مالی اور برکینا فاسو نے امریکا کی جانب سے ان کے شہریوں پر لگائی گئی سفری پابندیوں کے جواب میں امریکی شہریوں کے لیے سفری پابندیاں نافذ کر دی ہیں۔ ان پابندیوں کے تحت امریکا سے آنے والے افراد کو وہی پابندیاں اور شرائط درپیش ہوں گی جو امریکی حکومت نے ان کے شہریوں پر عائد کی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:یکطرفہ امریکی پابندیوں نے اقوام متحدہ کی ماہر کو مالیاتی نظام سے باہر دھکیل دیا
مالی اور برکینا فاسو کی حکومتوں نے منگل کے روز اعلان کیا کہ انہوں نے یہ اقدام ’مساوات کے اصول کے تحت‘ اٹھایا ہے۔ مالی کے وزارت خارجہ نے بیان میں کہا کہ وہ اس فیصلے پر افسوس کرتے ہیں کہ یہ بغیر کسی پیشگی مشاورت کے لیا گیا اور اس کے جواز کے طور پر دی گئی سیکیورٹی وجوہات زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتی۔
Mali and Burkina Faso announce travel restrictions on American nationals in a tit-for-tat move after US President Trump expanded a nationality-based travel ban to nearly 40 countries, including both African stateshttps://t.co/WjCF5ovBOB
— TRT World (@trtworld) December 31, 2025
یہ پابندیاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 14 دسمبر 2025 کو برکینا فاسو، مالی، نائیجر، ساؤتھ سوڈان اور شام کے شہریوں پر عائد کی گئی سفری پابندیوں کے ردعمل میں ہیں۔ ان کے علاوہ لاؤس اور سیرالیون کے لیے نئی پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں، اور فلسطینی اتھارٹی کے جاری کردہ سفری دستاویزات رکھنے والے افراد پر بھی محدود پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ اب امریکی پابندیوں کی فہرست میں 19 ممالک شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی پابندیاں، بلغاریہ نے واحد آئل ریفائنری بچانے کے لیے کوششوں شروع کر دیں
نیو یارک ٹائمز کے مطابق نائیجر، مالی اور برکینا فاسو میں حالیہ فوجی بغاوتوں کے بعد فوجی حکومتیں اقتدار میں ہیں، اور ان کے رہنما زیادہ تر امریکا سے تعلقات کم کر کے روس، چین، ترکی اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کر چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق، ساحل خطہ (نائیجر، برکینا فاسو اور مالی) دنیا میں دہشت گردی سے ہونے والی اموات کا نصف حصہ فراہم کرتا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق یہ پابندیاں قانونی مستقل رہائشی، موجودہ ویزہ ہولڈرز، سفارتکاروں یا بڑے کھیلوں کی تقریبات کے لیے سفر کرنے والے کھلاڑیوں پر لاگو نہیں ہوں گی۔














