نیویارک کی تاریخ میں نیا باب: ظہران ممدانی قرآن پر حلف اٹھا کر میئر بن گئے

جمعرات 1 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا کے سب سے بڑے شہر نیویارک میں ایک تاریخی لمحہ آنے والا ہے، جہاں 34 سالہ ڈیموکریٹ رہنما ظہران ممدانی قرآنِ مجید پر حلف اٹھا کر میئر کا عہدہ سنبھال لیا۔ اس طرح وہ نیویارک کے پہلے مسلمان، پہلے جنوبی ایشیائی اور پہلے افریقی نژاد میئر بن گئے ہیں، جب کہ یہ تقریب شہر کی سیاسی تاریخ میں ایک نمایاں علامتی حیثیت اختیار کر گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:نومنتخب میئر نیویارک ظہران ممدانی یکم جنوری کو عہدے کا حلف اٹھائیں گے، تیاریاں جاری

نیو یارک کے نو منتخب میئر ظہران ممدانی آدھی رات کو سٹی ہال کے نیچے واقع ایک طویل عرصے سے بند سب وے اسٹیشن میں اپنے عہدے کا حلف اٹھایا، جہاں انہوں اسلام کی مقدس کتاب قرآنِ مجید پر ہاتھ رکھ کر ذمہ داریاں سنبھالیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ نیویارک سٹی کے کسی میئر نے قرآن پر حلف لیا ہے، جب کہ ماضی میں زیادہ تر میئرز بائبل پر حلف اٹھاتے رہے ہیں، حالانکہ آئینی طور پر کسی مذہبی کتاب کا استعمال لازم نہیں۔

ظہران ممدانی کی حلف برداری نہ صرف مذہبی تنوع کی عکاس ہے بلکہ یہ نیویارک کے مسلم شہریوں کی طویل اور متحرک موجودگی کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ اس موقع پر انہوں نے قرآن کے 2 نسخے استعمال کیے، جن میں ایک ان کے دادا کا قرآن اور دوسرا ایک صدیوں پرانا مختصر نسخہ شامل ہے، جو نیویارک پبلک لائبریری کے شومبرگ سینٹر میں محفوظ ہے اور اٹھارویں یا انیسویں صدی سے تعلق رکھتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ قرآن عام لوگوں کے استعمال کے لیے تیار کیا گیا تھا، جو اس کی سادگی اور عوامی رسائی کی علامت ہے۔

ظہران ممدانی کی ذاتی شناخت بھی اسی تنوع کی نمائندہ ہے۔ وہ جنوبی ایشیائی نژاد ہیں، یوگنڈا میں پیدا ہوئے اور نیویارک میں پروان چڑھے، جب کہ ان کی اہلیہ امریکی نژاد شامی ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران ممدانی نے مہنگائی اور شہری مسائل پر توجہ مرکوز رکھی، تاہم انہوں نے اپنی مسلم شناخت کو بھی کھلے انداز میں پیش کیا اور شہر بھر کی مساجد میں جا کر جنوبی ایشیائی اور مسلم ووٹرز کو متحرک کیا۔

یہ بھی پڑھیں:نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کرائے کے گھر سے گریسی مینشن کیوں منتقل ہوں گے؟

ان کی تیزی سے ابھرتی سیاسی کامیابی کے ساتھ ساتھ اسلاموفوبک بیانات اور تنقید بھی سامنے آئی، جن میں بعض قدامت پسند حلقوں کی جانب سے قرآن پر حلف لینے کے فیصلے پر اعتراض کیا گیا۔ اس کے باوجود ممدانی نے واضح کیا کہ وہ اپنی شناخت یا عقیدے پر سمجھوتہ نہیں کریں گے اور کہا کہ وہ اپنی زندگی اور ایمان کو فخر کے ساتھ سب کے سامنے رکھیں گے۔

حلف برداری کے بعد استعمال ہونے والا تاریخی قرآن نیویارک پبلک لائبریری میں عوامی نمائش کے لیے رکھا جائے گا، جہاں منتظمین کو امید ہے کہ اس موقع سے لوگ نیویارک میں مسلم تاریخ اور ثقافت سے متعلق ذخیرے میں مزید دلچسپی لیں گے۔ یوں ظہران ممدانی کی حلف برداری نہ صرف ایک سیاسی واقعہ بلکہ نیویارک کی سماجی اور مذہبی تاریخ میں ایک علامتی سنگِ میل بننے جا رہی ہے۔

