سپریم کورٹ کے مستعفی ججز کو پینشن کی مد میں بھاری رقم ملنے پر خواجہ آصف بول پڑے

ہفتہ 3 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیر دفاع و سینیئر رہنما مسلم لیگ ن خواجہ آصف نے کہا ہے کہ وفاقی سیکریٹری کی 35 سالہ خدمات کے بعد انہیں عام طور پر 6 سے 7 ملین روپے گریجویٹی ملتی ہے، جبکہ حالیہ چند ججز جنہوں نے استعفیٰ دیا، ریٹائر نہیں ہوئے، 156 سے 161 ملین روپے کے فوائد لے کر گھر چلے گئے۔

مزید پڑھیں: چیف جسٹس کی پینشن میں 15 سالوں میں 400 فیصد سے زائد اضافہ، ریٹائرڈ ججز کی مراعات پر سوالات

سماجی رابطے کی سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ اگر کوئی سیکریٹری استعفیٰ دیتا ہے تو اسے ریٹائرمنٹ فوائد نہیں ملتے، جو ناانصافی ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ یہ ججز ریٹائرمنٹ کے معیار کے مطابق مراعات کے اہل نہیں تھے، لیکن اس کے باوجود انہیں بھاری ادائیگیاں موصول ہوئیں۔

انہوں نے کہاکہ ایک جج 1980 کی دہائی میں سی ایس ایس امتحان میں فیل ہو گیا تھا، پھر بھی انہیں یہ فوائد دیے گئے۔ خواجہ آصف نے زور دیا کہ ججز کی ادائیگیوں میں شفافیت اور انصاف ہونا چاہیے۔

انہوں نے پارلیمنٹیرینز کی تنخواہوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ایک ممبر پارلیمنٹ چاہے 40 سال خدمات دے، انہیں نہ کوئی پلاٹ، نہ پینشن، نہ گاڑی یا اسٹاف ملتا ہے، بلکہ صرف ماہانہ تنخواہ دی جاتی ہے جو حالیہ مہینوں میں ساڑھے 4 لاکھ روپے تک پہنچ گئی ہے، جبکہ پہلے یہ پونے 2 لاکھ روپے تھی۔

خواجہ آصف نے کہاکہ ججز کے بھاری فوائد اور پارلیمنٹیرینز کی محدود مراعات میں فرق نہ صرف شفافیت کے اصول کے خلاف ہے بلکہ انصاف کے تقاضوں سے بھی مطابقت نہیں رکھتا۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ ججز کی مراعات: ہاؤس رینٹ، جوڈیشل الاؤنس میں کتنے سو فیصد اضافہ؟

واضح رہے کہ حال ہی میں 27ویں آئینی ترمیم سے اختلافات کرتے ہوئے مستعفی ہونے والے ججز جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس منصور علی شاہ کو پینشن کی مد میں ملنے والی مراعات کی تفصیل سامنے آئی ہے، جس پر تبصرے کیے جا رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

نیپال میں تباہی کا انتباہ 5 ماہ قبل کیا گیا، ہمالیائی گلیشیئرز تیزی سے پگھلنے کا انکشاف

وزن نارمل ہونے کے باوجود دل کو خطرہ، کمر کا گھیر اہم علامت قرار

’ہمیں مدد کی ضرورت نہیں‘ سے ’غیرملکی مدد قبول‘، نیپال کا سیلاب پر مؤقف بدل گیا

چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا پاکستان آرڈیننس فیکٹری کا دورہ، دفاعی پیداوار اور خود انحصاری پر بریفنگ

بھارت سندھ طاس معاہدے سے یکطرفہ طور پر نہیں نکل سکتا، پاکستانی سفیر کا بھارتی سفیر کو کرارا جواب

ویڈیو

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں