افریقہ سے یورپ جانے کی کوشش میں ایک اور المناک حادثہ پیش آیا ہے، جہاں گیمبیا کے ساحل کے قریب دو سو سے زائد تارکینِ وطن کو لے جانے والی کشتی الٹ گئی۔ حادثے کے بعد بڑے پیمانے پر سرچ اور ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا ہے، جبکہ درجنوں افراد تاحال لاپتا ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق گیمبیا کے صدر اداما بیرو نے بتایا ہے کہ نئے سال کی شب شمال مغربی گیمبیا کے نارتھ بینک ریجن میں کشتی الٹنے کے واقعے میں اب تک 102 افراد کو زندہ بچا لیا گیا ہے، جبکہ 7 لاشیں نکال لی گئی ہیں۔ حادثے کے بعد درجنوں افراد لاپتہ ہیں، جن کی تلاش جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں:لیبیا میں 65 مسافروں سے بھری کشتی الٹ گئی، پاکستانی بھی سوار تھے، ترجمان دفتر خارجہ
صدر بیرو نے سرکاری نشری خطاب میں کہا کہ واقعہ بدھ کے روز جنیک نامی گاؤں کے قریب پیش آیا، جہاں ایمرجنسی سروسز کے ساتھ مقامی ماہی گیر اور رضاکار بھی ریسکیو کارروائی میں حصہ لے رہے ہیں۔
حکام کے مطابق کشتی میں سوار افراد یورپ پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے۔ افریقہ کے ہزاروں نوجوان بہتر مستقبل کی امید میں بحرِ اوقیانوس کے خطرناک راستے سے اسپین کے کینری جزائر کا رخ کرتے ہیں، جو دنیا کے مہلک ترین تارکینِ وطن راستوں میں شمار ہوتا ہے۔

ماضی میں بھی ایسے کئی حادثات پیش آ چکے ہیں۔ اگست 2025 میں گیمبیا سے روانہ ہونے والی ایک کشتی موریتانیہ کے ساحل کے قریب الٹ گئی تھی، جس میں تقریباً 150 افراد ہلاک یا لاپتا ہو گئے تھے، جبکہ جولائی 2024 میں ایک اور حادثے میں درجنوں جانیں ضائع ہوئیں۔
گیمبیا کی وزارتِ دفاع کے مطابق حالیہ حادثے میں کشتی ریت کے ٹیلے میں پھنس گئی تھی، تاہم حادثے کی اصل وجہ تاحال واضح نہیں ہو سکی۔ صدر بیرو نے بتایا کہ قومی ایمرجنسی ریسپانس پلان فعال کر دیا گیا ہے اور متاثرین کی مدد کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:وہیل کی زور دار ٹکر سے کشتی الٹ گئی، ایک شخص ہلاک
انہوں نے کہا کہ بعض زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی مکمل تحقیقات کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ صدر بیرو کے مطابق یہ سانحہ غیر قانونی ہجرت کے جان لیوا خطرات کی ایک تلخ یاد دہانی ہے، اور حکومت ایسے مواقع پیدا کرنے کے لیے پرعزم ہے تاکہ نوجوانوں کو محفوظ اور باعزت مستقبل میسر آ سکے۔












