بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس کا کہنا ہے کہ سارک کی روح آج بھی زندہ اور متحرک ہے جس کا ثبوت سابق وزیراعظم اور بی این پی کی چیئرپرسن بیگم خالدہ ضیا کی آخری رسومات میں جنوبی ایشیائی ممالک کی بھرپور شرکت سے ملتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کا ایئربس کے بجائے بوئنگ سے 14 نئے طیارے خریدنے کا فیصلہ
ڈھاکہ میں گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر محمد یونس نے کہا کہ وہ سارک کے رکن ممالک کی جانب سے بنگلہ دیش کی 3 بار منتخب ہونے والی وزیراعظم کے ساتھ اظہار یکجہتی پر دلی طور پر متاثر ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ احترام ایک ایسی رہنما کے لیے تھا جنہوں نے ملکی سیاست اور علاقائی تعاون کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔
بیگم خالدہ ضیا کی آخری رسومات میں متعدد اعلیٰ سطحی وفود نے شرکت کی جن میں پاکستان کے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر، نیپال کے وزیر خارجہ بالا نندا شرما، سری لنکا کے وزیر خارجہ وجیتھا ہیراتھ اور مالدیپ کے وزیر علی حیدر احمد شامل تھے۔
تدفین کے بعد مہمان وفود نے اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس جمنا میں پروفیسر محمد یونس سے خیرسگالی ملاقاتیں کیں جہاں انہوں نے بیگم خالدہ ضیا کی سیاسی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا اور جمہوری جدوجہد و علاقائی تعاون کے لیے ان کے کردار کو یاد کیا۔
مزید پڑھیے: بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے جنازے میں کون سی اہم شخصیات نے شرکت کی؟
پروفیسر یونس نے کہا کہ عوام کی بڑی تعداد میں شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگ سابق وزیراعظم سے گہری محبت رکھتے تھے۔
انہوں نے بار بار سارک کو فعال بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آخری رسومات کے موقعے پر دکھائی جانے والی یکجہتی اس تنظیم کی موجودہ اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔
انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ماضی میں سارک رہنماؤں کو غیر رسمی طور پر اکٹھا کرنے کی ایک کوشش کا بھی ذکر کیا اور امید ظاہر کی کہ یہ فورم ایک بار پھر خطے کے تقریباً 2 ارب عوام کے لیے مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔
ملاقاتوں کے دوران بنگلہ دیش میں آئندہ قومی انتخابات پر بھی بات چیت ہوئی۔
مزید پڑھیں: خالدہ ضیا کی نماز جنازہ ادا کردی گئی، بنگلہ دیش کی سیاست کا ایک دور ختم
پروفیسر یونس نے بتایا کہ 12 فروری کو آزاد اور شفاف انتخابات کے انعقاد کی تیاریاں جاری ہیں اور انتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد وہ اپنے سابقہ پیشہ ورانہ کردار میں واپس جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
سری لنکا اور نیپال کے وزرائے خارجہ نے بیرون ملک مقیم بنگلہ دیشیوں کے لیے متعارف کرائے گئے پوسٹل ووٹنگ سسٹم میں دلچسپی کا اظہار کیا۔
پروفیسر یونس کے مطابق تقریباً 7 لاکھ اوورسیز بنگلہ دیشی اس نظام کے تحت ووٹر کے طور پر رجسٹر ہو چکے ہیں جو پہلی بار نافذ کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر کا سابق وزیرِ اعظم بیگم خالدہ ضیاء کے انتقال پر اظہارِ افسوس
سری لنکا کے وزیر خارجہ وجیتھا ہیراتھ نے کہا کہ کولمبو بنگلہ دیش کے پوسٹل ووٹنگ کے تجربے کا بغور مشاہدہ کرے گا تاکہ اپنے انتخابی نظام میں بہتری کے لیے اس سے رہنمائی حاصل کی جا سکے۔














