جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے کروڑوں کی کمیوٹڈ پنشن حاصل کر لی

جمعہ 2 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ سے استعفیٰ دینے والے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ کو استعفے کے بعد بھاری مالی مراعات اور کمیوٹڈ پنشن کی ادائیگیاں سامنے آ گئی ہیں۔ دونوں ریٹائرڈ ججز کو کروڑوں روپے کی یکمشت کمیوٹڈ پنشن کے ساتھ ساتھ ماہانہ لاکھوں روپے پنشن کی مد میں ادا کیے جا رہے ہیں، جبکہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ججز اور ان کی بیگمات کو حاصل متعدد سرکاری سہولیات برقرار رکھی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:صدر مملکت نے سپریم کورٹ کے جسٹس منصور شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ کے استعفے منظور کرلیے

ذرائع کے مطابق جسٹس منصور علی شاہ نے استعفیٰ کے بعد 16 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد جبکہ جسٹس اطہر من اللہ نے 15 کروڑ 40 لاکھ روپے سے زائد کی کمیوٹڈ پنشن حاصل کی۔ اس کے علاوہ دونوں ریٹائرڈ ججز کو ماہانہ پنشن بھی دی جا رہی ہے، جس میں جسٹس منصور علی شاہ کو 11 لاکھ روپے سے زائد جبکہ جسٹس اطہر من اللہ کو 12 لاکھ روپے سے زائد ماہانہ پنشن مل رہی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت قانون کی جانب سے ہاؤس رینٹ ساڑھے 3 لاکھ روپے جبکہ سپیریئر جوڈیشل الاؤنس 11 لاکھ روپے سے زائد مقرر کیا گیا تھا۔ جسٹس منصور علی شاہ نے 16 سال جبکہ جسٹس اطہر من اللہ نے 11 سال سے زائد عدالتی خدمات انجام دیں۔ دونوں ججز نے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد اپنے عہدوں سے استعفیٰ دیا۔

جسٹس منصور علی شاہ

ذرائع کے مطابق دونوں ججز کو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی میڈیکل سہولیات، رہائش اور دیگر مراعات فراہم کی جا رہی ہیں، جبکہ ان کی بیگمات کو بھی مخصوص مراعات حاصل ہیں۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد اپنے استعفے صدر مملکت کو ارسال کیے تھے، جن پر صدر مملکت کے دستخط کے بعد یہ ترمیم آئین کا حصہ بن چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:جسٹس منصور اور جسٹس اطہر من اللہ کا سیاسی ایجنڈا تھا، ہمارا مؤقف درست ثابت ہوا، رانا ثنااللہ

جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے استعفے میں مؤقف اختیار کیا کہ 27ویں ترمیم کے ذریعے سپریم کورٹ اور عدلیہ کی آزادی پر کاری ضرب لگائی گئی ہے اور یہ اقدام آئین پر حملے کے مترادف ہے۔ انہوں نے لکھا کہ اس ترمیم کے نتیجے میں انصاف عام آدمی سے دور ہو گیا اور عدلیہ کو حکومت کے ماتحت کر دیا گیا ہے۔

جسٹس اطہر من اللہ

دوسری جانب جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے استعفے میں کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم نے اس آئین کو ختم کر دیا ہے جس کا انہوں نے حلف اٹھایا تھا، اور اب آئین محض ایک سایہ بن کر رہ گیا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ وہ خاموشی کے ذریعے اپنے حلف سے غداری نہیں کر سکتے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ آئینی ترمیم کے ذریعے وفاقی آئینی عدالت کے قیام کا مقصد سپریم کورٹ پر مقدمات کا بوجھ کم کرنا اور نظام انصاف کو مؤثر بنانا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وزیراعظم محمد شہباز شریف کا شبِ معراج پر قوم کے نام پیغام

نیتن یاہو نے ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران پر حملہ مؤخر کرنے کی درخواست کی، رپورٹ

پاکستان اور بھارت کی دوبارہ جنگ، ایران خانہ جنگی میں کون سے طاقتیں ملوث؟ڈونلڈ ٹرمپ کو روکنے والا کون؟

شمالی علاقوں میں 16 سے 22 جنوری کے دوران شدید برفباری کا الرٹ جاری

پنجاب پولیس کے 15 افسران کو ترقی دے دی گئی، نوٹیفکیشن جاری

ویڈیو

پاکستان اور بھارت کی دوبارہ جنگ، ایران خانہ جنگی میں کون سے طاقتیں ملوث؟ڈونلڈ ٹرمپ کو روکنے والا کون؟

محمود خان اچکزئی کی بطور اپوزیشن لیڈر تقرری کا نوٹیفکیشن جاری

‘انڈس اے آئی ویک’ پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب کی طرف ایک قدم

کالم / تجزیہ

یہ اظہارِ رائے نہیں، یہ سائبر وار ہے

دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا

’شام ڈھل جائے تو محسنؔ تم بھی گھر جایا کرو‘