وزیر دفاع و سینیئر رہنما مسلم لیگ ن خواجہ آصف نے کہا ہے کہ وفاقی سیکریٹری کی 35 سالہ خدمات کے بعد انہیں عام طور پر 6 سے 7 ملین روپے گریجویٹی ملتی ہے، جبکہ حالیہ چند ججز جنہوں نے استعفیٰ دیا، ریٹائر نہیں ہوئے، 156 سے 161 ملین روپے کے فوائد لے کر گھر چلے گئے۔
مزید پڑھیں: چیف جسٹس کی پینشن میں 15 سالوں میں 400 فیصد سے زائد اضافہ، ریٹائرڈ ججز کی مراعات پر سوالات
سماجی رابطے کی سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ اگر کوئی سیکریٹری استعفیٰ دیتا ہے تو اسے ریٹائرمنٹ فوائد نہیں ملتے، جو ناانصافی ہے۔
35 سال کی سروس کے بعد ایک وفاقی سیکرٹری کو 6-7 ملین روپے کی گریجویٹی ملتی ہے۔ ا جج جنہوں نے استعفیٰ دیا (ریٹائرڈ نہیں ہوا!) ہر ایک 161-156 ملین روپے لے کر چلے گئے! 🤯 اگر کوئی سیکرٹری استعفیٰ دیتا ہے تو انہیں صفر ملتا ہے۔ کیا یہ ناانصافی نہیں ہے؟ یہ جج ریٹائرمنٹ کے فوائد کے لیے…
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) January 3, 2026
انہوں نے مزید کہاکہ یہ ججز ریٹائرمنٹ کے معیار کے مطابق مراعات کے اہل نہیں تھے، لیکن اس کے باوجود انہیں بھاری ادائیگیاں موصول ہوئیں۔
انہوں نے کہاکہ ایک جج 1980 کی دہائی میں سی ایس ایس امتحان میں فیل ہو گیا تھا، پھر بھی انہیں یہ فوائد دیے گئے۔ خواجہ آصف نے زور دیا کہ ججز کی ادائیگیوں میں شفافیت اور انصاف ہونا چاہیے۔
انہوں نے پارلیمنٹیرینز کی تنخواہوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ایک ممبر پارلیمنٹ چاہے 40 سال خدمات دے، انہیں نہ کوئی پلاٹ، نہ پینشن، نہ گاڑی یا اسٹاف ملتا ہے، بلکہ صرف ماہانہ تنخواہ دی جاتی ہے جو حالیہ مہینوں میں ساڑھے 4 لاکھ روپے تک پہنچ گئی ہے، جبکہ پہلے یہ پونے 2 لاکھ روپے تھی۔
خواجہ آصف نے کہاکہ ججز کے بھاری فوائد اور پارلیمنٹیرینز کی محدود مراعات میں فرق نہ صرف شفافیت کے اصول کے خلاف ہے بلکہ انصاف کے تقاضوں سے بھی مطابقت نہیں رکھتا۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ ججز کی مراعات: ہاؤس رینٹ، جوڈیشل الاؤنس میں کتنے سو فیصد اضافہ؟
واضح رہے کہ حال ہی میں 27ویں آئینی ترمیم سے اختلافات کرتے ہوئے مستعفی ہونے والے ججز جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس منصور علی شاہ کو پینشن کی مد میں ملنے والی مراعات کی تفصیل سامنے آئی ہے، جس پر تبصرے کیے جا رہے ہیں۔














