ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے سینیئر مشیر علی شمخانی نے ایران کی قومی سلامتی سے متعلق سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی عوام امریکا کے نام نہاد ’ریسکیو‘ تجربات سے بخوبی واقف ہیں، چاہے وہ عراق ہو، افغانستان ہو یا غزہ۔
ایکس پر انہوں نے لکھا کہ کسی بھی بہانے سے ایران کی سلامتی کے قریب آنے والا ہر مداخلتی ہاتھ پہنچنے سے پہلے ہی کاٹ دیا جائے گا اور اس کا ایسا جواب دیا جائے گا جس پر پچھتاوا ہوگا۔ علی شمخانی نے واضح کیا کہ ایران کی قومی سلامتی ایک سرخ لکیر ہے، یہ کسی مہم جو ٹوئٹس کا میدان نہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ایران میں پرامن مظاہرین پر تشدد ہوا تو امریکا مداخلت کرے گا، صدر ڈونلڈ ٹرمپ
ادھر ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے بھی سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی حکام اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کے بعد اب پردے کے پیچھے ہونے والی سرگرمیاں واضح ہو چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران احتجاج کرنے والے دکانداروں کے مؤقف اور تخریبی عناصر کی کارروائیوں میں فرق کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی عوام کو بھی یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اس مہم جوئی کا آغاز ٹرمپ نے کیا اور انہیں اپنے فوجیوں کی سلامتی کے بارے میں ہوشیار رہنا چاہیے۔
علی لاریجانی نے خبردار کیا کہ ٹرمپ کو یہ جان لینا چاہیے کہ امریکا کی جانب سے ایران کے داخلی معاملات میں کسی بھی قسم کی مداخلت پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کر دے گی اور امریکا کے مفادات کو شدید نقصان پہنچے گا۔
مزید پڑھیے: ایران، البرز صوبے میں بم بنانے والے گروہ کے 14 ارکان گرفتار
واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر ایران میں پرامن مظاہرین پر فائرنگ کی گئی یا انہیں تشدد کے ذریعے قتل کیا گیا تو امریکا مداخلت کرے گا۔
صدر ٹرمپ نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک بیان میں کہا کہ ہم پوری طرح الرٹ ہیں، اور کارروائی کے لیے تیار ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران میں گزشتہ 3 برس کی سب سے بڑی عوامی احتجاجی تحریک کے دوران مختلف صوبوں میں جھڑپوں کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
یہ مظاہرے کرنسی کی گراوٹ اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف شروع ہوئے تھے، جو ابتدا میں دکانداروں کے احتجاج سے جنم لے کر پورے ملک میں پھیل گئے۔