نیویارک کے پہلے مسلم میئر ظہران ممدانی کون ہیں؟

دریائے ہڈسن کے کنارے آباد امریکا کے ’کبھی نہ سونے والے‘ شہر نیویارک کی متحرک سیاست میں آج ایک نیا چہرہ ابھر کر سامنے آیا ہے، جو کلچر، انٹرٹینمنٹ اور معیشت کے اس عالمی مرکز کے نومنتخب پہلے مسلم میئر ظہران قوامے ممدانی ہیں۔

افریقہ میں پیدا ہونے والا یہ نوجوان سیاست دان نہ صرف امریکی سیاست کے روایتی سانچوں کو چیلنج کر رہا ہے بلکہ وہ اپنے نظریات اور سماجی وابستگی کے باعث ایک نئی سیاسی سوچ کی علامت بن چکا ہے، امریکا کی صد سالہ تاریخ میں ظہران ممدانی سب سے کم عمر میئر بھی ہیں۔

ابتدائی زندگی

ظہران ممدانی 18 اکتوبر 1991 کو یوگنڈا کے دارالحکومت کَمپالا میں پیدا ہوئے، ان کے والد محمود ممدانی ممتاز محقق اور کولمبیا یونیورسٹی میں استاد ہیں، جبکہ والدہ میرا نائر بھارت کی عالمی شہرت یافتہ فلم ساز ہیں، جنہوں نے ’مون سون ویڈنگ‘ ’دی ریلکٹنٹ فنڈامینٹلسٹ‘ اور ’دی نیم سیک‘ جیسی فلمیں بنائی ہیں۔

ظہران ممدانی کا خاندان جلد ہی نیویارک منتقل ہوگیا، جہاں ظہران نے بچپن کے تجربات کے ذریعے نسلی اور طبقاتی تفاوت کو قریب سے محسوس کیا۔

انہوں نے نیویارک کے برونکس ہائی اسکول آف سائنسز سے تعلیم حاصل کی اور پھر وڈوائن کالج سے ایفریکن اسٹڈیز میں بیچلر ڈگری حاصل کی، تعلیم کے دوران ہی وہ سماجی انصاف اور عوامی حقوق کی تحریکوں سے وابستہ ہوئے۔

سماجی خدمت سے سیاست تک کا سفر

سیاست میں آنے سے پہلے ظہران نے نیویارک میں رہائشی بحران کے شکار افراد کے ساتھ بطور ہاؤسنگ کونسلر کام کیا، جہاں انہوں نے گھروں سے بے دخلی کے خلاف جدوجہد کی، اسی تجربے نے انہیں عام شہریوں کی مشکلات کے قریب کیا، وہ مشکلات جنہیں اکثر روایتی سیاست دان نظرانداز کرتے ہیں۔

2020 میں ظہران ممدانی نے پہلی بار نیویارک اسٹیٹ اسمبلی کے ضلع 36 کوئینز سے الیکشن لڑا اور شاندار کامیابی حاصل کی، یوں وہ نیویارک اسمبلی کے چند انقلابی نوعیت کے نوجوان اراکین میں شامل ہو گئے جنہوں نے ’ڈیموکریٹک سوشلسٹ‘ نظریات کو عوامی سطح پر مؤثر انداز میں پیش کیا۔

سیاسی نظریات اور وژن

34 سالہ ظہران ممدانی خود کو ڈیموکریٹک سوشلسٹ قرار دیتے ہیں، ان کا ماننا ہے کہ نیویارک جیسے شہر میں دولت اور مواقع کی منصفانہ تقسیم ہی حقیقی ترقی کی بنیاد ہے۔ وہ فری پبلک ٹرانسپورٹ، خاص طور پر بسوں کو مفت کرنے، کرایہ کنٹرول اور سستی رہائش جیسے منصوبوں کے حامی ہیں۔

ان کے نزدیک شہری ترقی کا مطلب صرف بلند عمارتیں نہیں بلکہ وہ نظام ہے جو کم آمدنی والے افراد کو بھی باعزت زندگی گزارنے کا موقع دے۔ ان کا کہنا ہے کہ “اگر نیویارک واقعی دنیا کا عظیم ترین شہر ہے تو اس کا ہر شہری وہاں عزت سے رہ سکے۔”

نیو یارک کی میئرشپ کی دوڑ

2025 میں ظہران ممدانی نے ایک بڑا سیاسی قدم اٹھاتے ہوئے نیو یارک سٹی میئر کے انتخاب میں حصہ لینے کا اعلان کیا، ان کی مہم روایتی نعروں کے بجائے سماجی برابری، عوامی خدمات اور شفاف طرزِ حکمرانی کے پیغام پر مرکوز ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق، ممدانی کی مہم نوجوانوں، تارکینِ وطن اور اقلیتی برادریوں کے درمیان غیرمعمولی مقبولیت حاصل کر رہی ہے۔ وہ خود کو ’نیویارک کی اصل آواز‘ کے طور پر پیش کرتے ہیں، ایک ایسی آواز جو طاقت کے ایوانوں سے نہیں بلکہ گلیوں اور محلوں سے ابھری ہے۔

ثقافتی شناخت اور اثرات

ظہران ممدانی کی شخصیت ان کے متنوع خاندانی پس منظر سے جڑی ہے، ایک طرف ان کے والد افریقہ اور جنوبی ایشیا کے فکری مکالمے کی نمائندگی کرتے ہیں، تو دوسری جانب ان کی والدہ کا فلمی کام دنیا بھر میں انسانی کہانیوں کو اجاگر کرتا ہے۔ انہی اثرات نے ظہران کو ایک عالمی نقطہ نظر عطا کیا ہے، جہاں شناخت، نسل، مذہب اور سیاست ایک دوسرے سے جڑے دکھائی دیتے ہیں۔

تنقید اور چیلنجز

اگرچہ ان کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے، مگر ناقدین کا کہنا ہے کہ ظہران ممدانی کے نظریات امریکی سیاست کی عملی حقیقتوں سے کچھ زیادہ ہی نظریاتی ہیں، تاہم ان کے حامیوں کا اصرار ہے کہ یہی جراتِ اظہار انہیں منفرد بناتی ہے، وہ ایک ایسا سیاست دان ہے جو مفاد پرستی نہیں بلکہ اصولوں پر سیاست کرتا ہے۔

ظہران ممدانی آج امریکی سیاست میں اس نسل کی نمائندگی کرتے ہیں جو طاقت کے مراکز سے باہر پیدا ہوئی لیکن انہی مراکز کو نئی شکل دینے کا عزم رکھتی ہے۔

نیویارک جیسے کثیرالثقافتی شہر میں، جہاں دنیا بھر کے لوگ بستے ہیں، ممدانی کی کہانی دراصل ایک نئی امریکی شناخت کی داستان ہے، ایک ایسی سیاست جو انسان کو مرکز میں رکھتی ہے، طاقت کو نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بِمان بنگلہ دیش ایئرلائنز کی پاکستان کے لیے براہِ راست پروازیں کا آغاز 29 جنوری سے ہوگا

  خواتین اور بچوں کی نازیبا تصاویر، گروک کے خلاف دنیا بھر میں تحقیقات کا مطالبہ

سابق این سی پی رہنما میر ارشد الحق کی بی این پی میں شمولیت

سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ٹوکنائزیشن، وزیر خزانہ کی عالمی وفد سے ملاقات

کرکٹ بورڈ کو الٹی میٹم دینے کی بھارتی خبریں غلط اور غیر مستند ہیں، بنگلادیش

ویڈیو

کراچی میں منفرد  ڈاگ شو کا انعقاد

جعلی مقدمات قائم کرنے سے لوگ ہیرو بن جاتے ہیں، میاں داؤد ایڈووکیٹ

عمران خان نے کہا تھا کہ ’فوج میری ہے اور میں فوج کا ہوں‘، شاندانہ گلزار

کالم / تجزیہ

امریکا تیل نہیں ایران اور چین کے پیچھے وینزویلا پہنچا

وینزویلا کی’فتح‘ کے بعد، دنیا کا نقشہ کیا بنے گا؟

منو بھائی کیوں یاد آئے؟