ایران کے البورز صوبے کے پولیس کمانڈر نے اعلان کیا ہے کہ 14 تربیت یافتہ اور منظم دہشت گردوں کو گرفتار اور حراست میں لے لیا گیا ہے۔
بریگیڈیئر جنرل حمید ہداوند کے مطابق یہ افراد ایک ورکشاپ میں بم اور مولوتوف کاکٹیل تیار کر رہے تھے جب پولیس نے انہیں پکڑا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے کی مزید تحقیقات جلد عوام کے سامنے پیش کی جائیں گی۔
ایران میں مظاہرے
یاد رہے کہ ایران میں مہنگائی کے خلاف پر تشدد مظاہرے جاری ہیں۔ ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق، لورستان صوبے کے شہر آزنا میں 3 افراد ہلاک اور 17 دیگر زخمی ہو گئے۔ شہر کی گلیوں میں آگ لگنے اور فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں جبکہ مظاہرین نے ’شرمناک! شرمناک!‘ کے نعرے لگائے۔

اس سے پہلے، فارس نے رپورٹ کیا کہ لاوردگان شہر میں 2 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ کوہِ دشت شہر میں ایک 21 سالہ بسیج رکن مظاہروں کے دوران ہلاک ہوا۔
یہ بھی پڑھیں:ایران میں مہنگائی کے خلاف مظاہروں میں 6 ہلاک، صدر نے طلبا اور تاجروں کے جائز مطالبات تسلیم کرلیے
صدر مسعود پزیشکیان نے مظاہرین کے ’جائز مطالبات‘ تسلیم کیے اور حکومت سے کہا کہ وہ اقتصادی صورتحال بہتر کرنے کے لیے فوری اقدامات کرے۔ حکومتی ترجمان فاطمہ محجریانی نے کہا کہ تاجروں اور یونینز کے نمائندوں کے ساتھ براہ راست بات چیت کی جائے گی، مگر تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔












