پاکستان کے ڈپٹی وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا جس میں خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسحاق ڈار اور شہزادہ فہد بن سلطان کا رابطہ، پاک سعودی تعلقات مضبوط بنانے پر اتفاق
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق جمعے کو ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو کے دوران اسحاق ڈار نے زور دیا کہ خطے میں موجود تمام فریقین کو کسی بھی قسم کے اشتعال انگیز اقدامات سے گریز کرنا چاہیے اور مسائل کے حل کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کا راستہ اپنانا چاہیے تاکہ علاقائی امن اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
قبل ازیں پاکستان نے یمن کی صورتحال کے حل کے لیے بات چیت اور سفارتی ذرائع کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا تھا۔
وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے ایک بیان میں امید ظاہر کی کہ مملکت سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے کیے گئے مثبت اقدامات یمن کے مسئلے کے پرامن حل میں معاون ثابت ہوں گے۔
مزید پڑھیے: اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کی اسحاق ڈارسے ملاقات، کثیرالجہتی سفارتکاری مزید مؤثر بنانے پر زور
انہوں نے کہا کہ پاکستان یمن کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی قیادت کی دانشمندی اور دوراندیشی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ ان کے مطابق ایسے اقدامات دونوں برادر ممالک کی جانب سے خطے میں امن اور استحکام کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔
ترجمان نے یمن کی وحدت اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا بھی اعادہ کیا۔
Deputy Prime Minister / Foreign Minister, Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 spoke tonight to Saudi Foreign Minister HH Prince Faisal bin Farhan @FaisalbinFarhan.
Both leaders discussed the latest situation in the region.
DPM/FM stressed that all concerned in the region… pic.twitter.com/WGKpZj9Voc
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) January 2, 2026
یاد رہے کہ منگل کے روز متحدہ عرب امارات نے یمن سے اپنے باقی ماندہ انسدادِ دہشت گردی دستوں کی واپسی کا اعلان کیا تھا، جس کے بارے میں کہا گیا کہ یہ فیصلہ زمینی صورتحال میں حالیہ پیشرفت کے جائزے کے بعد کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیںں: ’تائیوان چین کا اٹوٹ انگ ہے‘، اسحاق ڈار سے چینی سفیر کی ملاقات، باہمی تعلقات پر تبادلہ خیال
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب سعودی عرب نے یمن میں متحدہ عرب امارات کے بعض اقدامات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ ان اقدامات سے سعودی قومی سلامتی، یمن کے استحکام اور خطے کے مجموعی امن کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔











