بھارتی حکام سے حقوق انسانی تنظیم کا روہنگیا ماں کی رہائی کا مطالبہ

جمعہ 2 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت کی ایک انسانی حقوق کی تنظیم نے نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن (این ایچ آر سی) سے اپیل کی ہے کہ وہ ایک کم عمر روہنگیا خاتون اور ان کے 5 ماہ کے بچے کی رہائی کو یقینی بنائے جنہیں عدالتی سزا پوری ہونے کے باوجود مبینہ طور پر غیرقانونی طور پر حراست میں رکھا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش نے روہنگیا مہاجرین کو سمیں جاری کرنے کا عمل شروع کردیا

تحریری شکایت میں بنگلار مانب ادھیکار سُرکشا منچا (ماسُم) نے بتایا کہ مذکورہ خاتون، جن کی شناخت مس امینہ (عمر تقریباً 20 سال) کے طور پر کی گئی ہے، کو مغربی بنگال کے ضلع مرشد آباد میں واقع بہارام پور سینٹرل کریکشنل ہوم میں رکھا گیا ہے۔

درخواست کے مطابق امینہ، جو میانمار سے جبری بے دخلی کے بعد بنگلہ دیش پہنچی تھیں اور یو این ایچ سی آر میں رجسٹرڈ ہیں، کو مئی 2025 میں بھارت کے فارنرز ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا۔

بعد ازاں نادیہ ضلع کی ایک عدالت نے ستمبر 2025 میں انہیں 6 ماہ قید سادہ اور ایک ہزار بھارتی روپے جرمانے کی سزا سنائی جو ادا کی جاچکی ہے۔

مزید پڑھیے: ملائیشیا کے قریب روہنگیا مہاجرین کی کشتی ڈوب گئی، 7 ہلاک، سینکڑوں لاپتا

ماسُم کا کہنا ہے کہ امینہ آٹھ ماہ سے زائد عرصے سے حراست میں ہیں، جس کا مطلب ہے کہ وہ اپنی قانونی سزا سے تقریباً دو ماہ زائد قید کاٹ چکی ہیں، جبکہ ان کے ساتھ ان کی نومولود بیٹی بھی قید ہے۔ تنظیم کے مطابق یہ حراست “کسی قانونی جواز کے بغیر” ہے اور بنیادی آئینی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔

خط میں بتایا گیا ہے کہ امینہ کو انسانی اسمگلنگ کے ذریعے بنگلہ دیش-بھارت سرحد کی جانب لایا گیا اور بعد ازاں بھارت میں داخل ہونے پر دیگر افراد کے ساتھ گرفتار کر لیا گیا۔ انسانی حقوق کی تنظیم نے انہیں انسانی اسمگلنگ کا شکار اور ایک کم عمر ماں قرار دیتے ہوئے ان کی کمزور حیثیت پر بھی زور دیا۔

ماسُم نے این ایچ آر سی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کرے، فوری رہائی کو یقینی بنائے اور ذمہ دار حکام کے خلاف کارروائی کرے، جسے تنظیم نے من مانی حراست قرار دیا ہے۔

مزید پڑھیں: ترک پارلیمانی وفد کی بنگلہ دیش کے خارجہ مشیر سے ملاقات، روہنگیا کیمپوں کا دورہ

بھارتی حکام کی جانب سے تاحال ان الزامات پر کوئی عوامی ردِعمل سامنے نہیں آیا، تاہم نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کی جانب سے درخواست کا جائزہ لیے جانے کی توقع ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

دفتر خارجہ میں قونصلر خدمات کے لیے شام کی شفٹ کا آغاز، اوقات کار رات 8 بجے تک بڑھا دیے گئے

اسٹیٹ بینک کا شرح سود 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ، کاروبار اور معیشت کو کیا فائدہ ہوگا؟

پیٹرولیم کی قیمتوں میں ردوبدل، پیٹرول ایک روپے سستا اور ڈیزل 3.37 روپے مہنگا

ایران سے بات چیت جاری ہے، ناکامی کی صورت میں سخت حملہ کردیں گے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

ڈی ڈبلیو کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر دستاویزی فلم: صحافت یا پروپیگنڈا؟

ویڈیو

ڈی ڈبلیو کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر دستاویزی فلم: صحافت یا پروپیگنڈا؟

طالبان مخالف مزاحمت نئے مرحلے میں داخل، مسلح جدوجہد مقامی کارروائیوں سے منظم بغاوت کی جانب گامزن

کراچی کی منور چورنگی پر اب ٹریفک جام نہیں ہوگا، انڈر پاس عوام کے لیے کھول دیا گیا

کالم / تجزیہ

فخر درانی۔ ایک دلیر صحافی

دریاؤں کا مقدمہ اور معرکۂ حق

دو ہم سفر دو ہم عصر: منیر نیازی اور محمد سلیم الرحمان