تھے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سیاحوں کو کلیئرنس کے نام پر تنگ کیا جاتا تھا جبکہ پولیس کی جانب سے ہوٹل انتظامیہ کو بھی بار بار مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

یہ بھی پڑھیے: ایکو ٹورازم منصوبے فطری مقامات کو جدید سیاحتی مراکز میں بدل رہے ہیں، مریم نواز

انہوں نے کہا کہ حکومتی عدم تعاون کی وجہ سے کاروبار بری طرح متاثر ہو رہا تھا، جس کے باعث انتظامیہ نے طویل غور و فکر کے بعد یہ مشکل فیصلہ کیا۔ ان کے مطابق ہوٹل کے عملے کو دیگر سرینا ہوٹلوں میں منتقل کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔

واضح رہے کہ سوات سرینا ہوٹل سیدو شریف میں سابق والیِ سوات کے محل کے قریب واقع ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مودی مخالف ویڈیوز پر میٹا انڈیا کے سربراہ کے خلاف مقدمہ درج

فیفا بحران تیز: ورلڈ کپ میں نجی سرمایہ کاری کے منصوبے پر اعلیٰ مشیر مستعفی

بلوچستان: سورینج کوئلہ کان 34 خاندانوں کے چراغ گل کرچکی، 2 مزدوروں کی تلاش جاری

پی سی بی کا نیا ورک لوڈ سسٹم فاسٹ بولرز کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا، نسیم شاہ

یوکرین جنگ کے بعد خلا میں عسکری سرگرمیوں پر عالمی خدشات بڑھ گئے

ویڈیو

پاکستان میں اچھی حکمرانی کے لیے انتظامی ری سیٹ کی ضرورت ہے تو ہو جانی چاہیے، ڈی جی آئی ایس پی آر

دہشتگردی سے متاثرہ افراد کے معاوضوں میں بڑا اضافہ، بلوچستان حکومت نے نئی مالی امدادی پالیسی نافذ کر دی

حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے پر تاریخی معاہدہ، غزہ سے اسرائیلی انخلا اور نئی فلسطینی حکومت کی راہ ہموار، صدر ڈونلڈ ٹرمپ

کالم / تجزیہ

پاکستان کویت شراکت داری کا نیا دور

نئے صوبوں کی حمایت کیوں؟

’جیسا پہلے کبھی نہ دیکھا گیا‘